کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی توانائی کی منڈیوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت: وِکست بھارت کے لیے کول ایکسچینج کا قیام

प्रविष्टि तिथि: 09 JUN 2026 8:56AM by PIB Delhi

بھارت میں کوئلے کی فراہمی کے نظام کو جدید، شفاف اور زیادہ مؤثر بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے ملک میں کول ایکسچینج کے قیام کی راہ ہموار کر دی ہے۔ حال ہی میں نافذ کیے گئے معدنیات و کان کنی (ترقی و ضابطہ کاری) ترمیمی قانون، 2025 کے ذریعے پہلی بار معدنی ایکسچینج کا تصور متعارف کرایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت مرکزی حکومت کو کوئلے اور اس سے تیار کی جانے والی مصنوعات سمیت مختلف معدنیات کی شفاف، مؤثر اور منڈی کی بنیاد پر تجارت کو فروغ دینے کے اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزارتِ کوئلہ نے 4 جون 2026 کو کول ایکسچینج قواعد، 2026 کو سرکاری گزٹ میں شائع کر دیا ہے۔ یہ قواعد وزارتِ کوئلہ کی ویب سائٹ پر درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:

https://coal.gov.in/sites/default/files/2026-06/09-06-2026a-wn.pdf

اس اقدام پر مؤثر عمل درآمد کے لیے وزارتِ کوئلہ دسمبر 2025 میں ہی کوئلہ نگران تنظیم(سی سی او) کو کول ایکسچینجز کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی کا مجاز ادارہ مقرر کر چکی تھی۔ اس ادارے کی منظوری کے بعد اہل اداروں کو کول ایکسچینج قائم کرنے اور چلانے، منڈی کے قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور کوئلے کی تجارت کو سہولت فراہم کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ رجسٹریشن کی مدت 25 سال ہوگی۔

کول ایکسچینج کا قیام کوئلے کی تجارت کے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ اس کے ذریعے روایتی ’’ایک فروخت کنندہ، متعدد خریدار‘‘ ماڈل کی جگہ ’’متعدد فروخت کنندگان، متعدد خریدار‘‘ پر مبنی مسابقتی تجارتی نظام متعارف ہوگا۔ اس سے کوئلے کی قیمتوں کا تعین شفاف اور منڈی کی طلب و رسد کے مطابق ممکن ہوگا، تجارتی کارکردگی بہتر ہوگی اور کوئلہ پیدا کرنے والوں، بشمول تجارتی اور مخصوص استعمال کے لیے کان کنی کرنے والی کمپنیوں کو زیادہ تعداد میں خریداروں تک رسائی حاصل ہوگی۔ سرکاری شعبے کی کوئلہ کمپنیاں بھی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی منڈی میں موجودگی مزید مضبوط بنا سکیں گی۔

کول ایکسچینج کا یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کاروبار کو مزید آسان بنایا جائے، شفافیت کو فروغ دیا جائے اور ایک جدید، خود کفیل توانائی کا نظام تشکیل دیا جائے۔ زیادہ مسابقتی اور مؤثر کوئلہ منڈی کے قیام سے توانائی کے تحفظ کو تقویت ملے گی،صنعتی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا اور پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے وِکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں نمایاں مدد ملے گی جبکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ توانائی کا شعبہ بھی مضبوط ہوگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  ت ف۔ع ن)

U. No. 8137


(रिलीज़ आईडी: 2270557) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil , Telugu