MIFF banner

دستاویزی فلم کا سفر 'خوش آئند حوادث' سے بھرا ہوتا ہے؛ 19ویں ایم آئی ایف ایف میں فلم کے ذریعے یادوں کو محفوظ کرنے کے فن پر ماہرین کی گفتگو


دستاویزی فلموں کے ذریعہ نئی نسلوں کے لیے تاریخ، ثقافت اور انسانی تجربات کو محفوظ بنایا جاتا ہے

ممبئی، 17 جون 2026

انڈین ڈاکیومنٹری پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ڈی پی اے) کی جانب سے 19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف) کے دوران ایک اوپن فورم کا اہتمام کیا گیا، جس کا موضوع " دستاویزی فلم بحیثیت انسانوں، لمحات اور یادوں کو محفوظ کرنے کا ذریعہ"  تھا۔ اس نشست میں تاریخ، ثقافت اور اجتماعی یادوں کو محفوظ کرنے میں دستاویزی فلموں کے کردار پر تبادلہ خیال کرنےکے واسطے فلم سازوں سریش شرما، سنجیت نارویکر، روپا بروا اور امریش رائے چودھری کے ساتھ ساتھ ریڈیو پریزنٹر یونس خان نے شرکت کی۔

پینل کے شرکاء نے دستاویزی فلم بنانے کے عمل کواجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دستاویزی فلمیں نہ صرف وقوعات اور افراد کے ریکارڈ کے طور پر کام کرتی ہیں، بلکہ یہ سماجی، ثقافتی اور تاریخی تجربات کے اہم آرکائیوز (دستاویزی  آثار) کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔

جناب سریش شرما نے دستاویزی فلم سازی میں تحقیق، حقائق کی چھان بین اور بیانیے کے مضبوط خاکے (نیریٹو اسٹرکچر) کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دستاویزی فلمیں اس وقت یادگار بنتی ہیں جب وہ اپنے موضوعات کی جدوجہد اور حساسیت پر محیط ہوتی ہیں اور انہوں نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ تحقیق کے دوران ہونے والے نئے انکشافات اکثر فلم کے بیانیے کو نیا رخ دے دیتے ہیں۔

جناب سنجیت نارویکر نے دستاویزی فلموں کو "خوش آئند حوادث "کا ایک سلسلہ قرار دیا، جہاں کسی ایک کہانی کی تلاش اکثر غیر متوقع دریافتوں کی طرف لے جاتی ہے۔ انہوں نے نئے زاویوں کو تلاش کرنے اور نئی معلومات کی بنیاد پر کہانیوں کو ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔

محترمہ روپا بروا نے  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں اور مقامات کی کہانیاں بیان کرنے کے لیے بنائی جانے والی فلمیں وقت کے ساتھ ساتھ اکثر قیمتی دستاویزی ریکارڈ بن جاتی ہیں۔ اپنی فلموں 'رائڈرس آف دی مِسٹ' اور 'ڈاٹرس آف دی پولو گاڈ'  کے حوالے سے  انہوں نے قصہ نگاری کی اہمیت اور فلم کی رفتار کو متوازن رکھ کر ناظرین کی توجہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

جناب یونس خان نے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں ریڈیو دستاویزی فلموں کے کردار پر بات کی۔ انہوں نے فنکاروں کے سفر کو دستاویزی شکل دینے اور ہندوستان بھر کی لوک موسیقی، ادب اور دیگر ثقافتی روایات کو محفوظ کرنے میں وودھ بھارتی  کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

امریش رائے چودھری نے دستاویزی فلم سازی میں آرکائیول ریسرچ (دستاویزی تحقیق) کی اہمیت پر زور دیا اور 'نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا' جیسے اداروں کی قدر و قیمت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تاریخی موضوعات کو قلمبند کرتے وقت حقائق کی درستگی اور محتاط تصدیق کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پینل کے شرکاء نے اظہار خیال کیا کہ جس چیز کا آغاز کہانی کی تلاش سے ہوتا ہے، وہ اکثر آگے چل کر ثقافت، یادوں اور سماجی تبدیلی کا ایک اہم آرکائیو (ریکارڈ) بن جاتی ہے۔ یادوں، روایات اور زندگی کے تجربات کو قید کر کے، دستاویزی فلمیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتی ہیں کہ تاریخ صرف تحریری ریکارڈ سے آگے تک محفوظ رہے۔ اس نشست کا اختتام سامعین کے ساتھ بامعنی گفتگو پر ہوا، جس کا محور دستاویزی تحقیق، آرکائیوز کے طریقہ کار اور فلم کے ذریعے یادوں کو محفوظ کرنے کی اہمیت پرتھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ش ع۔ ن م۔

U- 8798


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2274420   |   Visitor Counter: 4