صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدرِ جمہوریہ نے مدھیہ پردیش کے بیتول میں‘‘روحانی بیداری کے ذریعے قبائلی برادری کو بااختیار بنانے‘‘ کی تقریب میں شرکت کی
ترقی اور روایتی اقدار کے درمیان توازن ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد تشکیل دیتا ہے
प्रविष्टि तिथि:
18 JUN 2026 3:29PM by PIB Delhi
صدرِ جمہوریہ، محترمہ دروپدی مرمو نے آج (18 جون 2026) مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول میں پراجاپتا برہما کمارس ایشوریا وشو ودیالیہ کی جانب سے منعقدہ ’’روحانی بیداری کے ذریعے قبائلی معاشرے کو بااختیار بنانے‘‘ کی تقریب میں شرکت کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ آج کی تیز رفتار دنیا، جو صارفیت (کنزیومر کلچر) کے رجحان سے متاثر ہے، میں معاشرے کے ہر طبقے کے لیے روحانی پاکیزگی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اسی بنیاد پر ایک مساوات پر مبنی طرزِ عمل اور قدرتی وسائل کے بارے میں حساس طرزِ زندگی تشکیل دی جا سکتی ہے جو طویل مدت تک پائیدار ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دنیاکشیدگی اور تنازعات سے دوچار ہے، اس لیے اس ضرورت کی اہمیت تاریخ میں پہلے کبھی اتنی زیادہ نہیں رہی۔ ایسے حالات میں ’’روحانی بیداری کے ذریعے قبائلی معاشرے کو بااختیار بنانے‘‘ جیسی کانفرنسیں مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ قبائلی برادریوں کا طرزِ زندگی فطری طور پر روحانیت کی بنیادی تحریکات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ قدرتی وسائل کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ایک پیدائشی قوت ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں عالمی بھلائی کے لیے وقف سوچ اور طرزِ حیات کو فروغ دیتا ہے۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اسی نقطۂ نظر کے تحت برہما کماری نامی یہ ادارہ ملک کے مختلف حصوں میں طویل عرصے سے قبائلی برادریوں کے ساتھ مل کر اہم کام انجام دے رہا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ جو بھی ادارہ بھارتی زندگی کی اقدار کے مطابق کام کرتا ہے، اسے ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کو بااختیار بنانا صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں ہو سکتا۔ حقیقی خود انحصاری اس وقت حاصل ہوتی ہے جب فرد خود اعتمادی، خود شناسی اور شعور کے ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہوئے کام کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ روحانی بیداری افراد کو اپنی اندرونی صلاحیتوں کا ادراک کرنے میں مدد دیتی ہے اور انہیں مثبت سوچ اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد سے جوڑتی ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ترقی اور روایتی اقدار کے درمیان توازن ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد تشکیل دیتا ہے۔ بامعنی ترقی وہ ہے جو ہماری جڑوں اور بنیادی اقدار سے غذا حاصل کرے اور ساتھ ہی انہیں مزید مضبوط بھی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اس ہمہ گیر نقطۂ نظر کے ساتھ کام کریں گے تو معاشرے میں ہم آہنگی اور مساوات کی ایک مضبوط لہر پیدا ہوگی۔ تب ہی ہم جامع ترقی کے لیے نئے معیارات قائم کر سکیں گے۔
صدرِ جمہوریہ نے سب سے اپیل کی کہ وہ مزید عزم کے ساتھ مل کر 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کریں، جہاں روحانیت، سماجی ہم آہنگی، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی فلاح و بہبود ہماری جامع ترقی کے بنیادی ستون ہوں۔
صدرِ جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
ش ح ۔ع و۔اش ق
U. No. 8822
(रिलीज़ आईडी: 2274623)
आगंतुक पटल : 19