MIFF banner

ثقافتی ورثے سے امید تک: ابھرتے ہوئے فلم سازوں نے 19ویں ممبئی فیسٹیول میں ہندوستان کے متعدد رنگوں کو فلمایا


نوجوان فلم سازوں نے ایم آئی ایف ایف میں ثقافت، برادری اور تبدیلی کی کہانیوں کے ذریعے ہندوستان کے مختلف جہانوں کی تصویر کشی کی

انیسویں ایم آئی ایف ایف کا ’’ابھرتی ہوئی آوازیں: فلم اسکول ایڈیشن‘‘ (ایمرجنگ وائسس:فلم اسکول ایڈیشن)نامی شعبہ شائقین کو نوجوان فلم سازوں کی نظر سے دنیا کو دیکھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ فرانس اور جرمنی کے مشہور فلم اسکولوں کی فلموں کے ساتھ ساتھ، اس شعبے میں شمال مشرقی خطے سمیت ملک بھر کے فلمی اداروں کی 27 فلمیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ فلمیں مجموعی طور پر ہندوستان کے لوگوں، ثقافتوں اور تجربات کے بھرپور تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں شناخت، ثقافت، خاندان، سماجی مسائل، امید، ہمت اور انسانی رشتوں جیسے وسیع موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان فلموں کی نمائش پورے فیسٹیول کے دوران کی جا رہی ہے۔

اس شعبے میں فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا  (ایف ٹی آئی آئی) پونے کی چار فلمیں؛ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس  آر ایف ٹی آئی) ،کولکتہ کی تین فلمیں؛ اوروول فلم انسٹی ٹیوٹ، تمل ناڈو کی چار فلمیں؛ بیجو پٹنائک فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ،کٹک کی ایک فلم؛ ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا ریجنل گورنمنٹ فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ ،آسام کی دو فلمیں؛ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن(این آئی ڈی)، احمد آباد کی تین فلمیں؛ آر وی یونیورسٹی ،کرناٹک کی چار فلمیں؛ دادا لکھمی چند اسٹیٹ یونیورسٹی آف پرفارمنگ اینڈ ویژول آرٹس، روہتک کی تین فلمیں؛ اور وسلنگ ووڈز انٹرنیشنل ،ممبئی کی تین فلمیں شامل ہیں۔ یہ فلمیں مجموعی طور پر ملک کے مختلف حصوں اور کہانی سنانے کی متنوع روایات کی نمائندگی کرتی ہیں۔

کچھ نمایاں فلمیں مقامی روایات، ثقافت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے علم کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر مرکوز ہیں۔ ایف ٹی آئی آئی کی فلم "اِن سرچ آف اسٹون" (پتھر کی تلاش میں) قدیم مقامات کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو تلاش کرتی ہے اور ان کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔ ایس آر ایف ٹی آئی  کی فلم "بلیک کلے" (سیاہ مٹی) روایتی دستکاری اور مستقبل کے لیے اسے محفوظ رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

کچھ فلمیں روزمرہ کی زندگی کے چیلنجوں پر نظر ڈالتی ہیں۔ ایس آر ایف ٹی آئی  کی فلم "دُرجوگ" (آفت) یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح مالی مشکلات لوگوں کو کٹھن حالات اور مشکل فیصلوں پر مجبور کر دیتی ہیں۔ "دی لاسٹ ہرڈ" (آخری گلہ) نقصان اور بقا کی ایک ایسی کہانی بیان کرتی ہے جس میں لوگ ایک قدرتی آفت کے بعد اپنی زندگیوں کو نئے سرے سے سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

خاندانی اور ذاتی رشتے بھی ان فلموں کے اہم موضوعات ہیں۔ "کیپ آف گڈ ہوپ" (امید کی کرن) پیاروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں اور خاندانوں پر ان کے اثرات پر نظر ڈالتی ہے۔ ناگالینڈ کی فلم "اے ویژول پوئم" (ایک بصری نظم) محبت، یادوں اور ان گہرے رشتوں کو تلاش کرتی ہے جو لوگ اپنے گھر اور وطن سے محسوس کرتے ہیں۔

نوجوانوں کے خواب اور ان کی جدوجہد "ایل-اَرن (تال میل)" میں نظر آتی ہے۔ نوجوان موسیقاروں کی زندگی کے ذریعے یہ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح آرٹ (فن) مشکل ترین وقت میں بھی خود اعتمادی، مقصد اور امید کا باعث بن سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، "ابھرتی ہوئی آوازیں: فلم اسکول ایڈیشن" کے شعبے کی یہ فلمیں ہندوستان اور دنیا کے مختلف حصوں کی کہانیاں بیان کرتی ہیں۔ مقامی برادریوں اور حقیقی زندگی کے تجربات سے جڑی یہ فلمیں نوجوان فلم سازوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں اور انسانوں، ثقافت اور معاشرے پر گہرے خیالات پیش کرتی ہیں۔

****

 ش ح ۔ م م ۔ ج

Uno-8836


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2274795   |   Visitor Counter: 7