زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
توتاپری آم کی گرتی ہوئی قیمتوں پر فوری کارروائی؛ پوری ویلیو چین کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آندھرا پردیش کے آم کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مشن کا آغاز کیا؛ آئی سی اے آر کی ماہر ٹیم زمینی سطح پر جائزہ لے گی
آندھرا پردیش کے آم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے جناب شیوراج سنگھ چوہان کا جامع منصوبہ، آئی سی اے آر ٹیم متحرک
مرکز نے آندھرا پردیش کےتو تاپری آم کے کاشتکاروں کے لیے پائیدار حل تیار کرنے کی غرض سے آئی سی اے آر ماہرین کو تعینات کیا
प्रविष्टि तिथि:
03 JUL 2026 4:09PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)کے تحت ایک اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی ہے، جو آندھرا پردیش کے توتاپری آم کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لے گی اور اس شعبے کی طویل المدتی ترقی کے لیے مناسب سفارشات پیش کرے گی۔یہ فیصلہ مرکزی وزیر کے حالیہ دورۂ آندھرا پردیش کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے توتاپری آم کے کاشتکاروں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران کسانوں نے وزیر موصوف کو آگاہ کیا کہ توتاپری آم، جو زیادہ تر پروسیسنگ انڈسٹری کے لیے کاشت کیا جاتا ہے، کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث ان کی آمدنی متاثر ہوئی ہے اور ریاست کے آم کاشتکاروں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے، جناب چوہان نے آئی سی اے آر کو ہدایت دی کہ وہ سائنسدانوں اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک ماہر کمیٹی تشکیل دے، جو توتاپری آم کے شعبے کا جامع جائزہ لے۔اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پوری ویلیو چین-یعنی کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ، اندرونِ ملک تجارت اور برآمدات-کا تفصیلی جائزہ لے اور ایسے مناسب اقدامات کی سفارش کرے جن سے کسانوں کی آمدنی میں بہتری آئے اور اس شعبے کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکے۔
آئی سی اے آر–سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر، لکھنؤ کی جانب سے جاری کردہ ایک دفتر ی حکم نامے کے مطابق، اس کمیٹی کی صدارت ڈاکٹر ٹی دامودرن، ڈائریکٹر آئی سی اے آر –سی آئی ایس ایچ ، لکھنؤ کریں گے۔کمیٹی کے دیگر اراکین میں شامل ہیں:ڈاکٹر ایم شنکرن، ہیڈ، فروٹ کراپس ڈویژن، آئی سی اے آر–انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل ریسرچ، بنگلورو؛ ڈاکٹر ایچ ایس سنگھ، پرنسپل سائنٹسٹ، آئی سی اے آر –سی آئی ایس ایچ، لکھنؤ؛ ڈاکٹر ڈی سرینواس ریڈی، پروفیسر، کالج آف ہارٹیکلچر، اننت راج پیٹا، ڈاکٹر وائی ایس آر ہارٹیکلچرل یونیورسٹی، آندھرا پردیش؛ اور حکومتِ آندھرا پردیش کے ڈائریکٹر ہارٹیکلچر یا ان کا نامزد نمائندہ۔مرکزی وزیر نے کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ دس دنوں کے اندر آندھرا پردیش کے توتاپری آم پیدا کرنے والے بڑے علاقوں کا فیلڈ دورہ کرے۔ اس دورے کے دوران کمیٹی کسانوں، پروسیسنگ انڈسٹری کے نمائندوں، برآمد کنندگان، ریاستی محکمہ باغبانی کے حکام، کسان پروڈیوسر تنظیموں( ایف پی اوز) اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کرے گی تاکہ موجودہ صورتحال کی جامع تفہیم حاصل کی جا سکے۔
کمیٹی توتاپری آم کی کاشت کی موجودہ صورتحال، پیداواری لاگت، کسانوں کی آمدنی، پروسیسنگ کی صلاحیت اور اس کے استعمال، طلب و رسد کے رجحانات، اور ملکی و برآمدی منڈیوں میں حالیہ قیمتوں میں کمی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔یہ کمیٹی ویلیو چین کے مختلف مراحل کو متاثر کرنے والے مسائل کا بھی جائزہ لے گی اور کارکردگی، مسابقت اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے مواقع کی نشاندہی کرے گی۔ فیلڈ مشاہدات، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور سائنسی تجزیے کی بنیاد پر کمیٹی قیمتوں میں کمی کے عوامل کی ایک جامع رپورٹ تیار کرے گی تاکہ شواہد پر مبنی پالیسی اقدامات کو ممکن بنایا جا سکے۔
فیلڈ اسٹڈی کی تکمیل کے بعد، کمیٹی اپنی جامع رپورٹ مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان بہبود کو پیش کرے گی۔ اس رپورٹ میں قیمتوں کے استحکام کے لیے اقدامات، ویلیو ایڈیشن کے فروغ، پروسیسنگ اور برآمدی صلاحیتوں میں اضافہ، کسان پروڈیوسر تنظیموں(ایف پی اوز)پروسیسرز اور برآمد کنندگان کے درمیان بہتر رابطہ کاری، اور توتاپری آم کے شعبے کی طویل مدتی اور پائیدار ترقی کے لیے درکار پالیسی اقدامات سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی۔یہ سفارشات مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مربوط کارروائی کی بنیاد فراہم کریں گی۔
جناب چوہان نے کہا کہ توتاپری آم کے کاشتکاروں کی آمدنی اور روزگار کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر مناسب اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آم کے کاشتکاروں کو پائیدار سہارا فراہم کیا جا سکے، ویلیو چین کو مضبوط بنایا جا سکے اور اس شعبے میں ویلیو ایڈیشن، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
******
ش ح۔ ش ت۔ ر ب
(रिलीज़ आईडी: 2280802)
आगंतुक पटल : 5