وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

دمن میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھنے اور عوام کے نام وقف کرنے کی تقریب میں وزیرِ اعظم کے خطاب کا اردو متن

प्रविष्टि तिथि: 05 JUN 2026 10:05PM by PIB Delhi

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کے منتظم جناب پرفل بھائی پٹیل، پارلیمنٹ میں میری ساتھی محترمہ کالابین ڈیلکر، دمن میونسپل کونسل کی صدر محترمہ دیپیکا ٹنڈیل جی، دمن ضلع پنچایت کے چیئرمین جناب دھرم بابو پٹیل، سلواسا میونسپل کونسل کے چیئرمین جناب سومناتھ دیورے جی، دادرا و نگر حویلی ضلع پنچایت کی چیئرپرسن محترمہ نیشا بھوسر جی، دیو میونسپل کونسل کے چیئرمین جناب ہریش کپاڈیا جی، دیو ضلع پنچایت کی چیئرپرسن محترمہ کوٹیا رنجیتا بین اور یہاں کثیر تعداد میں موجود میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

جس طرح آپ سب یہاں بڑی تعداد میں جمع ہیں، اسی طرح لکشدیپ میں بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ ویڈیو کے ذریعے ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ آج لکشدیپ میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ وہاں ایک ایسے نئے منصوبے کا افتتاح بھی کیا گیا ہے جو لکشدیپ کے عوام کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لائے گا اور متعدد ترقیاتی اسکیموں کے سنگِ بنیاد بھی رکھے گئے ہیں۔

دوستو،

چند برس قبل جب میں آپ کے درمیان آیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ ہمارا دمن تیزی سے ’’منی انڈیا‘‘ بنتا جا رہا ہے۔ آج میں دیکھ رہا ہوں کہ بائیں جانب پورا بنگال موجود ہے اور دائیں جانب پورا آسام نظر آ رہا ہے۔ دمن واقعی ’’منی انڈیا‘‘ کی ایک زندہ مثال بن چکا ہے۔ یہاں کی گوناگونیت، مختلف ریاستوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی موجودگی، آپ کے درمیان پورے بھارت کی ایک خوبصورت جھلک پیش کرتی ہے۔ آپ سب اتنی بڑی تعداد میں یہاں آ کر ہمیں اپنی دعاؤں اور محبتوں سے نواز رہے ہیں، اس کے لیے میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنو،

مجھے دمن اور دیو آنے کا متعدد بار موقع ملا ہے۔ میں دادرا و نگر حویلی بھی آتا جاتا رہتا ہوں۔ جب میں وزیرِ اعلیٰ یا وزیرِ اعظم نہیں تھا، تب بھی کئی مرتبہ یہاں آیا کرتا تھا، لیکن اب جب میں یہاں آتا ہوں اور یہاں کی اچھی حکمرانی اور انتظامی نظام کو دیکھتا ہوں تو بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ہر بار مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ گزشتہ دورے کے مقابلے میں یہ خطہ ترقی کی راہ پر میلوں آگے بڑھ چکا ہے۔

دوستو،

دادرا و نگر حویلی، دمن اور دیو کے عوام نے کئی دہائیوں تک ترقی کے خواب دیکھے تھے۔ وہ نسلیں جو یہ خواب دیکھا کرتی تھیں، وقت کے ساتھ رخصت ہو گئیں۔ لیکن آج موجودہ نسل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ ان کے والدین اور بزرگوں کے خواب ان کے سامنے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ آج بھی یہاں رابطہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت اور شہری بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے اور کئی ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھے گئے ہیں۔ یہ ترقیاتی کام دمن اور پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے عوام کی زندگی کو مزید آسان بنائیں گے۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے پسِ پشت جناب پرفل بھائی پٹیل کے ویژن، ان کی محنت اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک کاوشیں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ اس کے لیے میں پرفل بھائی اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں لکشدیپ اور دادرا و نگر حویلی کے تمام باشندوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔

دوستو،

آج جب میں آپ کے درمیان آیا ہوں تو ایک خوش کن خبر موصول ہوئی ہے۔ میں آج صبح ہی دہلی سے روانہ ہو گیا تھا، لیکن ابھی جو تازہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اور جو خوش خبری ملی ہے، وہ واقعی مسرت بخش ہے اور میں یہ خوشی آپ سب کے ساتھ بھی بانٹنا چاہتا ہوں۔ آج جاری ہونے والے اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کی معیشت کی بنیاد کتنی مضبوط ہے۔ سال 2025-26، یعنی ابھی اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں بھارت نے 7.7 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی ہے۔ اسی طرح 31 مارچ کو ختم ہونے والی آخری سہ ماہی میں بھی بھارت کی معاشی ترقی کی شرح 7.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ ہر بھارتی کو اس پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔ آج ملک اصلاحات کی تیز رفتار راہ پر گامزن ہے۔ ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا بے مثال کام جاری ہے، غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور انہی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج بھارت دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن کر ابھرا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج پوری دنیا مختلف بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ عالمی معیشتیں بے یقینی اور مشکلات کا شکار ہیں، لیکن اس عالمی بحران کے دشوار ترین دور میں بھی 140 کروڑ ہم وطنوں کی اجتماعی کوششوں کی بدولت بھارت نہ صرف اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھنے میں بھی کامیاب ہو رہا ہے۔ معاشی میدان میں اس نئی بلندی کے حصول پر میں تمام اہلِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں ایک بار پھر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا بھر میں درپیش ان چیلنجوں کے باوجود ہمارا ملک ’’اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی‘‘ کے راستے پر مضبوط عزم کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھتا رہے گا۔ یہ میری اپنے ہم وطنوں سے ضمانت ہے۔

دوستو،

آج ہمارے لیے ترقی جتنی اہم ہے، اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ ہمارا ترقیاتی ماڈل پائیدار ہو۔ آج عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ہمارا یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ اس عزم کو عملی شکل دے رہا ہے۔ ایک جانب یہاں ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے اور متعدد منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھے گئے ہیں، تو دوسری جانب ’’ماں کے نام ایک پیڑ‘‘ مہم کے تحت تقریباً ایک لاکھ ایک ہزار پودے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ یہ ایسا مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ ہے جہاں سرکاری عمارتوں میں سو فیصد شمسی توانائی کے استعمال کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ آج دیو میں دن کے وقت بجلی کی پوری ضرورت صرف شمسی توانائی سے پوری کی جا رہی ہے اور اب ہمیں اس کامیابی کو مزید آگے لے جانا ہے۔ شمسی توانائی کے ذریعے نہ صرف گھروں کو بجلی فراہم کی جائے بلکہ اضافی بجلی فروخت کرکے خاندانوں کے لیے آمدنی کے مواقع بھی پیدا ہوں۔ اسی مقصد کے تحت گھروں کی چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام نصب کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ میں ان تمام کامیابیوں پر آپ سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

دوستو،

اس کے ساتھ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آج کل دمن کے عوام صفائی کی ایک خصوصی مہم چلا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صفائی ستھرائی اب دمن کی عوامی زندگی اور تہذیب کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے اور یہی شعور ان عملی کوششوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ میں دمن کے عوام کو اس عوامی شراکت داری پر مبنی کاوش کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

دوستو،

دادرا و نگر حویلی، دمن اور دیو محض ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ ہی نہیں، بلکہ بھارت کی شناخت اور وراثت کا بھی اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے ان کی ترقی کے لیے ہمارے اہداف بھی غیر معمولی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ سال جب میں سلواسا آیا تھا تو میں نے آپ کو سنگاپور کی مثال دی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ ایک زمانے میں سنگاپور ایک چھوٹا سا ماہی گیر گاؤں تھا، لیکن وہاں کے لوگوں نے بڑے خواب دیکھے، بلند اہداف مقرر کیے اور آج وہی سنگاپور دنیا کے سب سے بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ آج دادرا و نگر حویلی، دمن اور دیو بھی اسی طرح کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ نمو ہوائی اڈہ، دمن گنگا دریا پر تعمیر ہونے والا منفرد اور نمایاں پل، ساحلی پٹی پر قائم کیا جانے والا کنونشن مرکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے دراصل مستقبل کے بڑے عزم اور ترقی کے مضبوط سنگِ بنیاد ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے عوام کی آمد و رفت مزید آسان ہوگی، تجارت و کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دمن کے دونوں اطراف ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

دوستو،

اس خطے میں مہمان نوازی اور سیاحتی معیشت سے وابستہ امکانات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، جبکہ ٹرانسپورٹ نگر جیسی سہولتیں تجارت، نقل و حمل اور رسد کے نظام کو بھی نئی رفتار بخشیں گی۔

دوستو،

اس پورے خطے کے لیے ہم نے بحری معیشت کے جس ویژن کا تصور کیا ہے، وہ بھی جدید اور اعلیٰ تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی بدولت ہی حقیقت کا روپ دھار سکے گا۔ اسی مقصد کے تحت آج لکشدیپ کے کلپینی اور کدمت جزائر میں جدید بندرگاہوں کے سنگِ بنیاد بھی رکھے جا رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ملک کی بحری معیشت کو مزید مضبوط بنائیں گے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا، یہ وہ منصوبے ہیں جو لکشدیپ کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوستو،

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور ہماری این ڈی اے حکومت میں ترقی کا پہلا معیار یہ ہے کہ غریبوں، محروم طبقات، قبائلی برادریوں اور متوسط طبقے کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئے۔ اسی مقصد کے تحت صحت کا شعبہ ہماری ترجیحات میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ملک نے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک جامع اور ہمہ گیر ویژن کے ساتھ پیش رفت کی ہے۔ ہم نے علاج معالجے سے متعلق ہر سطح کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج غریب ترین شخص تک بھی آیوشمان کارڈ کی سہولت پہنچ چکی ہے، جس کے ذریعے 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ بیماریوں کی بروقت تشخیص کو یقینی بنانے کے لیے پردھان منتری آیوشمان آروگیہ مندروں کا وسیع نظام قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح جن اوشدھی مراکز کے ذریعے کم قیمت اور معیاری ادویات عوام کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان سہولتوں کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کے لیے آج آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت صحت کی خدمات کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کیا جا رہا ہے۔

دوستو،

صرف آیوشمان کارڈ اور جن اوشدھی مراکز کی بدولت غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے تقریباً دو لاکھ پچیس ہزار کروڑ روپے کے طبی اخراجات کی بچت ممکن ہوئی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے اس خطے کے عوام کو بھی نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہاں معیاری طبی سہولتوں کا فقدان تھا۔ یہاں ایک بھی میڈیکل کالج موجود نہیں تھا، لیکن آج نہ صرف یہاں میڈیکل کالج قائم ہو چکا ہے بلکہ اس میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ سلواسا کا نمو اسپتال گزشتہ سال سے ہزاروں افراد کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ آج دمن میں بھی نمو اسپتال کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس پورے خطے کے عوام کو مزید بہتر اور جدید طبی سہولتوں کا فائدہ حاصل ہوگا۔

دوستو،

صحت کے شعبے کو ہماری حکومت کس قدر ترجیح دے رہی ہے، اس کا اندازہ قومی خاندانی صحت سروے کے نتائج سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بھارت میں زیادہ تر زچگیاں اسپتالوں میں نہیں ہوتی تھیں، لیکن آج ملک میں 90 فیصد سے زائد زچگیاں اسپتالوں میں انجام پا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زچگی کے دوران اموات اور شیر خوار بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مشن اندردھنش کی بدولت بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری کے میدان میں بھی بھارت نے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 2014 سے قبل صرف 60 فیصد بچوں کو مکمل حفاظتی ٹیکے لگ پاتے تھے، جبکہ آج یہ شرح بڑھ کر تقریباً 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ صحت کے تحفظ کے میدان میں بھی ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ 2014 سے پہلے 30 فیصد سے بھی کم خاندان صحت بیمہ اسکیموں سے وابستہ تھے، لیکن آیوشمان بھارت نے اس صورتِ حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ آج ملک کے 60 فیصد سے زائد خاندان اس تحفظ سے مستفید ہو رہے ہیں۔

دوستو،

صحت کے شعبے میں حکومت کی ان کوششوں سے اگر کسی نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے تو وہ میرے ملک کی خواتین طاقت ہیں۔

دوستو،

پہلے اس خطے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں اور ریاستوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، لیکن آج یہاں ایک نہیں بلکہ کئی قومی سطح کے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں نئے اسکولی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور اسکولوں میں جدید ذہین جماعت گاہیں (اسمارٹ کلاس رومز) بھی قائم کی گئی ہیں۔ ان سہولتوں سے 40 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ تعلیم کے میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ یہاں سوامی وویکانند تعلیمی مرکز جیسے متعدد اہم تعلیمی منصوبے بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

یہ ہمارا عزم ہے کہ اس تعلیمی انقلاب میں ہماری بیٹیاں کسی بھی طرح پیچھے نہ رہ جائیں۔ اسی مقصد کے تحت کئی بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرسوتی سائیکل اسکیم اور سرسوتی ودیا یوجنا جیسی اسکیمیں یہاں کی بیٹیوں کی تعلیم میں نمایاں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

دوستو،

آج بھارت اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو صرف ڈگری ہی نہ ملے بلکہ انہیں صحیح سمت اور مناسب رہنمائی بھی حاصل ہو۔ انہیں ایسے مواقع میسر آئیں جو مقامی صلاحیتوں کو عالمی امکانات سے جوڑ سکیں۔ ڈیزائن، قانون، انجینئرنگ، طب، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ڈرون ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں آج کی ہماری تیاری مستقبل میں بھارت کی افرادی قوت کو مزید مضبوط بنائے گی۔ اسی لیے پیشہ ورانہ اور خصوصی تعلیمی اداروں کی توسیع نہایت ضروری ہے۔

دوستو،

آج نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (نفٹ) کے اٹھارویں کیمپس کا سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ یہ ادارہ یہاں کے نوجوانوں کو عالمی معیار کے مواقع اور بین الاقوامی تجربات سے جوڑے گا۔ اسی طرح صنعتی تربیتی ادارہ (آئی ٹی آئی) دمن میں ڈرون ٹیکنیشن جیسے نئے تربیتی کورسز کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ پردھان منتری وشوکرما یوجنا اور پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم سے متعلق تربیتی پروگرام بھی نوجوانوں کو نئی مہارتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

دوستو،

ملک میں کھیلوں کے شعبے کو بھی نئی سوچ اور نئے ویژن کے ساتھ فروغ دیا گیا ہے۔ اب کھیل صرف بڑے شہروں یا بڑے اسٹیڈیموں تک محدود نہیں رہے۔ ’’کھیلو انڈیا‘‘ جیسے اقدامات نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں کے بچے بھی قومی سطح پر کھیلوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں اور اس خطے کو بھی اس کا بھرپور فائدہ پہنچا ہے۔ آج دیو ساحلی کھیلوں کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ گھوگھلا ساحل پر منعقد ہونے والے ساحلی کھیل نے بھی ملک بھر کی توجہ اس خطے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ یہاں جدید کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل ترقی کی جا رہی ہے۔ خانویل میں قائم فٹ بال مرکز اور دمن میں والی بال تربیتی مرکز اس خطے میں کھیلوں کی ثقافت کو مزید مضبوط اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوستو،

آج ملک کی توجہ کا ایک بڑا مرکز سیاحت کا شعبہ بھی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ سیاحت کے ذریعے مقامی فنون، ثقافت اور روایات کو فروغ حاصل ہو اور چھوٹے مقامات کو بھی بڑے مواقع سے جوڑا جائے۔ ’’دیکھو اپنا دیش‘‘ جیسی مہمات نے لوگوں کو اپنے ملک کی گوناگوں اور ثقافتی تنوع سے آگاہ ہونے کی ترغیب دی ہے۔ آج بھارت میں ورثہ سیاحت، ساحلی سیاحت، ماحول دوست سیاحت اور مہم جویانہ سیاحت کو نئی توانائی اور فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

دوستو،

دادرا و نگر حویلی، دمن اور دیو میں سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ قدرت نے اس خطے کو بے مثال قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے ملک کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں کا اس علاقے کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ سال 2021 میں یہاں تقریباً چھ لاکھ سیاح آئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً پچاس لاکھ تک پہنچ گئی۔ یعنی چند ہی برسوں میں سیاحوں کی آمد میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ کامیابی بہتر بنیادی ڈھانچے، معیاری سہولتوں اور صاف ستھرے ساحلوں کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ دمن نائٹ مارکیٹ، رام سیٹو سی فرنٹ، نمو پاتھ سی فرنٹ، نانی دمن قلعہ، گنگیشور مندر کمپلیکس اور ایسے متعدد مقامات آج اس پورے خطے کی نئی شناخت بنتے جا رہے ہیں۔

دوستو،

دادرا و نگر حویلی، دمن اور دیو کے عوام کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے یہاں کی صنعتی طاقت میں مزید اضافہ کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ باعثِ فخر ہے کہ اس مرکز کے زیرِ انتظام علاقے نے مصنوعی ریشوں کی صنعت کے میدان میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ دادرا و نگر حویلی کو ملک کا ’’قومی مرکزِ مصنوعی ریشہ‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ پلاسٹک کی برآمدات کے میدان میں بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ حکومت نے یہاں کی صنعتوں اور خرد، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی معاونت کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔ ان صنعتوں کو کروڑوں روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ خطہ ملک کے اہم صنعتی اور پیداواری مراکز میں شمار ہوگا۔

دوستو،

جب عوامی احساسات کو سمجھنے والی حکمرانی ترقی کے ویژن کے ساتھ یکجا ہو جاتی ہے تو زمین پر تبدیلی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ دادرا و نگر حویلی، دمن اور دیو میں ہماری کوششوں کے نتائج دیکھ کر اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ مجھے اس سرزمین کے عوام پر پورا بھروسہ ہے۔ یہاں کے نوجوان، مائیں اور بہنیں، کسان، دستکار، مزدور اور صنعت کار آنے والے برسوں میں ترقی کے اس سفر کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مرکزی حکومت آپ کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ہر قدم پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ اسی یقین اور اعتماد کے ساتھ میں ایک بار پھر ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

میرے ساتھ بولیے:

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 8048

 


(रिलीज़ आईडी: 2269706) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Kannada