کامرس اور صنعت کی وزارتہ
اے پی ای ڈی اے نے آسام سے جی آئی ٹیگ شدہ تیز پور لیچی کی پہلی کھیپ دبئی روانہ کرنےکی سہولت فراہم کی
प्रविष्टि तिथि:
09 JUN 2026 11:59AM by PIB Delhi
زرعی و پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے)، جو وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت کام کرتی ہے، نے 7 جون 2026 کو آسام سے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ شدہ تیز پور لیچی کی پہلی برآمدی کھیپ دبئی روانہ کرنے میں سہولت فراہم کی۔ یہ پیش رفت شمال مشرقی خطے کی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔
ایک میٹرک ٹن پر مشتمل اس کھیپ میں شامل جی آئی ٹیگ شدہ تیز پور لیچی آسام کی ایک مشہور باغبانی پیداوار ہے، جو اپنی غیر معمولی مٹھاس، چمکدار سرخ رنگ، منفرد خوشبو اور اعلیٰ معیار کے ذائقے کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس خطے میں مختلف معروف اقسام کی لیچی جیسے بمبیا، بلاتی، الائچی، پیازی اور شاہی کی باغبانی کی جاتی ہیں، جو اپنی منفرد خصوصیات کے باعث نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
جغرافیائی شناخت (جی آئی) کے حصول سے تیز پور لیچی کی پہچان اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے آسام کی اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی بھی عکاس ہے کہ بھارت کی جی آئی ٹیگ شدہ زرعی مصنوعات کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قبولیت حاصل ہو رہی ہے اور شمال مشرقی خطہ اعلیٰ قدر کی زرعی پیداوار کے اعتبار سے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اس کھیپ کو باقاعدہ طور پر روانہ کرنے کی تقریب میں تیزپور حلقے کے رکن اسمبلی جناب پرتھوی راج راوا، حکومتِ آسام کی ایگریکلچر پروڈکشن کمشنر محترمہ ارونا راجوریا (آئی اے ایس)، اے پی ای ڈی اے کے چیئرمین جناب ابھیشیک دیو (آئی اے ایس)، ضلع کمشنر سونت پور جناب انندا کمار داس (اے سی ایس) اور ایم/ایس ڈی ایم آر گرین ویلی ایگرو فریش پرائیویٹ لمیٹڈ کے نمائندے موجود تھے۔اس موقع پر کسانوں، برآمد کنندگان، حکومتِ آسام کے حکام، اے پی ای ڈی اے کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ فریقین نے بھی شرکت کی۔
اس اقدام کے نتیجے میں کسانوں کو بہتر منافع حاصل ہوا ہے۔ برآمدی سپلائی چین سے وابستہ کاشتکاروں کو مقامی منڈی میں موجود بڑھتی ہوئی مانگ کے باوجود تقریباً 10 فیصد زیادہ قیمتیں حاصل ہوئیں۔ اس کھیپ نے لیچی کے کاشتکاروں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا کیے ہیں اور توقع ہے کہ اس سے برآمدی بنیاد پر قدر افزائی کے نظام میں مزید شمولیت بڑھے گی، جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اے پی ای ڈی اے شمال مشرقی خطے سے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، معیار کی جانچ اور تصدیق کی سہولت، استعداد کار میں اضافہ کے پروگرام، برآمدی پیداوار کے فروغ اور منڈیوں تک رسائی کے اقدامات کے ذریعے سرگرم عمل ہے۔ ریاستی حکومتوں، کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز)، برآمد کنندگان اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے اے پی ای ڈی اے کسانوں کو عالمی قدر افزائی کے نظام سے جوڑنے اور علاقائی مخصوص زرعی مصنوعات کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کے مواقع پیدا کرنے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
تیز پور لیچی کی دبئی کو کامیاب برآمد آئندہ برسوں میں زیادہ مقدار میں برآمدات کی راہ ہموار کرنے اور آسام کی جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات کی عالمی شناخت کو مزید مضبوط بنانے کی توقع رکھتی ہے۔ یہ اقدام شمال مشرقی خطے سے زرعی برآمدات کے فروغ اور بھارتی کسانوں کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے اے پی ای ڈی اے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
زرعی و پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) کا قیام اے پی ای ڈی اے قانون، 1985 کے تحت وزارتِ تجارت و صنعت کے زیرانتظام عمل میں آیا۔ یہ ادارہ مخصوص زرعی اور پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کا ذمہ دار ہے اور معیار کی بہتری، استعداد کار میں اضافہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور منڈیوں کے فروغ کے ذریعے برآمد کنندگان، کسانوں اور ایف پی اوز کی معاونت کرتا ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے ذریعے اے پی ای ڈی اے بھارتی زرعی مصنوعات میں قدر افزائی، منڈیوں کے تنوع اور برآمدی مواقع میں اضافہ کو فروغ دے رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ت ف۔ع ن)
U. No. 8152
(रिलीज़ आईडी: 2270630)
आगंतुक पटल : 14