خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ: پیدائش کے وقت عزت و وقار اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم
بی بی بی پی ایک ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے جو سماجی رویّوں میں تبدیلی اور بچیوں کو بااختیار بنانے کو فروغ دے رہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
13 JUN 2026 11:10AM by PIB Delhi
پیدائش کے وقت فراہم کی جانے والی نگہداشت بچے کی زندگی اور ماں کی صحت و فلاح کی بنیاد تشکیل دیتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران بھارت نے صحت کی سہولیات، غذائی معاونت اور ادارہ جاتی زچگی کے نظام کے امتزاج کے ذریعے زچہ و بچہ کی نگہداشت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
حکومت ہند کی فلیگ شپ اسکیم ”بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ“ (بی بی بی پی) ملک بھر میں بچیوں کے تحفظ، بقا اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اس تبدیلی کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔ 22 جنوری 2015 کو شروع کی گئی یہ اسکیم بچوں کی جنس کے تناسب میں کمی اور صنفی امتیاز کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے جواب میں متعارف کرائی گئی تھی۔ یہ اسکیم خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت (ایم ڈبلیو سی ڈی)، وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) اور وزارت تعلیم (ایم او ای) کا مشترکہ اقدام ہے۔
گزشتہ گیارہ برسوں میں بی بی بی پی ایک محدود پالیسی اقدام سے ترقی کر کے ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں سمیت مختلف فریقین کو متحرک کیا ہے۔ یہ اقدام پیدائش کے وقت عزت و وقار، بچیوں کے تحفظ، ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم تک ان کی رسائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، تاکہ ان کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اس اسکیم نے صنفی اشاریوں میں نمایاں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق قومی سطح پر پیدائش کے وقت جنس کا تناسب (ایس آر بی) 2014-15 میں 918 سے بڑھ کر 2024-25 میں 929 ہو گیا ہے۔ یہ صنفی بنیاد پر جنین کے انتخاب کی روک تھام اور ادارہ جاتی زچگی کے فروغ کے لیے جاری مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی بچیوں کی اسکولوں تک رسائی بڑھانے میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ وزارت تعلیم کے یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن کے مطابق ثانوی سطح پر بچیوں کے اندراج کی شرح 2014-15 میں 75.51 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 80.2 فیصد ہو گئی ہے۔
بی بی بی پی بدستور ایک ایسے جامع طرز عمل پر زور دے رہی ہے جو محفوظ اور با وقار پیدائش سے شروع ہو کر ابتدائی بچپن کی نگہداشت، تعلیم اور بچیوں کو بااختیار بنانے تک محیط ہے۔ یہ اسکیم مسلسل بیداری مہمات، سماجی شمولیت اور وزارتوں و ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان اشتراک کے ذریعے رویّوں میں مثبت تبدیلی کو فروغ دیتی ہے۔
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے بی بی بی پی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ بھارت کی ہر بچی کو تحفظ، تعلیم اور بااختیاری فراہم کی جا سکے اور اس طرح خواتین کی قیادت پر مبنی ترقی کے وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
13-06-2026
U: 8566
(रिलीज़ आईडी: 2272472)
आगंतुक पटल : 9