کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت نے ستمبر 2026 کے بعد بھی یورپی یونین کو آبی زراعت، شہد، انڈے اور حیوانات کی کیسنگ کی برآمدات کے لیے مارکیٹ تک مسلسل رسائی حاصل کی
प्रविष्टि तिथि:
08 JUN 2026 5:54PM by PIB Delhi
بھارت کی زرعی اور سمندری برآمدات کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر، یورپی یونین کے ترمیمی انضباطی فریم ورک کے تحت بھارت کو ستمبر 2026 کے بعد بھی یورپی یونین کو ایکوا کلچر (آبی زراعت) کی مصنوعات، انڈے، شہد اور حیوانات کی کیسنگز برآمد کرنے کے لیے مجاز ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
یورپی یونین نے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر) سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر کمیشن امپلیمینٹنگ ریگولیشن (ای یو) 2026/1189 کے ذریعے ضابطہ (ای یو) 2021/405 میں ایک ترمیم نوٹیفائی کی ہے۔ یہ ترمیم شدہ ضابطہ ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور یورپی یونین کو جانوروں سے حاصل ہونے والی مخصوص مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کے لیے اضافی شرائط کا تعین کرتا ہے۔
مجاز ممالک کی فہرست میں بھارت کی شمولیت ستمبر 2026 کے بعد بھی یورپی یونین کی مارکیٹ میں ان مصنوعات کی برآمدات کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے۔ یہ خاص طور پر ماہی پروری کے شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ بھارت سے یورپی یونین کو مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کی برآمدات کی موجودہ مالیت تقریباً 1.59 ارب امریکی ڈالر ہے۔
یہ پیشرفت محکمۂ تجارت، وزارتِ تجارت و صنعت، حکومتِ ہند کی جانب سے ایکسپورٹ انسپکشن کونسل (ای آئی سی) اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ محکمۂ تجارت ریگولیٹری شرائط اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے یورپی کمیشن کے ساتھ سرگرمی سے وابستہ رہا ہے، جبکہ ای آئی سی نے یورپی یونین کے قوانین کے مطابق معائنے، جانچ اور سرٹیفیکیشن کے طریقۂ کار کو بہتر بنا کر بھارت کے آفیشل کنٹرول سسٹم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
محکمۂ تجارت، ایکسپورٹ انسپکشن کونسل (ای آئی سی) اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بشمول میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) کے ساتھ مل کر، یورپی یونین (ای یو) سے منظور شدہ اداروں اور ریگولیٹری حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ ریگولیٹری شرائط کے آسان نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے اور برآمدی مصنوعات میں معیار اور خوراک کی یقینی فراہمی کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
یورپی یونین کے ترمیمی ضابطے کے تحت بھارت کی شمولیت سے یہ توقع ہے کہ اس سے بھارتی برآمد کاروں کے لیے مارکیٹ تک مسلسل رسائی آسان ہوگی، تجارتی ترقی کو مدد ملے گی اور متعلقہ شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکومتِ ہند برآمدات کو فروغ دینے، ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور یورپی یونین سمیت اپنے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
****
ش ح۔ک ح۔م ا
U-8118
(रिलीज़ आईडी: 2270378)
आगंतुक पटल : 9