وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم نے فرانس کے صدر کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کی

प्रविष्टि तिथि: 14 JUN 2026 8:37PM by PIB Delhi

14 جون 2026 کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے نیس میں واقع ویلا کیرلیوس میں فرانس کے صدر جناب ایمانوئیل میخواں کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی۔ اس سال کے آغاز میں بھارت اور فرانس کے تعلقات کو ’’خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کے درجے تک بلند کیے جانے کے بعد یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے دفاعی تعاون کے تمام شعبوں میں توسیع پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، خصوصاً دفاعی نظاموں اور جدید ٹیکنالوجیوں کے مشترکہ خاکہ سازی، مشترکہ تیاری اور مشترکہ پیداوار پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے خلائی شعبے میں تعاون کی مضبوط روایت کا ذکر کیا اور انسانی خلائی پروازوں اور خلائی حالات سے آگاہی کے میدان میں اشتراک بڑھانے پر گفتگو کی۔ انہوں نے خلائی شعبے میں نجی اداروں کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔شہری جوہری توانائی کے شعبے میں دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اظہار کیا کہ بھارت کا شانتی ایکٹ ،چھوٹے اور جدید ماڈیولر ری ایکٹروں سمیت نئے تعاون کے مواقع پیدا کرتا ہے۔

’’ہوریزن 2047 روڈ میپ‘‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے معاشی ترقی، ٹیکنالوجی اور اختراع، افرادی صلاحیتوں کی نقل و حرکت اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مختلف عملی تجاویز پر بھی غور کیا۔اس موقع پر انہوں نے دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کا ذکر کیا اور آئندہ پانچ برسوں میں تجارت کو دوگنا کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے بھارت اور یورپی اتحاد کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو جلد از جلد نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔رہنماؤں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، ہوابازی اور ریلوے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کانپور میں ہوا بازی کی صنعت کے لیے مہارتوں کی تربیت کے سینٹرآف ایکسیلنس کے قیام کے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔

معاشی تحفظ کے بارے میں مذاکرات کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے بالخصوص اہم معدنیات کے شعبے میں رسد کے سلسلوں کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنانے پر اتفاق کیا۔اختراع اور ٹیکنالوجی کی دوطرفہ تعلقات میں اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس شراکت داری کو طویل مدتی سمت فراہم کرنے کے لیے ’’اختراع روڈ میپ 2030‘‘ کو اختیار کیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا اور اس مقصد کے لیے مشترکہ بھارت۔فرانس مصنوعی ذہانت ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔نیس میں دونوں رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ طور پر ’’بھارت اختراع کرتا ہے‘‘ پروگرام کا افتتاح اور وزیرِ اعظم کی پیرس میں ’’ویوا ٹیک‘‘ میں متوقع شرکت نے جدید ٹیکنالوجی،سیمی کنڈکٹررس، زرعی ٹیکنالوجی، طبی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، دفاع اور خلائی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے فرانس میں متحدہ ادائیگی نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال اور دونوں ممالک کے اختراعی اداروں کے درمیان انیس معاہدوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے عوامی سطح پر روابط کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے فرانسیسی ہوائی اڈوں پر بھارتی شہریوں کے لیے بغیر ویزا عبوری سفر کی سہولت جلد نافذ کرنے پر صدر میخواں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باصلاحیت افراد اور طلبہ کی ایک دوسرے ممالک میں جانے کی پہل میں اضافے اور تعلیمی اسناد کی باہمی منظوری کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے طریقوں پر بھی گفتگو کی۔وزیرِ اعظم نے نئی تعلیمی پالیسی کے تحت فرانسیسی یونیورسٹیوں کو بھارت میں اپنے تعلیمی مراکز قائم کرنے کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے لوتھل میں قائم قومی بحری ورثہ کمپلیکس سمیت عجائب گھروں اور ثقافتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین کی صورتِ حال سمیت عالمی اہمیت کے مختلف امور پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے ایویان میں منعقد ہونے والے آئندہ جی۔7 سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور اجلاس سے قبل اہم مشاورت میں بھارت کو شامل کرنے پر صدر میخواں کا شکریہ ادا کیا۔

 

دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔فرانس خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری دونوں ممالک کے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور عالمی امن، استحکام اور خوش حالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وزیر اعظم اور صدر میخواں نے فرانسیسی فنکار تھیبو دی لا لانس اور تھیوفیل دی باشے کی تخلیق کردہ فن پاروں کا بھی مشاہدہ کیا۔ یہ فن پارے جے پور میں دس روزہ فنّی قیام کے دوران تخلیق کیے گئے تھے۔ فنکاروں نے بھارتی تہذیب، ورثے اور جمالیاتی روایات سے تحریک حاصل کی، جس کے نتیجے میں ایسے فن پارے وجود میں آئے جو بھارت اور فرانس کے ثقافتی امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

مذاکرات کے اختتام پر صدر میخواں نے وزیر اعظم مودی کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔

********

ش ح۔ ع ح۔ ش ب ن

U-NO-8604


(रिलीज़ आईडी: 2272836) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam