کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ٹیکنالوجی سے لیس دو لسانی منیجمنٹ کی تعلیم ،دیہی اور شہری تفریق کو ختم کر کے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسیع کر سکتی ہے: تجارت اور صنعت کےمرکزی وزیر جناب پیوش گوئل
وزیرِ موصوف نے پروگرام کے لیے چار تجاویز پیش کیں، جن میں باقاعدہ فزیکل میل جول، سافٹ اسکلز کا فروغ، سیکھنے کا تجرباتی عمل اور عالمی بہترین طورطریقوں کو اپنانا شامل ہے
جناب گوئل نے طلبہ کو عملی انتظامی تجربہ فراہم کرنے کے لیے کارخانوں، بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کو جاکر دیکھنےپر زور دیا
نئے آزاد تجارتی معاہدے مینوفیکچرنگ کو فروغ دے رہے ہیں اور جدت طرازی کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے بھارت کے نوجوانوں کے لیے عالمی مواقع پیدا ہو رہے ہیں: جناب پیوش گوئل
प्रविष्टि तिथि:
06 JUL 2026 4:40PM by PIB Delhi
تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج کہا ہے کہ ٹیکنالوجی سے لیس، دو لسانی انتظامی تعلیم دیہی اور شہری تفریق کو ختم کرنے اور باصلاحیت و ضرورت مند طلبہ کو ان کے حالات سے قطع نظر معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ نئی دہلی سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) اودے پور میں شروع کیے گئے ایک نئے کورس کی افتتاحی تقریب سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے وزیرِ موصوف نے کہا کہ آن لائن دو لسانی بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے) پروگرام ایک منفرد اقدام ہے، جو سادہ اور آسان زبان میں مینجمنٹ کی تعلیم فراہم کر کے دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ ہندی اور انگریزی پر مشتمل اس دو لسانی پروگرام کی نوعیت آئی آئی ایم کی تعلیم کی ساکھ اور معیار کو عوام کے ایک وسیع تر طبقے تک پہنچانے میں مدد کرے گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ انڈر گریجویٹ پروگرام بھارت اور بھارتی صنعت کی خدمت کرے گا اور ایک کامیاب پیش رفت کے طور پر ابھرے گا۔
وزیرِ موصوف نے بتایا کہ بھارت میں تقریباً 100 کروڑ انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں اور انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کے عین مطابق، بڑے پیمانے پر معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن سیکھنے کے عمل کو ملک بھر میں وسعت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن تعلیم تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
وزیرِ موصوف نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یہ پروگرام بھیلواڑہ کی ایک چھوٹی سی دکان سے لے کر بستر میں رہنے والے لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، کہا کہ "اب آئی آئی ایم کے کلاس رومز اسکرین پر نظر آئیں گے۔" انہوں نے کہا کہ اس پروگرام تک اسکرین، لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، اور اسی لیے یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ پروگرام آن لائن فراہم کیا جائے گا، لیکن امتحانات آف لائن منعقد ہوں گے تاکہ جوابدہی اور شفافیت میں کوئی کمی نہ رہے۔
جناب گوئل نے اس پروگرام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چار تجاویز پیش کیں۔ اپنی پہلی تجویز کے طور پر انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، اس ہائبرڈ ماڈل میں اساتذہ کے ماہانہ دورے شامل ہونے چاہئیں اور طلبہ کو مختلف مقامات پر ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ منیجمنٹ کی تعلیم صرف اسکول، کالج یا کلاس روم تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں طلبہ کے آپسی میل جول اور تعلقات بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف مقامات پر ایسے اجتماعات کا انعقاد اور انہیں ہائبرڈ ماڈل میں شامل کرنا طلبہ کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اپنی دوسری تجویز کے طور پر، جناب گوئل نے سافٹ اسکلز کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا، جس میں ٹیکنالوجی کا گہرا علم، مواصلاتی مہارتیں ، ٹیم ورک ،ثقافتی تبادلے اور انسانی میل جول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں پر توجہ دینے سے طلبہ کو یقیناً فائدہ پہنچے گا۔
وزیرِ موصوف نے اپنی تیسری تجویز کے طور پر سیکھنے کے تجرباتی عمل پر زور دیا، جس میں کارخانوں، بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کو جاکر دیکھنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سہولیات کی فراہمی سے طلبہ مستفید ہوں گے اور انہیں منیجمنٹ کا عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
چوتھی تجویز کے طور پر، جناب گوئل نے ادارے پر زور دیا کہ وہ عالمی بہترین طریقوں کو اپنائے، جس میں آڈیو ویژول اور ڈیجیٹل آلات کا استعمال اور نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تعلیمی نمبرات کی منتقلی شامل ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ادارہ اچھے عالمی اداروں کے ساتھ اشتراک کر سکتا ہے اور آن لائن و آف لائن دونوں طریقوں سے مشترکہ پروگرام چلا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر طلبہ چوتھے سال میں ریسرچ کا کام کرتے ہیں اور انہیں تحقیقی انٹر ن شپ فراہم کی جاتی ہے، تو اس کا ان پر مثبت اثر پڑے گا اور ان کے مستقبل کے کیریئر کو فائدہ پہنچے گا۔
وزیرِ موصوف نے کہا کہ 'وکست بھارت' کے لیے دنیا کے دروازے طلبہ کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نئے آزاد تجارتی معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھائیں، جو مینوفیکچرنگ کو نئے طور پر جلا بخش رہے ہیں اور جدت طرازی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے لیے پڑھائی میں کامیابی کی تمنا کی اور انہیں ترغیب دی کہ وہ دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم کو عملی تجربے کے ساتھ جوڑیں۔
تعلیم کی کایا پلٹ میں ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ جہاں کووڈ-19 کے بہت سے نقصانات تھے، وہیں اس نے تعلیم کو ٹیکنالوجی سے بھی جوڑا اور ایڈ ٹیک یعنی تعلیمی ٹیکنالوجی کو ایک اہم کردار دیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب اسکول اور کالج بند تھے، تو بہت سے تعلیمی پروگرام آن لائن منتقل ہو گئے۔ نتیجے کے طور پر، تعلیمی ٹیکنالوجی کمپنیاں محض ایک اضافی آلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ضرورت بن کر ابھریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ٹیکنالوجی نے بھارت کو ڈیجیٹل دنیا میں دیہاتوں اور شہروں کے درمیان ایک پل بنانے کے قابل کیا ہے۔
وزیرِ موصوف نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز انتظامیہ کی ضروریات کو تبدیل کر رہی ہیں۔ متحرک سیکھنے کا عمل تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے، جبکہ مہارت کے فروغ کے مراکز اور ملازمتوں کی ضروریات بھی روایتی ملازمتوں سے ہٹ کر منفرد تقاضوں کی طرف مسلسل بدل رہی ہیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ مختلف وقت والے خطوں میں آن لائن روابط نے تعلیم کو تیز رفتار، سادہ اور مؤثر انداز میں فراہم کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ٹائم زونز کے حامل ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر بات چیت کی جاتی ہے اور اب زیادہ تر کام آن لائن ہی انجام پاتا ہے۔ فزیکل میٹنگوں کے ساتھ ساتھ، مختلف شعبوں اور خطوط پر کام کرنے والی بڑی ٹیمیں رفتار کو تیز کرنے اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے آن لائن مذاکرات کا سہارا لیتی ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آن لائن اورآف لائن طریقوں کو یکجا کرنے والا آئی آئی ایم اودے پور کا یہ ہائبرڈ ماڈل اس پروگرام کو کامیاب بنائے گا۔
انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے عالمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ آئی آئی ایم برانڈ کو انتظامیہ کی دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کے بورڈ رومز ہوں یا نیویارک کے مین ہٹن کے، آئی آئی ایم برانڈ ایسے اداروں کی نمائندگی کرتا ہے جو نوجوانوں کو منیجمنٹ کے چیلنجوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی ایم ملک اور بیرون ملک بھارت کے وقار میں اضافہ کریں گے اور لوگوں کو مستقبل کے رہنما اور کاروباری رہنما بننے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
طلبہ، اساتذہ اور خاص طور پر نئے کورس میں شامل ہونے والے بی بی اے کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ انہیں اس پروگرام کے بارے میں سن کر دلی مسرت ہوئی ہے اور انہوں نے اسے ایک منفرد اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی دو لسانی منیجمنٹ تعلیم سادہ زبان میں لوگوں تک پہنچے گی اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ استعمال کی جانے والی زبان ہر ایک کے لیے سمجھنے میں آسان ہوگی۔ چونکہ یہ پروگرام آن لائن ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات انتہائی وسیع ہو سکتے ہیں۔
جناب گوئل نے اس یقین کا اظہار کیا کہ طلبہ کا پہلا بیچ تاریخ رقم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے پاس ایک اہم موقع ہے اور وہ پرامید ہیں کہ طلبہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور خود کو مستقبل کے لیے تیار کریں گے۔
*****
ش ح۔ م ع۔ ج
uno-9618
(रिलीज़ आईडी: 2281726)
आगंतुक पटल : 16