دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وزیرِ اعلیٰ جناب چندر بابو نائیڈو اور نائب وزیرِ اعلیٰ جناب پون کلیان کی موجودگی میں آندھرا پردیش سے ملک گیر ’’وکست بھارت – جی رام جی ایکٹ‘‘ کا آغاز کیا


’’ہر ہاتھ کو روزگار اور ہر پیٹ کو غذا ملنی چاہیے‘‘ — مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے عزم کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے

منریگا سے آگے بڑھتے ہوئے اب ’وکست بھارت – جی رام جی‘ کے ذریعے 125 دن کے روزگار کی مضبوط ضمانت فراہم کی جا رہی ہے: جناب شیوراج سنگھ

آئندہ 5 برس میں ساڑھے سات لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا ہدف، ہر پنچایت کی ترقی کے لیے سالانہ 2 کروڑ روپے سے زیادہ کی فراہمی: مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی

محنت کش کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا، اجرت کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں سود سمیت ادائیگی کی قانونی ضمانت دی گئی ہے: جناب شیوراج سنگھ

نو ماہ کے دوران آندھرا پردیش کے لیے 7,707 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج، دیہی ترقی کا ایک نیا نمونہ: جناب شیوراج سنگھ چوہان

جناب شیوراج سنگھ چوہان کا آندھرا پردیش کے لیے تحفہ — توتاپوری آم کے کاشتکاروں کو راحت، ساتھ ہی رہائش اور سڑکوں کے بڑے منصوبوں کی منظوری

سنہرے آندھرا پردیش کے لیے 3 نہیں بلکہ ایک مستقل دارالحکومت ہونا چاہیے: جناب چندر بابو نائیڈو

آندھرا پردیش کو باغبانی کا مرکز بنانے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ: جناب چندر بابو نائیڈو

جناب شیوراج سنگھ چوہان کی 49 سالہ عوامی زندگی عوامی خدمت، کسانوں کی فلاح اور دیہی بھارت سے ان کی غیرمتزلزل وابستگی کی علامت ہے: جناب پون کلیان

प्रविष्टि तिथि: 02 JUL 2026 6:53PM by PIB Delhi

’’وکست بھارت – روزگار اور ذریعۂ معاش کی ضمانت مشن (دیہی) یوجنا‘‘ کا ملک گیر آغاز آج آندھرا پردیش کے ضلع تروپتی کے گاؤں مکّاواری پلی سے کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان، آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ جناب چندر بابو نائیڈو، نائب وزیرِ اعلیٰ جناب پون کلیان، مرکزی وزرائے مملکت ڈاکٹر چندرشیکھر پیمنسانی اور جناب کملیش پاسوان، ارکانِ پارلیمان، ارکانِ قانون ساز اسمبلی اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اس پروگرام کے دوران وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک بھر کے غریب مزدوروں، کسانوں اور دیہی علاقوں کے لیے روزگار کی ضمانت کا ایک نیا نمونہ پیش کیا گیا، جس کے تحت دیہات کی ترقی کے لیے خطیر مالی وسائل، شفاف نظام اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کو بھی متعارف کرایا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0014GEH.jpg

بھگوان وینکٹیشور کے دربار عقیدت کے اظہار سے ’’وکست بھارت – جی رام جی‘‘ کا آغاز

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے خطاب کا آغاز ’’نمہ وینکٹیشورائے‘‘ اور ’’گووند، گووند‘‘ کے نعروں سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدس دھرتی سے ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کا آغاز غریبوں اور مزدوروں پر خدائی رحمتوں اور برکتوں کی بارش کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ ملک کا کوئی بھی غریب مزدور روزگار سے محروم نہ رہے، ہر ہاتھ کو کام ملے اور ہر پیٹ کو غذا نصیب ہو۔ انہوں نے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے پر وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کا دل کی گہرائیوں سے اظہارِ تشکر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0025HJE.jpg

منریگا سے ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ تک: 125 دن کے یقینی روزگار کی جانب ایک اہم پیش رفت

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے یاد دلایا کہ سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت کے دور میں شروع کیے گئے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت قانون (منریگا) کے تحت صرف 100 دن کے روزگار کی ضمانت دی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی نئی حکمتِ عملی کے تحت ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کے ذریعے مزدوروں کو مکمل 125 دن کے یقینی روزگار کی مضبوط ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف روزگار کے دنوں میں اضافہ نہیں بلکہ سوچ اور طرزِ عمل میں ایک بنیادی تبدیلی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی ہاتھ بے روزگار نہ رہے۔ انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ نئی یوجنا کے نفاذ کے پہلے ہی روز ملک بھر میں لاکھوں مزدوروں کو روزگار ملا ہے اور منریگا کو مزید مؤثر اور بہتر بنا کر ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کی صورت دی گئی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00336GW.jpg

پہلے سال ایک لاکھ اکاون ہزار کروڑ روپے کی فراہمی، پانچ برس میں ساڑھے سات لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا ہدف

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے یوجنا کے مالی پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کے پہلے ہی سال میں مرکزی حکومت کا حصہ 95 ہزار کروڑ روپے سے زائد ہوگا، جبکہ ریاستوں کے 40 فیصد حصے کو شامل کرنے کے بعد اس یوجنا پر سالانہ مجموعی خرچ تقریباً ایک لاکھ 51 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 5 برس کے دوران اس یوجنا کے تحت مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم ملک کی 2 لاکھ 86 ہزار پنچایتوں تک پہنچے گی، جس کے نتیجے میں ہر پنچایت کو اوسطاً سالانہ دو کروڑ روپے سے زیادہ دستیاب ہوں گے۔ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا اور عوامی مفاد کے لیے پائیدار اثاثے بھی تخلیق کیے جائیں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004OUVJ.jpg

روزگار کی قانونی ضمانت — پندرہ دن کے اندر کام، بصورتِ دیگر بے روزگاری الاؤنس

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کے تحت مزدوروں کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اگر کوئی مزدور روزگار کا مطالبہ کرے تو اسے پندرہ دن کے اندر کام فراہم کرنا لازمی ہوگا، اور اگر مقررہ مدت میں روزگار مہیا نہ کیا جائے تو متعلقہ مزدور کو بے روزگاری الاؤنس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب کسی کو بھی مزدور کی محنت کے ساتھ ناانصافی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اجرت کی ادائیگی میں تاخیر کے دیرینہ مسئلے کے خاتمے کے لیے اس یوجنا میں یہ قانونی انتظام کیا گیا ہے کہ اگر اجرت کی ادائیگی میں تاخیر ہو تو مزدور کو تاخیر سے ادا کی جانے والی پوری اجرت کے ساتھ اس پر واجب سود بھی ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مزدور کو اپنی محنت کا پورا معاوضہ ملے اور غریبوں کی خدمت کو عبادت سمجھنے کے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کو عملی صورت میں بروئے کار لایا جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005U7DZ.jpg

انتظامی اخراجات میں 9 فیصد کی فراہمی سے نظام کو تقویت، میدانِ عمل کے عملے کو مکمل تنخواہ

مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ یوجنا کے مؤثر نفاذ کے لیے انتظامی اخراجات کی شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم گرام روزگار معاونین (گرام پنچایتوں میں تعینات معاہداتی کارکنان)، نگران عملے اور دیگر مقامی سطح کے ملازمین کی تنخواہوں اور سہولتوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی ترقی اور مزدوروں سے متعلق امور انجام دینے والے ملازمین کو بروقت مکمل تنخواہ ملنا ضروری ہے تاکہ وہ مالی پریشانیوں کا شکار نہ ہوں اور نظام پوری مضبوطی کے ساتھ کام کرتا رہے۔ اس طرح یہ یوجنا مزدوروں کی فلاح کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچے کو بھی مستحکم کرے گی۔

گاؤں کا فیصلہ گاؤں میں — ترقیاتی کاموں کا تعین گرام سبھا کرے گی

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ کس گاؤں میں کون سا ترقیاتی کام انجام دیا جائے گا، اس کا فیصلہ نہ نئی دہلی سے ہوگا اور نہ آندھرا پردیش کے دارالحکومت امراوتی سے۔ ترقیاتی کاموں کے انتخاب کا اختیار گرام پنچایت اور گرام سبھا کے پاس ہی رہے گا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گاؤں کے لوگ خود طے کریں گے کہ انہیں آنگن واڑی مرکز، اسکول، اسپتال یا سڑک کی ضرورت ہے، یا پھر کھیتوں تک جانے والی سڑکیں، کسان پیداواری تنظیموں کے لیے بنیادی ڈھانچہ، تالاب، چھوٹے بند، آبی ذخائر یا قدرتی آفات سے تحفظ کے لیے حفاظتی دیواریں تعمیر کرنی ہیں۔ یہ تمام فیصلے گاؤں میں منعقد ہونے والی گرام سبھا ہی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کا فیصلہ گاؤں ہی میں ہوگا، اور یہی ’’جی رام جی یوجنا‘‘ کی روح ہے۔

پسماندہ پنچایتوں کے لیے اضافی امداد، آندھرا پردیش کو 7,707 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ریاستوں سے کہا کہ وہ اپنی پنچایتوں کو الف، ب اور ج درجوں میں تقسیم کر سکتی ہیں اور ترقی کے اعتبار سے پسماندہ پنچایتوں کو زیادہ مالی وسائل فراہم کر سکتی ہیں، تاکہ دور افتادہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز ہو۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے لیے ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کے تحت صرف نو ماہ کی مدت کے لیے مرکز کی جانب سے 7,707 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت کے حصے کو شامل کرنے کے بعد یہ پیکیج آندھرا پردیش کو ترقی کے اعتبار سے ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں شامل کرنے میں معاون ہوگا اور دیہی علاقوں میں روزگار اور ترقی کو نئی قوت بخشے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وزیرِ اعلیٰ جناب چندر بابو نائیڈو اور نائب وزیرِ اعلیٰ جناب پون کلیان کی قیادت میں آندھرا پردیش دیہی ترقی کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرے گا۔

اجرت کی نئی شرحیں

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ اب ملک کی کسی بھی ریاست میں یومیہ اجرت 300 روپے سے کم نہیں ہوگی۔ آندھرا پردیش میں یہ شرح 312 سے 315 روپے مقرر کی گئی ہے، تاکہ مزدوروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔

پردھان منتری رہائشی یوجنا اور دیہی سڑک یوجنا کے تحت بڑے تحفے، منظوری کے خطوط اسٹیج سے ہی حوالے

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے پردھان منتری رہائشی یوجنا (دیہی) اور پردھان منتری گرام سڑک یوجنا – چہارم کے تحت آندھرا پردیش کے غریب خاندانوں اور دیہات کے لیے کئی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پردھان منتری رہائشی یوجنا کے تحت آندھرا پردیش کے لیے 74 ہزار 212 نئے پختہ مکانات کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ کوئی بھی مستحق غریب خاندان کچے مکان میں رہنے پر مجبور نہ رہے اور ہر خاندان کو باعزت رہائش میسر آئے۔ انہوں نے ان دیہات کا بھی ذکر کیا جو اب تک پختہ سڑکوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے علاقوں کے لیے 146 نئی سڑکوں اور 19 پلوں کی منظوری دی گئی ہے، جن پر 422 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ان تمام منظوریوں کے خطوط تقریب کے دوران اسٹیج پر ہی وزیرِ اعلیٰ اور نائب وزیرِ اعلیٰ کے حوالے کیے اور یقین دلایا کہ اگر گاؤں ترقی کریں گے تو بھارت بھی ترقی کرے گا، اور مرکزی حکومت آندھرا پردیش کی ہمہ جہت دیہی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

توتاپوری آم کے کاشتکاروں کو راحت — مناسب قیمت یقینی بنانے کے لیے بازار میں حکومتی مداخلت

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آندھرا پردیش میں توتاپوری آم کے کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آم کی قیمتوں میں کمی کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر مرکزی حکومت نے بازاری مداخلتی منصوبے کے تحت بڑی مقدار میں توتاپوری آم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کسانوں کو مناسب اور منصفانہ قیمت مل سکے اور ان کی محنت محفوظ رہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی سی آر کے سائنسی ماہرین ریاستی حکومت کی ٹیم کے ساتھ مل کر آم کے باغات کی پیداوار بڑھانے، بہتر اقسام متعارف کرانے اور قلم کاری و اقسام کی تبدیلی سے متعلق جدید تکنیکوں پر کام کریں گے، تاکہ باغبانی کی پیداوار میں اضافہ ہو اور بازار میں اعلیٰ معیار کی اقسام دستیاب ہوں۔

ماحولیات کے تحفظ کا عزم

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے عوام سے ماحولیات کے تحفظ کا عہد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود روزانہ ایک پودا لگاتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنی سالگرہ کے موقع پر کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں۔ اس موقع پر انہوں نے حاضرین سے ترقی یافتہ گاؤں، ترقی یافتہ آندھرا پردیش اور ترقی یافتہ بھارت کے عزم کا اجتماعی حلف بھی دلوایا۔

’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ دیہی زندگی میں انقلابی تبدیلی کا ذریعہ

وزیرِ اعلیٰ جناب چندر بابو نائیڈو نے اپنے خطاب میں ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کو ایک ایسی اسکیم قرار دیا جو دیہات اور دیہی زندگی کے معیار میں بنیادی تبدیلی لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں منریگا کا آغاز رائلسیما سے ہوا تھا اور اس نے ملک کے لیے ایک نمونہ پیش کیا تھا۔ اب اسی بنیاد کو مزید مؤثر اور مضبوط بناتے ہوئے ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کا آغاز کیا جا رہا ہے، جو سنہری آندھرا پردیش اور ترقی یافتہ بھارت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 125 دن کے یقینی روزگار کے ساتھ کھیتوں تک سڑکوں کی تعمیر، تالابوں، نکاسیٔ آب کے انتظام، دیگر بنیادی سہولتوں اور بے زمین مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ جیسے اقدامات دیہی زندگی کے معیار میں براہِ راست بہتری لائیں گے۔

بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے ڈیجیٹل نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کا تعین گرام سبھاؤں کے ذریعے

جناب چندر بابو نائیڈو نے بتایا کہ اس نئی یوجنا کے تحت ترقیاتی کاموں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل حاضری رجسٹر، آدھار کی بنیاد پر ادائیگی، حقیقی وقت کی نگرانی اور جغرافیائی نشان دہی جیسی جدید ٹیکنالوجیوں سے کام لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کام کیے بغیر صرف کاغذوں میں حساب کتاب دکھانے کی پرانی روایت کا خاتمہ ہوگا اور سرکاری رقوم درست مقامات پر خرچ ہوں گی۔ انہوں نے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب پون کلیان کی قیادت میں حالیہ برسوں کے دوران منعقد ہونے والی گرام سبھاؤں اور ان کے ذریعے تعمیر کی گئی سیمنٹ کنکریٹ سڑکوں، گؤشالاؤں، آبی ذخائر، پمپ تالابوں اور قبائلی علاقوں کی سڑکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہی تجربات کی بنیاد پر ’’وکست بھارت – جی رام جی یوجنا‘‘ کو بہترین انداز میں نافذ کیا جائے گا اور آندھرا پردیش کو ملک کی ایک مثالی ریاست بنایا جائے گا۔

باغبانی کے مرکز کے لیے بھاری سرمایہ کاری

وزیر اعلیٰ نے رائلسیما خطے کو باغبانی کا ایک بڑا مرکز بنانے کے اپنے وژن کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوروُدیہ پروگرام کے تحت تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کی سرکاری سرمایہ کاری اور تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ آبپاشی کے منصوبوں، سڑکوں کے بہتر رابطے، گوداموں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے رائلسیما کو ملک میں پھلوں اور باغبانی کی پیداوار کا ایک نمایاں مرکز بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس منصوبے کو سورن آندھرا پردیش کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیہی روزگار، باغبانی، صنعتی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، یہ سب مل کر آندھرا پردیش کو ملک کی صفِ اوّل کی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

سورن آندھرا پردیش کے لیے امراوتی، پولاورم اور صنعتی سرمایہ کاری

وزیر اعلیٰ جناب چندرابابو نائیڈو نے امراوتی کو ’’دیوتاؤں کا دارالحکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے تعاون سے دارالحکومت کی تعمیر، پولاورم منصوبہ، وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ، ڈیٹا سینٹروں اور لڑاکا طیاروں کے منصوبے جیسے اقدامات کے باعث آندھرا پردیش کی شناخت اور وقار کو ایک بار پھر نئی بلندی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درست قیادت، درست مقام اور درست وقتیہ سب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں میسر آئے ہیں، اور 2047 تک بھارت کو دنیا کا نمبر ایک ملک بنانے کے وژن کے ساتھ سورن آندھرا پردیش کی تعمیر کی سمت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندرشیکھر پیمّناسانی نے کہا کہ ’’وی بی – جی رام جی‘‘ پروگرام کے تحت نہ صرف کام کے دنوں کی تعداد 100 سے بڑھا کر 125 کر دی گئی ہے بلکہ اگر کسی مزدور کو کام فراہم نہ کیا جا سکے تو اسے بے روزگاری الاؤنس دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، تاکہ ہر مزدور کو روزگار کی ضمانت حاصل ہو۔ دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کملیش پاسوان نے کہا کہ ’’وی بی – جی رام جی یوجنا‘‘ ترقی یافتہ بھارت کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت 300 سے زائد اقسام کے ترقیاتی کام انجام دیے جائیں گے، جو دیہی بھارت کو بااختیار اور خوشحال بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر دیہی ترقی کے سکریٹری جناب روہت کنسل اور جوائنٹ سکریٹری محترمہ روہنی آر۔ بھاجی بھاکرے بھی موجود تھیں۔

مرکزی حکومت کے تعاون سے آندھرا پردیش کو نئی قوت ملی

نائب وزیر اعلیٰ جناب پون کلیان نے کہا کہ شیو راج جی، عوامی زندگی کے آپ کے 49 برس عوامی خدمت، کسانوں کی فلاح اور دیہی بھارت سے غیر معمولی وابستگی کی روشن مثال ہیں۔ آپ نے چھ مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ اور چار مرتبہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ملک کی خدمت کی اور ایک قابلِ تقلید نمونہ پیش کیا۔ ایمرجنسی کے دوران جمہوریت کے تحفظ کے لیے آپ کی جدوجہد اور قید و بند کی صعوبتیں ہم سب کے لیے باعثِ ترغیب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی رہنمائی اور وزیر اعظم کی قیادت میں آندھرا پردیش کو دیہی ترقی کے لیے 12,845 کروڑ روپے کی منظوری حاصل ہوئی ہے۔ آپ کے تعاون سے ریاست میں پنچایتی راج نظام مزید مضبوط ہوا ہے اور قبائلی علاقوں میں شجرکاری سمیت متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آر جی ایس اے (راشٹریہ گرام سوراج ابھیان) کی قومی درجہ بندی میں آندھرا پردیش 24ویں مقام سے ترقی کرکے پہلے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وی بی – جی رام جی‘‘ پروگرام کے قومی آغاز کے لیے آندھرا پردیش کا انتخاب کرکے آپ نے ہماری ریاست کے ہر شہری کا وقار بڑھایا ہے۔

تقریب کے آغاز میں وزیر اعلیٰ جناب چندرابابو نائیڈو اور مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان زرعی آبی ذخیرے (فارم پونڈ) سے متعلق سرگرمی کے مقام پر پہنچے، جہاں انہوں نے پوجا ادا کی، سنگِ بنیاد رکھا، پودے لگائے، ’’میجک ڈرین‘‘ کے عملی مظاہرے کا مشاہدہ کیا، اور آندھرا پردیش کی کامیابیوں اور مختلف ترقیاتی اقدامات پر مبنی نمائش کا بھی جائزہ لیا۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9485


(रिलीज़ आईडी: 2280550) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Odia , Tamil , Kannada