دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

راشٹریہ گرامین وکاس سمیلن 2026 میں وکست بھارت کے لیے لائحۂ عمل پیش؛ دیہی خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے ’سارس شکتی‘ کلیکشن کا اجرا

خواتین کے اپنی مدد آپ گروپس کی مصنوعات کے تنوع، معیار اور بازار ی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے ’سارس شکتی‘ کافی ٹیبل بک کی رونمائی

प्रविष्टि तिथि: 30 JUN 2026 11:44AM by PIB Delhi

دیہی ترقیات کی وزارت کے زیراہتمام اور وزیراعظم جناب نریندر مودی کے دیہی تبدیلی کے وژن سے ہم آہنگ راشٹریہ گرامین وکاس سمیلن  (آر جی وی ایس) 2026 مورخہ 29 جون 2026 کو اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ ’وکست گرام، وکست بھارت کے وژن کو مرکز اور ریاستوں کے درمیان مؤثر اشتراک، عوامی شراکت پر مبنی ترقی اور ٹیکنالوجی سے لیس طرز حکمرانی کے ذریعے مزید تیز رفتاری سے حقیقت کا روپ دیا جائے۔ دو روزہ قومی کانفرنس نے دیہی ترقی کی اہم سرکاری اسکیموں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور دیہی تبدیلی کے اگلے مرحلے کے لیے لائحۂ عمل پر غور و خوض کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔

سمیلن کا افتتاح دیہی ترقی اور زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزوزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے دیہی ترقی و مواصلات ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی اور مرکزی وزیر مملکت برائے دیہی ترقی جناب کملیش پاسوان بھی موجود تھے۔ دو روزہ اس پروگرام میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دیہی ترقی کے وزراء، سینئر سرکاری افسران، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ماہرین، ریاستی دیہی روزگار مشنوں(ایس آر ایل ایم ایس)کے نمائندوں اور ترقیاتی شراکت داروں نے حصہ لیا۔

سمیلن کی توجہ کااہم مرکز وی بی-گرامگ ایکٹ، 2025 کامؤثر نفاذ رہا ۔ اس پلیٹ فارم پر دیہی ترقی کی اہم اسکیموں کا جامع جائزہ لیاگیا، جن میں پردھان منتری آواس یوجنا–گرامین، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، دین دیال انتودیہ یوجنا–قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم)، دیہی ہنرمندی کے فروغ کے پروگرام اور قومی سماجی امدادی پروگرام شامل ہیں۔

سمیلن میں غور و خوض کے دوران دیہی ترقی کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے، گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانے، خواتین کی قیادت میں روزگار کے مواقع کو وسعت دینے، دیہی رہائش اور رابطہ سہولیات کو بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ روزگار کے ذرائع کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ 2029 تک 6 کروڑ لکھ پتی دیدیاں تیار کرنے کے ہدف کے حصول میں تیزی لانے کے لیے ڈیجیٹل اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف ریاستوں کے اختراعی ماڈلز کو بھی پیش کیا گیا، تاکہ انہیں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر اپنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس مشن کے تحت اس وقت 10 کروڑ سے زائد خواتین کے اپنی مدد آپ گروپس(ایس ایچ جی ایس)کی شکل میں منظم ہیں۔ خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے میٹنگ میں دین دیال انتودیہ یوجنا–قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت کاروباری مالی معاونت، ڈیجیٹل اختراع، برانڈنگ اور مارکیٹ تک رسائی سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔

سمیلن میں سارس آجیویکا(ایس اے آر اے ایس) کی بڑھتی ہوئی وسعت کو بھی اجاگر کیا گیا، جوڈی اے وائی-این آر ایل ایم کا قومی سطح کا مارکیٹنگ اقدام ہے۔ 1999 میں پہلے سارس میلہ کے انعقاد کے بعد سے یہ پہل ایک ملک گیر مارکیٹنگ نظام کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس میں 25 سے زائد ریاستی برانڈز شامل ہیں اور جس کے ذریعے سالانہ میلوں میں 200 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار ہوتا ہے۔

اس موقع پر وزارت نے سارس شکتی کلیکشن کا اجرا کیا اور برانڈ کی قومی شناخت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سارس شکتی کافی ٹیبل بک کی بھی رونمائی کی۔ سارس شکتی کلیکشن میں ملک بھر کے خواتین کے اپنی مدد آپ گروپس کی تیار کردہ اعلیٰ معیار کی منتخب مصنوعات پیش کی گئی ہیں، جبکہ سارس شکتی کافی ٹیبل بک میں ان اداروں کی مصنوعات کے تنوع، معیار اور مارکیٹ میں ان کی موجودگی کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ یہ دونوں اقدامات وزارت کی اس کوشش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دیہی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دینا اور انہیں اعلیٰ درجے کے ادارہ جاتی اور وسیع تر صارفین کی منڈیوں میں مؤثر مقام دلانا ہے۔

گجرات، اوڈیشہ، مغربی بنگال، میگھالیہ، بہار، کیرالہ اور تلنگانہ سمیت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے دیہی ترقیات کے وزراء اور نمائندوں نے سارس آجیویکا گیلری کا دورہ کیا۔ اس گیلری میں ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑوں، ٹیکسٹائل، گھریلو آرائش کی اشیا، صحت و تندرستی سے متعلق مصنوعات اور روایتی غذائی اشیا کا منتخب ذخیرہ پیش کیا گیا۔ یہاں پنجاب کی پھلکاری، جموں و کشمیر کی پشمینہ، تلنگانہ کے اکت اور تیلیا کپڑے، اور میزورم کے پاونچئی سمیت مختلف علاقوں کی روایتی دستکاری کی نمائش کی گئی۔ اس کے علاوہ میناکاری، ڈوکرا، پیتل کے فن پاروں اور لکڑی کی نفیس دستکاری بھی پیش کی گئی۔ گیلری میں کامیاب دیہی کاروباری خواتین، یعنی لکھ پتی دیدیوں کو بھی نمایاں کیا گیا، جنہوں نے یہ دکھایا کہ منظم برانڈنگ، مصنوعات کی ترقی اور مارکیٹ سے مؤثر روابط کے ذریعے خواتین کاروباری افراد پائیدار کاروبار قائم کر سکتی ہیں۔

راشٹریہ گرامین وکاس سمیلن نے برادری پر مبنی اداروں کو مضبوط بنانے، پائیدار روزگار کے مواقع میں توسیع اور وسیع تر منڈیوں تک رسائی کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ کانفرنس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی اہداف کو جامع اور خود کفیل دیہی معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان قریبی اور مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

******   

 

ش ح۔م ع ن ۔ رض

U-9332

 


(रिलीज़ आईडी: 2279300) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Gujarati , Tamil , Telugu