صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے ”پی ایم ایس ایم اے کے 10 سال – نگہداشت کی ایک دہائی“ کے موقع پر ملک گیر تقریبات کا آغاز کیا


جناب جے پی نڈا نے پی ایم ایس ایم اے کے 10 سال مکمل ہونے پر 75 روپے کا یادگاری سکہ اور 5 روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا

بھارت نے زچگی سے متعلق اموات میں 86 فیصد کمی حاصل کی، جو عالمی اوسط سے کہیں بہتر ہے: جناب جے پی نڈا

ادارہ جاتی زچگی کی شرح 90.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ قبل از پیدائش نگہداشت کی کوریج 95.9 فیصد ہو گئی: مرکزی وزیر صحت

प्रविष्टि तिथि: 09 JUN 2026 6:23PM by PIB Delhi

وزارت صحت و خاندانی بہبود کے نمایاں فلیگ شپ پروگرام ”پردھان منتری سرکشت ماترتو ابھیان (پی ایم ایس ایم اے)“ نے آج پورے بھارت میں محفوظ مادریت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی خصوصی خدمات کے 10 سال کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے۔

اس اہم سنگ میل کی یاد میں، مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے آج ”پی ایم ایس ایم اے کے 10 سال – نگہداشت کی ایک دہائی“ کے عنوان سے ملک گیر تقریبات کا آغاز کیا۔ یہ تقریبات پردھان منتری سرکشت ماترتو ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) کے کامیاب نفاذ کے دس برس مکمل ہونے کی علامت ہیں، جو بھارت کے نمایاں فلیگ شپ پروگراموں میں شامل ہے اور جس کا مقصد محفوظ حمل اور صحت مند مادریت کو یقینی بنانا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے کہا کہ یہ سنگ میل پورے ملک کے لیے فخر اور اطمینان کا لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پی ایم ایس ایم اے کے کامیاب نفاذ سے حکومت کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ ملک کے ہر خاندان کے لیے محفوظ مادریت اور نومولود بچوں کی صحت کو یقینی بنایا جائے، جو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کا اہم حصہ ہے۔

 

 

جناب جے پی نڈا نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران پی ایم ایس ایم اے نے نہ صرف ملک بھر میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق خدمات کو مضبوط بنایا ہے بلکہ ایک صحت مند اور زیادہ مضبوط بھارت کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماؤں کی صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ایک صحت مند ملک کی تعمیر اور ”سوستھ بھارت“ کے وژن کے حصول کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

پروگرام کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے بتایا کہ پی ایم ایس ایم اے کا آغاز وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 9 جون 2016 کو کیا تھا۔ اس کا مقصد حاملہ خواتین کو ہر ماہ کی 9 تاریخ کو ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے مفت، جامع اور معیاری قبل از پیدائش نگہداشت کی خدمات فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے نجی اسپتالوں اور طبی ماہرین کے قیمتی تعاون کو بھی سراہا، جنہوں نے رضاکارانہ طور پر حکومت کے ساتھ پی ایم ایس ایم اے کے تحت شراکت داری کی، جس سے خصوصاً پسماندہ علاقوں میں حاملہ خواتین کے لیے ماہر طبی خدمات تک رسائی نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔

مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ قبل از پیدائش نگہداشت محفوظ حمل کے نتائج کو یقینی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے زچہ و بچہ صحت کے فریم ورک کے تحت حاملہ خواتین کو باقاعدہ قبل از پیدائش طبی معائنے فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں پی ایم ایس ایم اے کے تحت ماہرین کی نگرانی میں معائنہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آشا کارکنان حاملہ خواتین کی نشاندہی، نگرانی اور دوران حمل معاونت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

جنوری 2022 میں توسیعی پی ایم ایس ایم اے (ای-پی ایم ایس ایم اے) حکمت عملی کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد زیادہ خطرے والی حمل کی صورتوں کی قریبی نگرانی اور فالو اپ کو یقینی بنانا تھا۔ ای-پی ایم ایس ایم اے کے تحت زیادہ خطرے والی حمل کی صورتوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے، ہر کیس کی انفرادی نگرانی کی جاتی ہے اور زچگی کے بعد 45 دن تک ماں اور بچے کی صحت مند حالت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایس پر مبنی الرٹ اور صف اول کے صحت کارکنان کی اضافی معاونت نے نگہداشت کے تسلسل کو مزید مضبوط بنایا ہے، جبکہ آشا کارکنان کو فراہم کیے گئے اضافی مراعات نے کمیونٹی سطح پر رسائی اور فالو اپ خدمات کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔

ماں اور بچے کی صحت کے میدان میں حاصل شدہ کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے کہا کہ بھارت کی پیش رفت کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ ترین ”یونائیٹڈ نیشنز میٹرنل مورٹیلٹی ایسٹی میشن انٹر-ایجنسی گروپ (یو این-ایم ایم ای آئی جی)“ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1990 سے اب تک زچگی سے متعلق اموات میں 86 فیصد کمی حاصل کی ہے، جو عالمی اوسط 48 فیصد کمی سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات میں 79 فیصد کمی ریکارڈ کی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی 61 فیصد رہی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے ”انٹر-ایجنسی گروپ فار چائلڈ مورٹیلٹی ایسٹی میشن (یو این-آئی جی ایم ای)“ کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2024 کے درمیان نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی 54 فیصد رہی۔

جناب جے پی نڈا نے قومی خاندانی صحت سروے کے تازہ نتائج میں ظاہر ہونے والی بہتری کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی زچگی کی شرح بڑھ کر 90.6 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ قبل از پیدائش نگہداشت حاصل کرنے والی ماؤں کا تناسب 95.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، خدمات کی فراہمی میں بہتری اور خاندانوں میں زچہ صحت سے متعلق بیداری میں اضافے کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ اعداد و شمار محض شماریات نہیں بلکہ ان ماؤں اور نومولود بچوں کی زندگیاں ہیں جو بروقت نگہداشت، ابتدائی مداخلت اور ہمارے صحت کارکنان کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے محفوظ بنائی گئی ہیں۔“

مرکزی وزیر صحت نے ڈاکٹروں، نرسوں، آشا کارکنان، اے این ایم، صف اول کے صحت کارکنان، ریاستی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے ماہرین کی انتھک خدمات کو سراہا، جنہوں نے پی ایم ایس ایم اے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت زچہ صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنائے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملک کی ہر حاملہ خاتون کو دوران حمل اور اس کے بعد بروقت، قابل رسائی اور معیاری طبی سہولیات فراہم ہوں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے پردھان منتری سرکشت ماترتو ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) کے دس سال مکمل ہونے کو بھارت کے محفوظ مادریت اور بہتر زچہ و بچہ صحت کے سفر میں ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پی ایم ایس ایم اے حکومت ہند کے سب سے مؤثر عوامی صحت پروگراموں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے، جس نے ملک بھر میں کروڑوں خواتین اور خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

 

 

محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے اس اقدام کے پس منظر میں موجود وژن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جون 2016 میں پی ایم ایس ایم اے کے آغاز کے فوراً بعد، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جولائی 2016 میں اپنے پروگرام ”من کی بات“ کے دوران سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ ہر ماہ کم از کم ایک دن پی ایم ایس ایم اے کے تحت حاملہ خواتین کو مفت قبل از پیدائش نگہداشت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے وقف کریں۔ انہوں نے کہا کہ طبی برادری کی جانب سے ملنے والا غیر معمولی تعاون اس پروگرام کی کامیابی کی تشکیل میں نہایت اہم ثابت ہوا ہے۔ آج ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 9,000 سے زائد نجی صحت خدمات فراہم کرنے والے ادارے پی ایم ایس ایم اے کے تحت رجسٹرڈ ہیں، جس کے نتیجے میں خصوصاً پسماندہ، دور دراز اور خواہش مند اضلاع میں ماہر قبل از پیدائش نگہداشت تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس اقدام کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری برائے صحت نے کہا کہ اس پروگرام نے ملک میں زچہ و بچہ صحت کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) کے مطابق، بھارت میں زچگی سے متعلق شرحِ اموات (ایم ایم آر) 2014–16 کے دوران فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 130 سے کم ہو کر 2022–24 کے دوران فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 87 رہ گئی، جو 43 پوائنٹ کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات بھی فی 1,000 زندہ پیدائشوں پر 24 سے کم ہو کر 18 رہ گئی ہے، جو ماؤں اور نومولود بچوں کی زندگیاں محفوظ بنانے میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

 

 

انہوں نے مزید کہا کہ قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے تازہ ترین نتائج میں حوصلہ افزا بہتری دیکھی گئی ہے۔ قبل از پیدائش نگہداشت حاصل کرنے والی ماؤں کا تناسب بڑھ کر 95.9 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ کم از کم چار مرتبہ قبل از پیدائش طبی معائنہ کروانے والی خواتین کی شرح 65.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حمل کے پہلے سہ ماہی میں قبل از پیدائش رجسٹریشن کی شرح بڑھ کر 76.2 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ ادارہ جاتی زچگی کی شرح 90.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں صحت خدمات تک بہتر رسائی، محفوظ مادریت سے متعلق آگاہی میں اضافے اور ملک بھر میں خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کی عکاس ہیں۔

محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے زور دے کر کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پی ایم ایس ایم اے کا دائرۂ کار بے مثال رہا ہے۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک اس کے تحت 7.5 کروڑ سے زائد قبل از پیدائش طبی معائنے کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 1.2 کروڑ زیادہ خطرے والی حمل کی صورتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان زیادہ خطرے والی حمل کی بروقت شناخت کے باعث مناسب ریفرل، ماہرین کی مداخلت اور مؤثر نگرانی ممکن ہو سکی، جس سے ماؤں اور نومولود بچوں دونوں کے لیے بہتر نتائج یقینی بنائے گئے۔

 

 

انہوں نے مزید کہا کہ توسیعی پی ایم ایس ایم اے (ای-پی ایم ایس ایم اے) حکمت عملی کے آغاز نے زیادہ خطرے والی حمل کی نشاندہی ہونے کے بعد فالو اپ اور نگہداشت کے تسلسل کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ان کوششوں کی تکمیل کرتے ہوئے، پی ایم ایس ایم اے اور ای-پی ایم ایس ایم اے کے تحت ماہرین کی نگرانی میں فراہم کی جانے والی قبل از پیدائش نگہداشت کی خدمات اور مضبوط ریفرل نظام نے ماؤں اور نومولود بچوں کی بقا کی شرح میں بہتری لائی ہے، زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے لیے تیاری کو مؤثر بنایا ہے اور ”جننی سرکشا یوجنا (جے ایس وائی)“، ”جننی ششو سرکشا کاریہ کرم (جے ایس ایس کے)“ اور ”پردھان منتری ماتر وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی)“ جیسی نمایاں زچہ بہبود اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ استفادے کو فروغ دیا ہے۔

مرکزی سیکریٹری برائے صحت نے صحت کارکنان، آشا کارکنان، اے این ایم، ڈاکٹروں، ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے رضاکاروں کی کوششوں کو سراہا، جن کی لگن اور خدمات نے پی ایم ایس ایم اے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ پروگرام محفوظ مادریت کے فروغ اور ملک بھر میں زچہ و بچہ صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریبات کے حصے کے طور پر 9 جون 2026 سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں آگاہی اور عوامی رابطہ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ حاملہ خواتین اور ان کے خاندانوں کو پی ایم ایس ایم اے کے تحت دستیاب نو یقینی مفت خدمات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جا سکے اور بروقت و معیاری قبل از پیدائش نگہداشت کی اہمیت کو فروغ دیا جا سکے۔

 

 

اس موقع پر جناب جے پی نڈا نے پی ایم ایس ایم اے کے دس سال مکمل ہونے کی یاد میں 75 روپے کا خصوصی یادگاری سکہ اور 5 روپے کا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا، تاکہ ملک میں زچہ صحت کو مضبوط بنانے میں اس پروگرام کے کردار کو سراہا جا سکے۔

اس تقریب میں مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود محترمہ انوپریہ پٹیل، بھارت میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندہ ڈاکٹر ایوان جے ایف ہیوٹن، ایڈیشنل سیکریٹری و منیجنگ ڈائریکٹر این ایچ ایم محترمہ آرادھنا پٹنائک، وزارت مواصلات کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کرنل اکھیلیش کمار پانڈے اور مختلف ریاستوں کے چیف میڈیکل افسران بھی موجود تھے۔

*****

ش ح۔ ف ش ع

U: 8174


(रिलीज़ आईडी: 2270884) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Marathi , English , हिन्दी , Punjabi , Tamil , Telugu