وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

انڈونیشیا کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کا  پریس بیان

प्रविष्टि तिथि: 07 JUL 2026 12:37PM by PIB Delhi

عالی مرتبت، صدر پربووو،

دونوں ممالک کے مندوبین ،

میڈیا کے ساتھیو،

نمسکار!

سلامت سیانگ!

سب سے پہلے، میں اس پُرتپاک اور گرمجوشی سے استقبال کے لیے اپنے دوست صدر پربووو کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

گزشتہ سال بھارت کے یومِ جمہوریہ پر بحیثیت مہمانِ خصوصی ہمیں ان کا استقبال کرنے کا موقع ملا تھا۔ اور آج، ان کی محبت بھری دعوت پر انڈونیشیا کا دورہ کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

آج صبح مجھے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز کروڑوں بھارتی باشندوں کا ہے، انڈونیشیا کے عوام کے جذبات کا ہے، اور بھارت و انڈونیشیا کے تاریخی و دلی تعلقات کا آئینہ دار ہے۔ میں صدر پربووو جی، انڈونیشیا کی حکومت اور یہاں کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیو،

گزشتہ برسوں میں بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات میں ایک نئی توانائی، ایک نیا اعتماد اور ایک نئی گہرائی آئی ہے۔

2018 میں قائم ہونے والی ہماری پالیسی پر مبنی جامع شراکت داری آج ایک نئی اڑان بھر رہی ہے۔ ہم ترقی، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی، ثقافت اور تعلیم، غرض ہر شعبے میں اہم اقدامات کر رہے ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ آج سے بھارت-انڈونیشیا شراکت داری کے ایک سنہرے باب کا آغاز ہوگا۔ اور اس سنہرے باب کے انتہائی مثبت اثرات اکیسویں صدی کی دنیا اور پوری انسانیت پر مرتب ہوں گے۔

ساتھیو،

ہمارے ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد ہمارے دفاع، سلامتی اور بحری تعاون کو مضبوط کر رہا ہے۔ آج ہم نے ڈیفنس ایکسچینج، آفات سے نمٹنے کے انتظام اور صنعتی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اب دونوں ممالک کے کوسٹ گارڈز بحرِ ہند میں بحری تحفظ اور سیکیورٹی کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دو قریبی بحری پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے، ہم نے بحری معیشت، بندرگاہوں کی ترقی اور بحری تجارت میں بھی آپسی تعاون کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ساتھیو،

بھارت اور انڈونیشیا کے لیے غریبی کو شکست دینا اور اپنے شہریوں تک فلاحی اسکیموں کا فائدہ پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ ہم نے انڈونیشیا کے ساتھ اپنی ’مڈ ڈے میل‘اسکیم اور سرکاری نظام تقسیم  کے طریقہ کار شیئر کیے ہیں۔ اب ہم اس تعاون کو اگلے مرحلے  پر لے جا رہے ہیں۔

ہمارا طبی تعاون ، دونوں ممالک میں معیاری صحت کی خدمات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آج ہونے والے معاہدے سے بھارت کی اعلیٰ معیار اور سستی دوائیں انڈونیشیا کے شہریوں کو مزید آسانی سے دستیاب ہوں گی۔

ہم انڈونیشیا کے ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کی استعداد کار بڑھانے  میں بھی اپنا تعاون دیں گے۔ بھارت میں تیار کیے گئے گندم کے بیجوں کی سپلائی سے انڈونیشیا کی غذائی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ پائیدار کاشتکاری اور زرعی  ٹیکنالوجی میں بہترین طریقوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔

ساتھیو،

اکیسویں صدی ٹیکنالوجی سے چلنے والی صدی ہے۔ بھارت اور انڈونیشیا، دونوں ہی نوجوان توانائی سے بھرپور ممالک ہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کی طرف قدرتی رجحان  پایا جاتا ہے۔

ہم نے اپنے نوجوانوں کے درمیان اے آئی ، ٹیلی کام اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے تعاون کو بڑھانے کے لیے آج ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپس  کے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔

ہم انڈونیشیا میں بھارت کے معتبر مینجمنٹ ادارے، آئی آئی ایم بنگلورو  کا کیمپس کھولنے جا رہے ہیں۔ اس سے پورے آسیان  خطے کے نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔

خلائی شعبے میں بھی ہمارے درمیان دہائیوں پرانا اور قابلِ اعتماد تعاون رہا ہے۔ اسے آگے بڑھاتے ہوئے آج اسپیس سیکٹر میں مشترکہ تحقیق ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ساتھیو،

آج کے دور میں، ٹیکنالوجی کی ’’سپلائی چین کی لچک‘‘بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اہم معدنیات اور اسٹیل کے شعبے میں سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم معاہدہ ہوا ہے۔ ہماری کمپنیوں کے درمیان اسٹین- لیس اسٹیل اور نایاب زمینی مقناطیس  کو لے کر شراکت داری کی ایک نئی شروعات ہو رہی ہے۔

ساتھیو،

عوام کا عوام سے رابطہ ہمارے تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمیں بے حد خوشی ہے کہ بھارت کا یو پی آئی انڈونیشیا کے پیمنٹ سسٹم کے ساتھ جڑنے جا رہا ہے۔ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی  اور سفر کرنے میں آسانی، دونوں کو ہی تقویت ملے گی۔

ساتھیو،

کل، صدر پربووو کے ساتھ مجھے یوگیاکارتا میں ’پرمبانن مندر‘ کے تحفظ و بحالی کے منصوبے  کا آغاز کرنے کا شرف حاصل ہوگا۔ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا پرمبانن مندر بھارت اور انڈونیشیا کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔

ہم دونوں ممالک گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کے تاریخی دورہِ انڈونیشیا کی صد سالہ تقریب بھی دھوم دھام سے منائیں گے۔ انڈونیشیا کے ترقیاتی سفر میں یہاں کے عظیم ماہرِ تعلیم اور پہلے وزیرِ تعلیم ’دیوانترا جی‘ کا نمایاں کردار رہا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے ان کے نظریات پر گرو دیو ٹیگور کی سوچ کا گہرا اثر تھا۔ اسی لیے بھارت اور انڈونیشیا اس صد سالہ سال کو ’’ٹیگور اور دیوانترا ثقافتی و تعلیمی سفارت کاری کا سال‘‘ کے طور پر منائیں گے۔

ساتھیو،

جمہوری اقدار اور کثرت میں وحدت ، بھارت اور انڈونیشیا کی مشترکہ طاقت رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے الیکشن کمیشنز کے درمیان ہونے والے معاہدے (ایم او یو) سے ہم اپنے جمہوری تعاون کو مزید مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔

ساتھیو،

عالمی مسائل پر بھی بھارت اور انڈونیشیا کا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بحرِ ہند و بحرِ الکاہل کے خطے کے حوالے سے ہمارے نقطہِ نظر میں گہرا تال میل  ہے۔ بھارت نے ہمیشہ ’’آسیان کی مرکزیت‘‘کو خاص اہمیت دی ہے۔

عالمی اتھل پتھل کے اس دور میں بھارت کا یہ ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری  کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ فلسطین کے معاملے پر، ہم دو ملکی حل اور طویل مدتی امن کی حمایت کرتے ہیں۔

ساتھیو،

ایک سنہرا دور ہم دونوں ممالک کے سامنے دستک دے رہا ہے۔

ہماری تاریخ میں مشترکہ ثقافت ہے،

ہمارے حال میں مشترکہ اعتماد ہے،

اور ہمارے مستقبل میں مشترکہ خوشحالی ہے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ہم مل کر انڈونیشیا ’’ایماس‘‘ (انڈونیشیا کا سنہرا وژن) اور  وِکست بھارت کے عزم کو حقیقت کا روپ دیں گے۔

بہت بہت شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔   ع ح۔ع ن)

U. No. 9641


(रिलीज़ आईडी: 2281924) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Manipuri , Gujarati , Odia , Telugu , Kannada , Malayalam