وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

جاپان کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم کا بیان

प्रविष्टि तिथि: 02 JUL 2026 2:25PM by PIB Delhi

عزت مآب، میری چھوٹی بہن وزیرِ اعظم محترمہ تاکائیچی جی،

دونوں ممالک کے معزز مندوبین،

میڈیا کے معزز نمائندگان،

نمسکار!

کونیچی وا!

ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس کے موقع پر میں جاپان کی وزیرِ اعظم محترمہ تاکائیچی جی کا بھارت کے ان کے پہلے سرکاری دورے پر پرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں۔

وہ جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہیں، ایک دور اندیش اور عوام میں بے حد مقبول رہنما بھی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ان کا تعلق جاپان کے نارا پریفیکچر سے ہے، جو بھارت اور جاپان کے درمیان مشترکہ بدھ مت ورثے کا ایک نہایت اہم مرکز ہے۔

دوستو،

چند دن پہلےجی-7 سربراہ اجلاس میں، میں نے کہا تھا کہ آج کے عالمی اتھل پتھل کے ماحول میں باہمی اعتماد ہمارا سب سے بڑا اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔ اور مجھے فخر ہے کہ بھارت-جاپان کی شراکت داری اس معیار پرمکمل طور پرپوری اترتی ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں، آٹوموٹیو سے لے کر الیکٹرانکس تک، جاپان نے بھارت کی ترقی کی داستان میں ایک اہم شراکت دار بن کر دوستی اور اعتماد کا ایک قیمتی سرمایہ بنایا ہے۔

اور آج وزیرِ اعظم محترمہ تاکائیچی جی کے اس دورے کے ساتھ، ہم اپنی خصوصی اہمیت کی حامل اور عالمی شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔

دوستو،

آج بھارت اور جاپان دونوں ہی دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہیں۔ ایک آزاد، خوشحال اور اصولوں پر مبنی بھارت بحرالکاہل  ہماری مشترکہ ترجیح ہے۔

اس خطے کی سب سے بڑی جمہوری اور مارکیٹ معیشتوں کے طور پر، آج ہم نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کے ذریعے ہم مل کر پورے خطے میں امن واستحکام اور ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔

دوستو،

وزیرِ اعظم تاکائیچی جی میرایہ یقین ہے کہ ٹیکنالوجی پارٹنرشپ، ہمارے تعاون کا سب سے مضبوط ستون بنے گی۔ اسی وژن کو عملی شکل دینے کے لیے آج ہم نے اے آئی کے شعبے میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔ بھارت کے اے آئی ماحولیات نظام کے کئی اہم اداروں نے آج اپنے جاپانی شراکت داروں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ جاپان کی پریسیژن ٹیکنالوجی اور بھارت کی سافٹ ویئر صلاحیت کا امتزاج عالمی اے آئی  ترقی کو نئی رفتار اور قوت عطا کرے گا۔

دفاع کے شعبے میں آج ہم نے بھارت اور جاپان کے پہلے کو-ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر معاہدہ کیا ہے۔ نیول ریڈیو اینٹینا کا یہ منصوبہ ہماری دفاعی ٹیکنالوجی شراکت  داری میں ایک نئےباب  کاآغازکرے گا۔ اب ہم مل کر ایسی دفاعی ٹیکنالوجیز کو تیار کریں گے جو علاقائی امن، بحری سلامتی اور اصولوں پر مبنی نظام کو مضبوط کریں گی۔

دواسازی، طبی آلات اور بایوٹیک کے شعبے میں آج کیے گئے معاہدوں سے ہم عالمی صحت کے تحفظ میں بھی اپنارول ادا کریں گے۔ بھارت کے پیمانے اور جاپان کے معیار کو یکجا کرتے ہوئے ہم سستی، قابلِ اعتماد اور جدید صحت کے حل دنیا تک پہنچانے کے لیے کام کریں گے۔

دوستو،

بھارت-جاپان سرمایہ کاری شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ پچھلے ایک سال میں100 سے زائد نئے کاروباری معاہدے ہوئے ہیں، جن کے ذریعے بھارت میں10 ارب ڈالر سے زیادہ جاپانی سرمایہ کاری آئے گی۔ آج طے پائے گئے مالیاتی خدمات سے متعلق  اداروں کے درمیان معاہدے سے سرمایہ اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مزید آسان بنایا جائے گا۔

ہمارا  واضح ہدف اگلے 10برسوں میں جاپان سے بھارت میں10 ٹریلین ین کی سرمایہ کاری، اور بھارت میں جاپانی کمپنیوں کی تعداد کو دوگنا کرناہے۔ بھارت میں جاری اصلاحات سے کاروبار میں آسانی  میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جاپانی کمپنیاں بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

دوستو،

آج کے غیریقینی دور میں بھارت اور جاپان دونوں معاشی سلامتی اور توانائی کی سلامتی کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ اسی سمت میں آج ہم نے اقتصادی سلامتی کے لیے ایک مشترکہ خاکہ وضع کیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ایڈوانسڈ میٹریلز جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں سپلائی چین کی مضبوطی کو یقینی بنائیں گے۔

توانائی کی سلامتی کے شعبے میں بھی آج ہم نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ انڈیا-جاپان بایوگیس انیشی ایٹو کے تحت بھارت میں ایک ہزار بایوگیس اور نامیاتی کھاد کے پلانٹس قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے ہماری گووردھن پہل مزید مضبوط ہوگی۔

اس سے بھارت کے گاوؤٍں میں پائیداری، خوشحالی اور دیہی روزگار کو نئی طاقت بھی ملے گی۔ تیل کے بحران جیسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آج ہم نے توانائی کے استحکام  پر بھی ایک اہم پہل کی ہے۔ اسی طرح بیٹری، گرین ہائیڈروجن اور نیوکلیئر انرجی میں ہمارا تعاون دنیا کے صاف توانائی کے مستقبل میں اہم رول ادا کرے گا۔

بھارت اور جاپان مل کر معاشی سلامتی کو مشترکہ سلامتی اور توانائی کی منتقلی کومشترکہ موقع کے طور پر دیکھتے ہیں، اور اسی سمت میں ہم آگے بڑھ کر اسے نئی شکل دیں گے۔

دوستو،

آج ہم نے بھارت-جاپان نیکسٹ جنریشن موبیلیٹی پارٹنرشپ فریم ورک بھی تیار کیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم آٹوموٹیو سیکٹر میں اپنی کامیابی کی داستان کو اب جہاز سازی، شہری ہوا بازی اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں بھی دہرائیں گے۔

دوستو،

ہمارے تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہمارے عوام سے عوام کے درمیان رابطے ہیں۔ ہم ٹیلنٹ موبیلیٹی، اسکلنگ اور ٹیکنیکل انٹرن شپ پروگرامز کے مواقع کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تحقیق، تعلیم اور اسٹارٹ اَپ تعاون کو بھی مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔

ہمیں اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ اگلے سال ہم بھارت-جاپان سفارتی تعلقات کی75سال مکمل کریں گے۔ ہم اس اہم موقع پر ثقافت، سیاحت اور تخلیقی معیشت  کے تعاون کے ذریعے باہمی روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنائیں گے۔

عزت مآب وزیر اعظم،

بھارت اور جاپان کی معیشتیں ایک دوسرے کی مکمل طور پر تکمیل کرنے والی ہیں۔ ثقافتی اقدار سے لے کر جدید ٹیکنالوجی تک، ہماری سوچ اور نقطۂ نظر میں بھی گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

اور سب سے بڑھ کریہ کہ ہمارے تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد کے مضبوط اور ناقابلِ شکست رشتے پر قائم ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری یہ خصوصی شراکت داری آپ کے ایک مضبوط اور خوشحال جاپان کے وژن، ہمارے ترقی یافتہ بھارت کے عزم اور دنیا کی مجموعی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

ایک مضبوط اور خوشحال جاپان کا آپ کا وژن، اور ترقی یافتہ بھارت کا ہمارا عزم مل کر دنیا کی ترقی کو حقیقت  کی شکل دیں گے۔

میں ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے آپ کا پرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ۔

***

ش ح ۔ش م۔اش ق

U. No. 9454


(रिलीज़ आईडी: 2280297) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Gujarati