MIFF banner

لداخ سے دُنیا تک: نامور فلم سازوں نے مِف 2026 میں شامل فلم سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا


فلم سازی ہر بچے کی آواز بننی چاہیے: شویتا پارکھ اور جتیندر مشرا

ممبئی، 17 جون 2026

فلم کی وہ تبدیلی لانے والی طاقت جو سمجھ کو فروغ دینے، تنوع کا جشن منانے اور ان سنی آوازوں کو بلند کرنے میں مدد دیتی ہے، آج 19 ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (مِف) 2026 کے موقع پر پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے ذریعے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مرکزِ نگاہ رہی۔

دستاویزی فلم ’نایاب – تھرو دی ٹیچرز لینس‘ اور مختصر افسانوی فلم ’سونا اور سونم کے سپنے‘ (لٹل بگ ڈریمز) سے وابستہ فلم سازوں، ماہرینِ تعلیم اور پروڈیوسروں نے زور دیا کہ فلم سازی کو ہر بچے کے لیے بااختیار بنانے والا ایک ذریعہ ہونا چاہیے۔

اس سیشن میں فلم ساز شویتا پارکھ، ماہرِ تعلیم اور پروجیکٹ مینٹور سواتی پوپٹ وتس، نامور فلم ساز اور پروجیکٹ مینٹور پاٹھک وتس، اور قومی ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر جتیندر مشرا نے شرکت کی۔ پینلسٹوں نے فلموں کی تیاری کے بارے میں اپنی بصیرتیں شیئر کیں اور بچوں میں شمولیت، تخلیقی صلاحیتوں اور اعتماد کو فروغ دینے میں کہانی سنانے کے کردار پر روشنی ڈالی۔

نایاب – تھرو دی ٹیچرز لینس کی ہدایت کار شویتا پارکھ نے بنیادی سطح پر کہانی سنانے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو اسکرین پر اپنی حقیقتیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ مقامی ثقافتوں میں جڑی کہانیاں بچوں کو ان کی شناختوں، روایات اور برادریوں سے جوڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ ایسی کہانیاں خود اظہار اور مکالمے کے لیے بامعنی جگہیں بھی تخلیق کرتی ہیں۔

شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سواتی پوپٹ وتس نے کہا کہ معاشرے کو لیبلوں سے آگے بڑھ کر تمام بچوں کی مشترکہ خواہشات، جذبات اور صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے۔ ’سونا اور سونم کے سپنے‘ (لٹل بگ ڈریمز) کی مرکزی کردار پر غور کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ نوجوان لڑکی محض تعلیم یا آزادی حاصل نہیں کر رہی تھی، بلکہ وہ ’زندگی کا پیچھا‘ کر رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ فقرہ فلم کے گہرے انسانی اور پرامید پیغام کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

فلم ساز اور فلم فیئر ایوارڈ یافتہ پاٹھک وتس نے فلم سازی کے ایک طاقت ور تعلیمی آلے کے طور پر کردار پر زور دیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ فلمیں محض تفریح سے کہیں زیادہ کام کرتی ہیں۔ انھوں نے فلم سازی کو عملی تعلیم کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمدردی کو فروغ دے سکتی ہے، نقطہ نظر کو وسعت دے سکتی ہے اور سماجی رویوں کو تشکیل دے سکتی ہے۔

’سونا اور سونم کے سپنے‘ (لٹل بگ ڈریمز) کے سفر کو شیئر کرتے ہوئے قومی ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر جتیندر مشرا نے مقامی کہانیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی اپیل کو اجاگر کیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بچوں نے خود فلم سازی کے سفر میں فعال طور پر حصہ لیا۔ انھوں نے نہ صرف اداکاروں کے طور پر بلکہ کہانی کاروں اور تخلیق کاروں کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کیا۔

مشرا نے مزید کہا کہ مقامی ثقافتوں میں جڑی کہانیوں میں عالمی سطح پر سامعین سے گونج پیدا کرنے کی طاقت ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کنز فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش کے بعد اس فلم کو پہلے ہی ممتاز بین الاقوامی فلمی میلوں سے دعوت نامے مل چکے ہیں۔ یہ فلم آنے والے مہینوں میں کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر دکھائی جائے گی۔

اس بحث نے ایک مشترکہ فلسفے کو اجاگر کیا جو دونوں فلموں میں جھلکتا ہے: حدود سے توجہ ہٹا کر امکانات پر توجہ مرکوز کرنا۔ پینلسٹوں نے زور دیا کہ خصوصی ضرورتوں والے بچوں کو ان کی صلاحیتوں، ہنروں اور خاندانوں، کلاس رومز اور برادریوں میں ان کی شراکت کے لیے پہچانا جانا چاہیے۔ انھیں لیبلوں یا سمجھی جانے والی رکاوٹوں سے متعین نہیں کیا جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس کا اختتام پینلسٹوں کے اس یقین پر ہوا کہ بچوں کی فلم سازی کو روایتی تفریح سے آگے بڑھ کر شمولیت، افہام اور سماجی تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 8775


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2274291   |   Visitor Counter: 4