صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی طرف سے طبی آلات سے متعلق قواعد 2017 میں ترمیم کی تجویز پیش
مجوزہ ترامیم کا مقصد مال سازی لائسنس کے اجرا کے لیے درکار مدت میں کمی اور کاروبار میں آسانی کو فروغ
प्रविष्टि तिथि:
28 JUN 2026 11:12AM by PIB Delhi
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے طبی آلات سے متعلق قواعد 2017 میں ترمیم کی تجویز پر مشتمل ایک مسودۂ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کیا ہے۔ اس کا مقصد طبی آلات کے لیے لائسنس جاری کرنے کے عمل کو مزید سادہ، تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے، جبکہ معیار، تحفظ اور کارکردگی سے متعلق مقررہ تقاضوں کی مسلسل پابندی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
مجوزہ ترامیم کا مقصد مختلف خطراتی زمروں کے تحت طبی آلات کی تیاری کے لائسنس جاری کرنے کی مقررہ مدت کو معقول اور مختصر بنانا ہے۔ اس اقدام سے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ ملے گا، ضابطہ جاتی نظام کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور ملک میں معیاری طبی آلات کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
طبی آلات (میڈیکل ڈیوائسز) قواعد، 2017 کے تحت طبی آلات کو خطرے کی نوعیت کی بنیاد پر 4 زمروں—کلاس اے، کلاس بی، کلاس سی اور کلاس ڈی—میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کلاس ڈی سب سے زیادہ خطرے والے طبی آلات پر مشتمل ہے۔ ان قواعد میں ہر زمرے کے لیے مال سازی لائسنس کی درخواستوں پر کارروائی کی قانونی مدت مقرر کی گئی ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت ان اوقات میں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ضابطہ جاتی منظوریوں کا عمل مزید تیز ہو سکے، جبکہ معیار، تحفظ اور کارکردگی کے مقررہ معیارات کو بدستور برقرار رکھا جائے۔
کلاس بی کے طبی آلات، جن میں کم سے درمیانے درجے کے خطرے والے آلات، مثلاً بلڈ پریشر مانیٹر، ہائپوڈرْمِک سوئیاں اور پلس آکسی میٹر شامل ہیں، کے مینوفیکچرنگ لائسنس کے اجرا کی مدت کو 140 دن سے کم کرکے 115 دن کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اسی طرح کلاس سی اور کلاس ڈی کے طبی آلات، جن میں زیادہ خطرے والے آلات، مثلاً قلبی اسٹینٹس، کولہے اور گھٹنے کی پیوندکاریاں اور دیگر ہڈیوں کے امپلانٹس شامل ہیں، کے مینوفیکچرنگ لائسنس کے اجرا کی مدت کو 105 دن سے کم کرکے 90 دن کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ترامیم میں لائسنس جاری کرنے کے پورے عمل کے ہر مرحلے کے لیے واضح مدت بھی مقرر کی گئی ہے، جن میں درخواستوں کی جانچ، نامزد اداروں کے ذریعے آڈٹ، مقررہ تقاضوں کی تعمیل کی توثیق اور لائسنس کا اجرا شامل ہے۔ اس اقدام سے ضابطہ جاتی نظام میں مزید شفافیت، پیش بینی اور کارکردگی آنے کی توقع ہے، جس سے طبی آلات کی صنعت اور مریض دونوں مستفید ہوں گے، کیونکہ انہیں معیار اور تحفظ کے تقاضوں پر پورا اترنے والے طبی آلات بروقت دستیاب ہو سکیں گے۔
مجوزہ مسودۂ نوٹیفکیشن کو تمام متعلقہ فریقوں سے آراء اور تجاویز حاصل کرنے کے لیے عوامی مشاورت کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ اور سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ تمام متعلقہ فریقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی آراء اور تجاویز ارسال کریں۔
مسودۂ گزٹ نوٹیفکیشن درج ذیل لنک پر دستیاب ہے: https://egazette.gov.in/WriteReadData/2026/273896.pdf
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9256
(रिलीज़ आईडी: 2278576)
आगंतुक पटल : 15