وزیراعظم کا دفتر
وزیراعظم کی اسسٹنٹ سکریٹریز کے طور پر تعینات- 2024 بیچ کے آئی اے ایس آفیسر ٹرینیز سے ملاقات
وزیراعظم نے‘ناگرک دیوو بھوا’ پر زور دیتے ہوئے افسران کو نصیحت کی کہ وہ شہریوں کو حکمرانی کے مرکز میں رکھیں
وزیراعظم نے ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے‘ہول آف گورنمنٹ اپروچ’ اختیار کرنے اور محکموں کے درمیان رکاوٹوں کو ختم کرنے پر زور دیا
وزیراعظم کی نوجوان سول سرونٹس سے‘ وکست بھارت@2047 ’کے سفر میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی اپیل
وزیرِ اعظم نے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی طرزحکمرانی کو مستقبل کی انتظامیہ کے اہم محرکات قرار دیا
प्रविष्टि तिथि:
23 JUN 2026 2:13PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے ‘سیوا تیرتھ’ میں مختلف وزارتوں اور محکموں میں اسسٹنٹ سکریٹریز کے طور پر تعینات سن 2024 بیچ کے 183 آئی اے ایس آفیسر ٹرینیز سے ملاقات کی۔
نوجوان آفیسر ٹرینیز نے اپنی فیلڈ ٹریننگ اور مختلف وزارتوں میں وابستگی کے دوران حاصل ہونے والے تجربات وزیراعظم کے ساتھ شیئر کیے۔ افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ دو سالہ فیلڈ تجربے اور انتظامی تربیت کے بعد وہ اب ایک ایسے اہم مرحلہ پر کھڑے ہیں جہاں ان کے فیصلے نہ صرف ان کے اپنے کریئر بلکہ کروڑوں شہریوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی خدمت کا حقیقی امتحان دیانت داری، حساسیت اور عزم کے ساتھ حقیقی زندگی کے حالات کا سامنا کرنے سے شروع ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے نوجوان سول سرونٹس پر زور دیا کہ وہ مضبوط مقصد، اختراعی سوچ اور شہری مرکز حکمرانی کے جذبے کے ساتھ ملک کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں۔ انہوں نے افسران کو تلقین کی کہ وہ ہر انتظامی فائل کے پیچھے موجود انسانی پہلو کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر فائل بے شمار شہریوں کی امیدوں، خدشات اور زندگیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔‘ناگرک دیوو بھوا’ کے منتر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے افسران سے اپیل کی کہ وہ ہر فیصلہ میں شہریوں کو مرکزیت دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکمرانی ہمدردانہ، جوابدہ اور جامع رہے۔
‘ہول آف گورنمنٹ اپروچ’ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بڑے ترقیاتی چیلنجز کو محض الگ الگ محکموں کی سطح پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر اور دیرپا نتائج حاصل کرنے کے لیے مختلف محکموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
‘وکست بھارت 2047 ’ کے ویژن کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے عشروں میں ہر پالیسی اور انتظامی فیصلہ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج بھارت کی ترجیحات میں آتم نربھر بھارت، میک اِن انڈیا، مینوفیکچرنگ کے فروغ، توانائی کے تحفظ اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے جیسے اہم اہداف شامل ہیں۔
وزیرِ اعظم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران طرزحکمرانی میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی نظام ایک عمل پر مبنی ماڈل سے نتائج پر مبنی طرزعمل کی جانب منتقل ہوا ہے۔ انہوں نے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں ڈجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت ( اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے شہریوں کو آسانی اور شفافیت کے ساتھ مختلف خدمات تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈیٹا کو محض اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے لاکھوں لوگوں کی اجتماعی زندگیوں، چیلنجز اور امنگوں کی عکاسی سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ آیا حکومتی پالیسیاں زمینی سطح پر مؤثر نتائج میں تبدیل ہو رہی ہیں یا نہیں۔
وزیرِ اعظم نے ملک کی تعمیر میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ موجودہ بیچ میں 40 فیصد سے زائد افسران خواتین ہیں۔
وزیرِ اعظم نے نوجوان افسران پر زور دیا کہ وہ مسلسل اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ ملک کی تعمیر میں ان کا کردار کس حد تک مؤثر ہے، اور اطمینان عہدوں سے نہیں بلکہ حاصل شدہ اور قابل پیمائش نتائج سے حاصل کریں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان کی توانائی، صلاحیت اور لگن بھارت کے ترقیاتی سفر کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے عملہ ڈاکٹر جتیندر سنگھ، وزیرِ اعظم کے پرنسپل سکریٹری جناب پی کے مشرا، وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری-2 جناب شکتی کانت داس، کابینہ سکریٹری جناب ٹی وی سومناتھن، سکریٹری (ڈی او پی ٹی) محترمہ رچنا شاہ، ڈائریکٹر ایل بی ایس این اے اے جناب سری رام ترنیکانتی اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
********
ش ح- ظ الف- ش ب ن
UR-9074
(रिलीज़ आईडी: 2276995)
आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Manipuri
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada