ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

 مودی حکومت کے 12 سال: عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان کو کھاد کے شعبے میں خود کفیل بنانے کا سفر


زرعی زمین کا تحفظ: وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن نے ریکارڈ کھاد پیداوار کو ممکن بنایا اور کسانوں کو عالمی بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھا

آتم نربھر بھارت کو بڑی تقویت: خریف 2026 کے لیے پیشگی ذخیرہ 51 فیصد سے تجاوز، ہندوستان کی درآمدات پر انحصار میں نمایاں کمی

प्रविष्टि तिथि: 14 JUN 2026 6:22PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران محکمۂ کھاد نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کے نتیجے میں  آتم نربھر  بھارت  کی جانب تیزی سے آگے بڑھا ہے اور ملک کے اَنّ داتاؤں (کسانوں) کو عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے غیر معمولی بحرانوں اور اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھا گیا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی تنازعات کے باعث کھاد کی عالمی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، قدرتی گیس کی شدید قلت اور شپنگ نظام میں تاخیر کے باوجود حکومت ہند نے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے ملک میں کھاد کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا۔

2014 سے 2026 تک غیر معمولی کامیابیاں اور گھریلو پیداوار میں زبردست اضافہ

یوریا پلانٹس میں انقلاب:

سال 2014 کے بعد ملک میں یوریا کے چھ نئے بڑے پلانٹس قائم کیے گئے، جن سے سالانہ پیداواری صلاحیت میں 76.2 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا۔ مزید دو جدید اور اعلیٰ صلاحیت کے یوریا پلانٹس، جن کی مشترکہ سالانہ صلاحیت 25.4 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جلد پیداوار شروع کرنے والے ہیں۔

یوریا کی ریکارڈ پیداوار:

ہندوستان میں یوریا کی گھریلو پیداوار 15-2014 میں 225 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 24-2023 میں ریکارڈ 314.07 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ مالی سال 25-2024 میں بھی پیداوار 306.67 لاکھ میٹرک ٹن کی بلند سطح پر برقرار رہی۔

فاسفیٹک اور پوٹاشک کھادوں میں اضافہ:

یوریا کی طرح فاسفیٹک اور پوٹاشک (پی اینڈ کے) کھادوں کی پیداوار بھی تاریخی سطح تک پہنچ گئی۔ مالی سال 25-2024 میں ان کی پیداوار 211.22 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جبکہ 15-2014 میں یہ 159.54 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔ سرکاری اور نجی شعبے مزید جدید پیداواری یونٹس قائم کر رہے ہیں۔

بحران کے دوران مؤثر انتظام اور خریف 2026 کے لیے ریکارڈ ذخیرہ

آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ میں رکاوٹوں کے پیش نظر حکومت نے متبادل تجارتی راستوں کی تلاش اور عالمی سپلائرز سے براہ راست رابطوں کے ذریعے خام مال کی فراہمی یقینی بنائی۔

جناب نریندر مودی کی براہ راست رہنمائی میں مختلف سیکریٹریوں کے سات بااختیار گروپ تشکیل دیے گئے۔ سیکریٹری کھاد نے 10 اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاسوں کی قیادت کی، جبکہ وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے تعاون سے گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل حل کیے گئے۔

تاریخی بفر اسٹاک:

خریف 2026 کے لیے محکمہ زراعت کی جانب سے 383.9 لاکھ میٹرک ٹن ضرورت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ اس وقت ملک میں تقریباً 195.79 لاکھ میٹرک ٹن کھاد دستیاب ہے۔ سیزن کے آغاز پر مجموعی ذخیرہ تقریباً 200.98 لاکھ میٹرک ٹن ہوگا، جو کل ضرورت کا 51 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ یہ روایتی 33 فیصد بفر معیار سے کہیں زیادہ ہے۔

بحران کے بعد اضافی دستیابی:

بحران کے بعد گھریلو پیداوار 118.15 لاکھ میٹرک ٹن رہی۔ اس کے ساتھ اسٹریٹجک درآمدات اور کامیاب عالمی ٹینڈرز کے نتیجے میں کھاد کی مجموعی دستیابی میں 153.79 لاکھ میٹرک ٹن کا خالص اضافہ ہوا۔

کسانوں کو قیمتوں کے جھٹکوں سے مکمل تحفظ

مودی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں کے شدید اضافے کے باوجود کسانوں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔

  • یوریا: عالمی منڈی میں ایک بوری کی قیمت 4100 روپے سے زیادہ ہے، لیکن ہندوستانی کسانوں کو 45 کلوگرام کی بوری صرف 266.50 روپے میں فراہم کی جا رہی ہے۔
  • ڈی اے پی: عالمی قیمت 5000 روپے فی 50 کلوگرام بوری سے زیادہ ہونے کے باوجود کسانوں کو یہ کھاد صرف 1350 روپے میں دستیاب ہے۔

پائیدار اور ماحول دوست زراعت کی جانب پیش رفت

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’دھرتی ماں‘‘ کے تحفظ اور غذائی اجزاء کے متوازن استعمال کے وژن کے تحت مارچ سے مئی تک ملک گیر بیداری مہم چلائی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

  • فورٹیفائیڈ آرگینک مینور (ایف او ایم)، لیکوئیڈ ایف او ایم (ایل ایف او ایم) اور فاسفیٹ رچ آرگینک مینور (پی آر او ایم) جیسی ماحول دوست کھادوں کی فروخت مالی سال 2025-26 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں سات گنا بڑھ گئی۔
  • امونیم سلفیٹ کے استعمال میں تقریباً 60 ہزار ٹن کا اضافہ ہوا۔
  • کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) کی تکنیکی رہنمائی میں ریکارڈ 1.84 لاکھ ہیکٹر رقبے پر گرین مینورنگ متعارف کرائی گئی۔

نتیجہ

ہندوستان کا کھاد کا نظام اس وقت مضبوط، مستحکم اور مؤثر انداز میں منظم ہے۔ تمام بڑی اقسام کی کھادوں کی دستیابی ضروریات سے زیادہ برقرار ہے، جبکہ گھریلو پیداوار مسلسل نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ حکومت ہند کی دور اندیش اور مؤثر حکمت عملی نے ملک کو ایک مضبوط اور بلا تعطل ذخیرہ فراہم کیا ہے، جس سے کسانوں کی زرعی ضروریات بروقت پوری ہو رہی ہیں اور انہیں سبسڈی والی مناسب قیمتوں پر کھاد کی آسان اور یقینی فراہمی میسر ہے۔

*****

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 8595 )


(रिलीज़ आईडी: 2272798) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Kannada , Malayalam