ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

میزورم کے نیچرل ہسٹری میوزیم کو بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ایکٹ، 2002 کے تحت بھارت کا 21 واں ’نامزد ذخیرہ گاہ‘قرار دے دیا گیا ہے


اس فیصلے سے ہند- برما کےدرمیان حیاتیاتی تنوع کے حساس ترین خطے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور سائنسی دستاویزات کی تیاری کو مزید تقویت ملے گی

प्रविष्टि तिथि: 07 JUL 2026 10:46AM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے آئیزول میں میزورم یونیورسٹی کے ’نیچرل ہسٹری میوزیم‘(این ایچ ایم) کو بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ایکٹ، 2002 کی دفعہ 39 کے تحت ایک ’نامزد ذخیرہ گاہ‘قرار دیا ہے۔ نیشنل بائیوڈائیورسٹی اتھارٹی کی سفارش پر اور اس تجویز کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد، مرکزی حکومت نے 19 جون 2026 کو اس ادارے کو نامزد ذخیرہ گاہ کے طور پر نوٹیفائی   کیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی، این ایچ ایم بھارت کی 21 ویں نامزد ذخیرہ گاہ بن گیا ہے، جس سے ملک کے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور سائنسی ڈھانچے کو مزید مضبوطی ملے گی۔

نامزد ذخیرہ گاہیں بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ایکٹ، 2002 کے تحت حاصل کیے گئے تصدیق شدہ حیاتیاتی نمونوں کو محفوظ رکھ کر بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے انتظامی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) چنندہ پودوں اور جڑی بوٹیوں کے علاوہ جانوروں جیسے کہ رینگنے والے جانداروں ، پانی اور خشکی دونوں پر رہنے والے جانداروں ، مچھلیوں، پروانوں ، بھنوروں اور تتلیوں کے نمونوں کو محفوظ رکھے گا۔ یہ اس خطے سے دریافت ہونے والی نئی انواع  کے اصل نمونوں  کے لیے بھی نامزد ذخیرہ گاہ کے طور پر کام کرے گا۔ یہ تصدیق شدہ ذخائر طویل مدتی تحفظ کے لیے بھارت کے حیاتیاتی وسائل کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ جانداروں کی پہچان، سراغ رسانی اور سائنسی تحقیق کو مضبوط کریں گے۔ مزید برآں، قدرتی رہائش گاہوں کے نقصان، قدرتی آفات یا کسی نسل کے خاتمے کی صورت میں، یہ ذخائر مستقبل میں ماحولیاتی نظام کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی مرکزی یونیورسٹی 'میزورم یونیورسٹی' کی زیرِ نگرانی 2022 میں قائم ہونے والا یہ نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم)، ہند- برما کےحا تا تی تنوع کے حساس ترین خطے میں واقع ہونے اور جانداروں کی درجہ بندی میں اپنی خاص مہارت کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ میزورم اور وسیع تر شمال مشرقی خطہ پھول دار پودوں کی 7,500 سے زائد اقسام اور جانوروں کی 2,000 سے زیادہ اقسام کا مسکن ہے۔ پودوں، فنگس، پروانوں، بھنوروں اور دیگر ایسے جانداروں کے بارے میں جن پر کم تحقیق ہوئی ہے، میوزیم کی مہارت بھارت کے نامزد ذخیرہ گاہوں کے نیٹ ورک میں ایک اہم کمی کو پورا کرتی ہے اور اس خطے کے بھرپور حیاتیاتی تنوع کی سائنسی دستاویزات کی تیاری کو مضبوط بناتی ہے۔

 

یہ ذخیرہ گاہ اس خطے کی منفرد اور مقامی اقسام کے تحفظ اور ان کی دستاویزات تیار کرنے میں بھی مدد کرے گی، جس میں حال ہی میں میزورم کے جنگلات میں دریافت ہونے والا مینڈک ’لیپٹوبراچیلا تامڈل‘ بھی شامل ہے۔ یہ دریافت بائیوڈائیورسٹی اور نئی اقسام کی تلاش کے مرکز کے طور پر شمال مشرقی خطے کی عالمی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

نامزد ذخیرہ گاہ کا درجہ ملنے سے پہلے ہی، نیچرل ہسٹری میوزیم  نے ہرباریم شیٹس (خشک پودوں کے ریکارڈ) اور مائع میں محفوظ کیے گئے نمونوں سمیت 500 سے زائد حیاتیاتی نمونے جمع اور محفوظ کر کے اپنی سائنسی تیاری کا ثبوت دے دیا تھا۔ اس کی مختلف شعبوں پر مشتمل سائنسی ٹیم میں میزورم یونیورسٹی کے ماہرین شامل ہیں، جو پودوں اور فنگس سے لے کر مچھلیوں، پروانوں اور تتلیوں تک، جانداروں کی درجہ بندی کے سات مخصوص گروپوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

یہ نامزدگی حیاتیاتی نمونوں کو ان کے اصل ماخذ کے قریب محفوظ رکھنے کی سہولت فراہم کر کے، سائنسی دستاویزات کی تیاری کو بہتر بنا کر، نقل و حمل کے چیلنجوں کو کم کر کے، اور میزورم اسٹیٹ بائیوڈائیورسٹی بورڈ اور علاقائی تحقیقی اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کو آسان بنا کر بھارت کے نامزد ذخیرہ گاہوں کے قومی نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

بوٹینیکل سروے آف انڈیا، زولوجیکل سروے آف انڈیا اور دیگر نوٹیفائیڈ اداروں کی موجودہ ذخیرہ گاہوں کے ساتھ مل کر، یہ نامزدگی ’کونمنگ-مونٹریال گلوبل بائیوڈائیورسٹی فریم ورک‘ کے ہدف 4 کے عین مطابق،مخلوق کو ان کے اصل ماحول سے دور محفوظ رکھنا اور جینیاتی تنوع کے تحفظ کو مضبوط بنا کر بھارت کی ’قومی حیاتیاتی تنوع حکمت عملی اور ایکشن پلان (2024-2030)‘ کے’قومی بائیوڈائیورسٹی ہدف 4‘ کو آگے بڑھاتی ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔   ع ح۔ع ن)

U. No. 9640


(रिलीज़ आईडी: 2281885) आगंतुक पटल : 20
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil