MIFF banner

ذاتی سفر سے سماجی حقائق تک: ایم آئی ایف ایف میں ڈاکیومنٹری سنیما کے دائرۂ کار کو وسعت دے رہے ہیں نوجوان فلم ساز

اگر ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف) میں منعقدہ پینل مباحثے ’’کیا نوجوان فلم ساز ڈاکیومنٹریز کو نئی سمت دے رہے ہیں؟‘‘ سے کوئی ایک واضح نتیجہ اخذ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ ڈاکیومنٹری فلم سازی کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

اس مباحثے میں معروف فلم ساز پربل کھاؤنڈ، مصنفہ و فلم ساز پریتی شرما، ابھرتی ہوئی فلم ساز سمپتی داس، اور تجربہ کار فلم ساز و تعلیمی ماہر پروفیسر ہمانشو شیکھر کھتوا نے شرکت کی۔ اس مباحثے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح نئی نسل کے کہانی کار تازہ نقطۂ نظر، تکنیکی جدت اور سماجی حقائق سے گہری وابستگی کے ذریعے ڈاکیومنٹری کے دائرہ کار کو نئی شکل دے رہے ہیں۔اس نشست کی نظامت جناب پنکج سکسینہ، آرٹسٹک ڈائریکٹر، فلم فیسٹیولز، این ایف ڈی سی نے کی۔

پروفیسر ہمانشو شیکھر کھتوا نے کہا کہ آج کے نوجوان فلم سازوں کو فلم سازی کے آلات اور پلیٹ فارمز تک غیر معمولی رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ ایک خیال تیار کرتے ہیں اور فوراً تخلیق کا آغاز کر دیتے ہیں۔ سابقہ نسلوں کے برعکس وہ مکمل طور پر فلمی میلوں پر نمائش کے لیے انحصار نہیں کرتے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ناظرین تک پہنچنے کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا ڈاکیومنٹری کہانی بیان کرنے پر بڑھتا ہوا اثر فلم سازی میں معیار اور تنوع کو مزید بہتر بنائے گا۔

بیجُو پٹنائک فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف اڈیشہ کے موجودہ سربراہ نے نئی نسل کی بامقصد کہانی سنانے کے عزم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’نوجوان فلم ساز اپنی زندگیوں اور اردگرد کے معاشرے کے بارے میں گہری خود احتسابی رکھتے ہیں۔ وہ سماجی مسائل کے لیے انتہائی سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکیومنٹری فلم سازی کا مستقبل بہت روشن ہے اور آنے والے برسوں میں یہ نمایاں طور پر ترقی کرے گا۔‘‘

نوجوان فلم ساز سمپتی داس، جن کی دو فلمیں ایم آئی ایف ایف میں دکھائی گئیں، نے نوجوانوں میں ڈاکیومنٹری فلم سازی کے بارے میں مزیدبیداری  پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے خواہش مند فلم ساز اس میڈیم کے مواقع سے ناواقف رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ڈاکیومنٹریز صرف تجارتی سنیما کا متبادل نہیں ہیں؛ یہ فلم سازوں کو غیر معمولی بلندیوں تک بھی لے جا سکتی ہیں۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے ڈاکیومنٹری پروڈکشن کی محنت طلب نوعیت پر بھی روشنی ڈالی اور پروڈیوسرز سے اپیل کی کہ وہ ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ پر زیادہ اعتماد کریں۔

آزاد فلم ساز اور مصنفہ پریتی شرما نے ڈاکیومنٹریز بنانے میں درکار لگن کو اجاگر کیا، جو اکثر مشکل حالات میں انجام دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بہت سے فلم ساز محدود وسائل، مالی مشکلات اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود ڈاکیومنٹری بنانے میں برسوں لگا دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی محنت ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان فلموں کو ناظرین تک کیسے پہنچایا جائے۔‘‘انہوں نے یوٹیوب سے آگے بڑھ کر نمائش اور تقسیم کے لیے مزید باقاعدہ پلیٹ فارمز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شمال مشرقی بھارت کی مقامی برادریوں کی دستاویزی فلم سازی کے اپنے تجربات کی بنیاد پر نیشنل ایوارڈ یافتہ فلم ساز پربل کھاؤنڈ نے ڈاکیومنٹری فلم سازی میں درکار صبر، ثقافتی حساسیت اور استقامت پر روشنی ڈالی۔ قبائلی روایات اور رسومات کی عکسبندی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کو اپنانا چاہیے تاکہ ڈاکیومنٹری فلم سازوں کا کام زیادہ آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔

نشست کے منتظم پنکج سکسینہ نے ناظرین کے نقطۂ نظر میں آنے والی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب ڈاکیومنٹریز کو اکثر بوریت سے منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’آج نوجوان فلم ساز ذاتی تجربات، انسانی جدوجہد اور سماجی تبدیلی پر مبنی کہانیاں پیش کر رہے ہیں۔ ان کا جذبہ اور سچائی اس کی ہیئت  تبدیل کررہی ہے۔‘‘

مباحثے میں ہائبرڈ ڈاکیومنٹریز اور ڈاکو فکشن جیسے ابھرتے ہوئے اندازوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پوری بحث سے یہ مشترکہ تاثر ابھرا کہ موجودہ دور کے ڈاکیومنٹری فلم ساز روایتی رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر انسانی جذبات، ذاتی سفر اور حقیقی زندگی کے تجربات سے گہرا تعلق قائم کر رہے ہیں۔یہ جذباتی سچائی، تکنیکی جدت اور سماجی وابستگی کے امتزاج کے ساتھ مل کر ڈاکیومنٹریز کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ناظرین تک پہنچانے میں معاون ثابت ہورہی ہے۔

***

ش ح ۔ع و۔اش ق

U. No. 8827


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2274711   |   Visitor Counter: 13