الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل انڈیا کے 11 سال: بہتر صحت کی خدمات اور ڈیجیٹل منڈیاں عوام کی زندگی کو بنا رہی ہیں زیادہ آسان


دنیا میں ہونے والا ہر دوسرا بر وقت کا ڈیجیٹل مالیاتی لین دین بھارت کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے انجام پاتا ہے

بھارت کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کو عالمی سطح پر مسلسل پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، اور یونان اسے اپنانے والا دسواں ملک بن گیا ہے

ماؤں اور بچوں کی بہتر غذائیت: پوشن ٹریکر کے ذریعے بروقت نگرانی کے نظام سے 13 لاکھ سے زائد آنگن واڑی کارکنان اور تقریباً 9 کروڑ مستفیدین منسلک ہیں

صارفین کے لیے بہترین ڈیجیٹل بازار: ’’انڈیا ہینڈ میڈ‘‘ پلیٹ فارم نے بچولیوں کا کردار ختم کرکے بنکروں اور دستکاروں کی آمدنی میں اضافے کی راہ ہموار کی ہے

प्रविष्टि तिथि: 01 JUL 2026 7:45PM by PIB Delhi

ایک زمانہ تھا جب بھارت میں تقریباً ہر مالی لین دین نقد رقم کے ذریعے انجام پاتا تھا اور اس کے ساتھ روزمرہ زندگی کی کئی مشکلات وابستہ تھیں۔ لوگوں کو نقد رقم ساتھ رکھنے کی زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور اکثر بقایا رقم (کھلے پیسے) کے لیے پریشان ہونا پڑتا تھا۔ ادائیگیوں کے علاوہ صحت سے متعلق اشاریوں کی نگرانی، عوامی فلاحی اسکیموں کے ریکارڈ کی دیکھ بھال اور خدمات کی فراہمی میں باہمی ہم آہنگی کا نظام بھی سست، کاغذی کارروائی پر مبنی اور بکھرا ہوا تھا۔ اس صورتحال میں تبدیلی کا آغاز یکم جولائی 2015 کو ڈیجیٹل انڈیا مہم کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس تبدیلی کے اثرات نہایت وسیع ثابت ہوئے ہیں اور آج اس کی جھلک روزمرہ زندگی کے معمولی سے معمولی پہلو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

آج ڈیجیٹل انڈیا ایک مضبوط عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو ادائیگیوں کے طریقۂ کار، عوامی خدمات کی فراہمی اور روزگار و ذریعۂ معاش کی معاونت کے نظام کو یکسر تبدیل کر رہا ہے۔ دہلی میں چائے فروش کی جانب سے فوری ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے سے لے کر جھارکھنڈ کے ایک بنکر کے آن لائن ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات فروخت کرنے اور اڈیشہ کی ایک آنگن واڑی کارکن کے ذریعے کسی بچے کے صحت سے متعلق ریکارڈ کو بروقت اپڈیٹ کرنے تک، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ آج لاکھوں شہریوں اور تاجروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیاں اولین ترجیح بن گئی ہیں، جبکہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارم ملک بھر میں نظمِ حکمرانی، صحت کی خدمات اور تجارت کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ اس تبدیلی کی متعدد مثالوں میں سے چار نمایاں مثالیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

بہتر صحت، مناسب قیمت پر ہاتھ سے تیار کردہ ملبوسات

یہ تبدیلی سب سے زیادہ اس انداز میں نمایاں ہوتی ہے کہ اس نے ایک ساتھ عوام کی صحت اور ذریعۂ معاش، دونوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ ایک جانب پوشن ٹریکر ملک بھر کے آنگن واڑی مراکز میں غذائیت سے متعلق خدمات کی فراہمی کو بروقت شفاف بنا رہا ہے، جس سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے کہ کوئی بھی بچہ یا ماں حکومتی نگہداشت سے محروم نہ رہ جائے۔ دوسری جانب انڈیا ہینڈ میڈ جیسے ڈیجیٹل بازار دیہی دستکاروں کو براہِ راست ملک بھر کے خریداروں سے جوڑ رہے ہیں، جس سے بیچ کے متعدد واسطے ختم ہو رہے ہیں اور ہنرمندوں کو اپنی محنت کا حقیقی معاوضہ حاصل ہو رہا ہے۔ یوں بہتر صحت کی نگرانی اور مناسب قیمت پر معیاری ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات کی دستیابی، شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے باشندوں کی روزمرہ زندگی کو زیادہ سہل، باوقار اور محفوظ بنانے میں خاموشی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

دنیا میں بروقت ہر دوسرے ڈیجیٹل مالی لین دین کا مرکز بھارت

اس تبدیلی کی بنیاد یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) ہے، جسے 2016-17 میں متعارف کرایا گیا۔ یہ نظام مختلف بینکوں کے درمیان فرد سے فرد اور فرد سے تاجر تک فوری، بلا رکاوٹ اور باہم مربوط ڈیجیٹل مالی لین دین کو ممکن بناتا ہے۔ بھارت کے مضبوط عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ایپلی کیشنز کے فروغ پاتے ہوئے نظام کے سہارے یو پی آئی نے صرف ایک اسمارٹ فون کی مدد سے گلی کے خوانچہ فروش سے لے کر پیشہ ور افراد تک، ہر شخص کے لیے محفوظ اور فوری ڈیجیٹل ادائیگی کو آسان اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔

آج بھارت کا یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) دنیا بھر میں بروقت میں ہونے والے تقریباً 49 فیصد ڈیجیٹل مالی لین دین کا حصہ دار ہے، جس کی بدولت یہ دنیا کا سب سے بڑا بروقت ادائیگی نظام بن چکا ہے۔ ایک دہائی قبل تک زیادہ تر نقد رقم پر انحصار کرنے والی معیشت رکھنے والا بھارت اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں لاکھوں افراد کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیاں لین دین کا پسندیدہ ذریعہ بن گئی ہیں، جس سے سہولت، شفافیت اور مالی شمولیت کو نمایاں فروغ ملا ہے۔

اس نمایاں کامیابی کے پیچھے کئی باہم مربوط بنیادی ستون کارفرما ہیں:

  • یونیفائیڈ پیمنٹس انفراسٹرکچر:  یو پی آئی (یو پی آئی)اور باہم مربوط ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارم، جو مختلف بینکوں کے درمیان فوری رقوم کی منتقلی کو ممکن بناتے ہیں۔
  • بینکاری رابطہ کاری: ایک متحدہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے باہم مربوط بینکاری ڈھانچہ، جہاں ہر بینک کھاتے کی منفرد ڈیجیٹل شناخت موجود ہے، جس سے لین دین بلا رکاوٹ انجام پاتا ہے۔
  • آدھار کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت: بھیجنے والے اور وصول کرنے والے دونوں کی قابلِ اعتماد اور محفوظ شناخت فراہم کرکے نظام کی اعتباریت اور مالی شمولیت کو مضبوط بنایا گیا ہے۔
  • کم لاگت انٹرنیٹ اور ملک گیر رابطہ کاری: سستا موبائل ڈیٹا، تیزی سے پھیلتا ہوا 5Gنیٹ ورک، دیہی علاقوں تک پہنچنے والا آپٹیکل فائبر نیٹ ورک اور موبائل براڈ بینڈ کی وسیع رسائی نے رابطے کے باقی ماندہ خلا کو بھی پُر کر دیا ہے۔
  • اسمارٹ فون کا فروغ: کم قیمت اسمارٹ فون عوام کے لیے ڈیجیٹل خدمات اور ادائیگیوں تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔
  • ڈیجیٹل اختراع: صارف دوست ایپلی کیشنز پر مشتمل ایک متحرک نظام، جس نے مالی لین دین کو ہر شخص کے لیے آسان، محفوظ اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔

ان تمام ستونوں نے مل کر ڈیجیٹل ادائیگیوں کو پورے ملک میں ایک حقیقت بنا دیا ہے۔ اب بڑے شہروں سے لے کر دور دراز دیہی علاقوں تک، کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر نقد رقم کے بغیر مالی لین دین ممکن ہے۔ مضبوط توثیقی نظام اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ اگر کسی صارف کا آلہ (ڈیوائس) گم بھی ہو جائے تو اس کی مالی معلومات اور رقوم محفوظ رہیں۔ اسی مضبوط ڈیجیٹل نظام کی بدولت بھارت آج دنیا کے نمایاں ترین ڈیجیٹل ادائیگی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں نقد رقم پر انحصار مسلسل کم ہو رہا ہے اور ڈیجیٹل معیشت کی جانب پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔

بھارت کا عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ عالمی سطح پر بھی مسلسل پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کو مختلف ممالک کی جانب سے اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگی نظام پر عالمی اعتماد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں یونان، یو پی آئی خدمات کو اختیار کرنے والا دسواں ملک بن گیا، جس سے اس نظام کی عالمی رسائی مزید وسیع ہوئی ہے اور بھارتی مسافروں اور کاروباری اداروں کے لیے بیرونِ ملک بھی آسان، محفوظ اور بلا رکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت میسر آ گئی ہے۔

پوشن ٹریکر کے ذریعے بروقت نگرانی

ڈیجیٹل انڈیا کی رسائی صرف مالی لین دین تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے خواتین اور بچوں کی غذائیت کے شعبے میں بھی نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی کے تحت سکشم آنگن واڑی و مشن پوشن 2.0 کے تحت تیار کردہ پوشن ٹریکر نے غذائیت سے متعلق خدمات کی فراہمی کو بروقت مؤثر، شفاف اور جدید بنا دیا ہے۔ اس سے قبل آنگن واڑی کارکنان 11 رجسٹروں میں دستی اندراج کیا کرتے تھے، جس کے باعث خدمات کی فراہمی میں تاخیر اور مختلف مراحل میں رکاوٹیں پیدا ہوتی تھیں۔ اب اس کی جگہ مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام نے لے لی ہے۔ مئی 2026 تک 13 لاکھ 30 ہزار سے زائد آنگن واڑی کارکنان اس نظام سے رجسٹر ہو چکے ہیں، جو 8 کروڑ 93 لاکھ مستفیدین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ان مستفیدین میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، صفر سے 6 سال تک کے بچے اور نوخیز لڑکیاں شامل ہیں، جن میں سے 99.89 فیصد کی آدھار کے ذریعے تصدیق ہو چکی ہے۔

اس نظام کے تحت روزانہ ہونے والے اندراجات اور خدمات کی تعداد 2021 میں تقریباً ایک کروڑ تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 22 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ نظام ملک کی تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم میں آدھار اور موبائل کی تصدیق، جغرافیائی محلِ وقوع کی نشان دہی، جغرافیائی حدود بندی، وقت کے اندراج کے ساتھ ڈیٹا محفوظ کرنے کا نظام اور راشن کی تقسیم کے لیے چہرہ شناسائی نظام کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نامزد نمائندہ ماڈیول کے ذریعے مجاز افراد مستحقین کی جانب سے راشن وصول کر سکتے ہیں، جبکہ کثیر لسانی انٹرفیس اور شہریوں کے لیے مخصوص مستفیدین پورٹل اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ریکارڈ تک آسان اور بروقت رسائی ممکن ہو۔

یہ نظام اب 7 کروڑ 70 لاکھ سے زائد بچوں کے غذائی اشاریوں پر مشتمل ایک ماہانہ براہِ راست ڈیٹا بیس برقرار رکھتا ہے، جس کی بدولت بروقت ڈیش بورڈز، ہیٹ میپس اور آدھار سے تصدیق شدہ مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر شواہد پر مبنی پالیسی سازی ممکن ہو رہی ہے۔

درمیانی واسطوں کے خاتمے سے بھارتی دست ساز مصنوعات مزید سستی

نسل در نسل دستکار اور بنکر اپنی مصنوعات خریداروں تک پہنچانے کے لیے درمیانی واسطوں پر انحصار کرتے رہے، جس کے نتیجے میں ایک طرف ان کی آمدنی کم ہو جاتی تھی اور دوسری طرف صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔ ڈیجیٹل انڈیا اس صورتِ حال کو انڈیا ہینڈ میڈ کے ذریعے بدل رہا ہے۔ وزارتِ ٹیکسٹائل کے اس اقدام کو ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) نے تیار کیا ہے، جو دستکاروں، بنکروں، سیلف ہیلپ گروپس، پیداواری کمپنیوں اور دیہی کاروباری اداروں کو براہِ راست ملک بھر کے خریداروں سے جوڑتا ہے۔

اس پلیٹ فارم پر اب تک 3,900 سے زائد دستکار اور بنکر رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ اس پر 21,000 سے زیادہ دست ساز اور ہینڈلوم مصنوعات دستیاب ہیں۔ اس میں آسان ڈیجیٹل رجسٹریشن، کثیر لسانی سہولت، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مصنوعات کی فہرست سازی، مربوط آرڈر مینجمنٹ، محفوظ ڈیجیٹل ادائیگیاں اور مفت ترسیلی سہولت جیسی خصوصیات شامل ہیں، جن کی بدولت پہلی مرتبہ آن لائن فروخت کرنے والے متعدد فروخت کنندگان بھی آسانی سے اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہو رہے ہیں۔

یہ پلیٹ فارم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فروخت سے حاصل ہونے والی پوری رقم بغیر کسی کٹوتی کے براہِ راست دستکاروں کے بینک کھاتوں میں منتقل ہو۔ درمیانی واسطوں کے خاتمے سے انڈیا ہینڈ میڈ نے ایک طرف دستکاروں کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے اور دوسری طرف خریداروں کے لیے دست ساز مصنوعات کو زیادہ مناسب قیمت پر دستیاب بنایا ہے۔

مستفیدین کی کامیابی کی کہانیاں

پوشن ٹریکر سے مستفید ہونے والی پریانکا کو حمل کے دوران بروقت ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے بروقت غذائی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ پلیٹ فارم باقاعدہ قبل از پیدائش طبی نگہداشت، غذائیت سے متعلق مشاورت، حفاظتی ٹیکوں کی نگرانی اور گھر لے جانے کے لیے راشن کی بروقت فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ خدمات کی فراہمی اور مستفیدہ کی صورتحال کا ڈیجیٹل اندراج شفافیت کو فروغ دیتا ہے، آنگن واڑی کارکنان کو بروقت مداخلت کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ مستحق خواتین تک ان کے حقوق کے مطابق خدمات مؤثر انداز میں پہنچیں، جس سے حمل کے دوران بہتر صحت کے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

دستکار بانس پروڈیوسر کمپنی گزشتہ 3 برس سے انڈیا ہینڈ میڈ پر بانس اور بید (کین) سے تیار کردہ دستکاری کی مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی بدولت کمپنی کو وسیع تر منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور فروخت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں دستکاروں کی آمدنی میں نمایاں اور مستقل بہتری آئی ہے، ان کے خاندانوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے، اور بانس و بید کی روایتی دستکاری کو بھی نئی زندگی ملی ہے، جو اس سے پہلے مقامی منڈیوں سے باہر خریدار حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہی تھی۔

بھارت کا عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ

ڈیجیٹل انڈیا کے گیارہ برس مکمل ہونے کے بعد اس کی داستان اب صرف سرکاری دستاویزات تک محدود نہیں رہی۔ یہ اس وقت بھی لکھی جا رہی ہوتی ہے جب ایک دستکار اپنی ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات ایسے خریدار کو روانہ کرتا ہے جس سے اس کی کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ حقیقت میں یہ ایک ارب سے زیادہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کی ایسی داستان ہے، جو مل کر ایک عظیم قومی تبدیلی کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9436


(रिलीज़ आईडी: 2280177) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Telugu , हिन्दी , Gujarati , Odia , Malayalam