قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن نےماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کور گروپ کی ایک میٹنگ“شہری علاقوں میں تمازت اور اس کے تدارک” کے موضوع پر منعقد کی


چیئرپرسن جسٹس وی. رام سوبرمنین نے موجودہ قدرتی ماحولیاتی نظام کے مزید مضبوط تحفظ، آبی ذخائر کے گرد تعمیرات کے سخت ضابطےاور پائیدار شہری ترقی پر مبنی قابل عمل سفارشات کی ضرورت پر زور دیا

جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیتےہوئے فطرت کے تحفظ کیلئے اجتماعی اقدامات کی اپیل کی

سکریٹری جنرل جناب بھرت لال نے ملک بھر میں شدید گرمی کے  اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود گرمی سے ہونے والی اموات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا

مختلف تجاویز میں ایک اہم تجویز یہ تھی کہ ہیٹ ویو سے ہونے والی اموات اور بیماریوں کی نگرانی کو ایک متحد، سائنسی طور پر توثیق شدہ رپورٹنگ اور ڈیٹا مینجمنٹ نظام کے ذریعے بہتر بنایا جائے

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 12:13PM by PIB Delhi

بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے کور گروپ کا ایک اجلاس “شہری علاقوں میں ہیٹ ویو اور اس کے تدارک” کے موضوع پر نئی دہلی کے انسان حقوق بھون میں ہائبرڈ موڈ میں منعقد کیا۔ اس اجلاس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ مؤثر طور پرشرکت کی۔چیئرپرسن جسٹس وی. رامسوبرمنین نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سردیوں میں آلودگی اور گرمیوں میں ہیٹ ویو پر ہر سال باقاعدگی سے بحث تو ہوتی ہے، لیکن انسانی جانوں کو ان بحرانوں کے اثرات سے بچانے کیلئے کئےجانے والے اقدامات کے واضح اور نمایاں نتائج سامنے نہیں آ رہے۔اس اجلاس میں این ایچ آر سی کے ارکان جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی اور محترمہ وجے بھارتی سیانی، سکریٹری جنرل جناب بھرت لال، ڈی جی (انویسٹیگیشن) محترمہ انوپما نیلیکر چندر، جوائنٹ سیکریٹری محترمہ سیڈنگ پوئی  چھک چھوآک، کور گروپ کے اراکین، اسپیشل ریپورٹرز، اسپیشل مانیٹرز، بھارت سرکار کے سینئر افسران اور مختلف نیم سرکاری اداروں کے نمائندے، احمد آباد اور اندور کے میونسپل کمشنرز، نامور ماہرینِ شعبہ اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ارکان بھی موجود تھے۔

جسٹس رامسوبرمنین نے کہا کہ انسانی حقوق کا ارتقا ابتدا میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد شہری، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی حقوق پر مرکوز رہا، جبکہ ماحولیاتی حقوق کو زیادہ تر نظرانداز کیا جاتا رہا۔اگرچہ 1948 میں عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) منظور کیا گیا تھا، تاہم ماحولیاتی حقوق پر سنجیدہ بحث کا آغاز 1970 کے آس پاس ہوا، جب ماحولیاتی انحطاط اور بڑے پیمانے پر ماحولیاتی آفات کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہوا۔

جسٹس رامسوبرمنین نے کہا کہ صنعتی انقلاب نے موسمیاتی تبدیلی میں بہت بڑا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہیٹ ویوز کے اثرات ہمیں اس وقت پوری شدت سے محسوس ہوئے جب یہ براہِ راست ہماری زندگیوں کو متاثر کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گاندھیائی معیشت کے تصور کو دیکھا جائے تو گاندھی جی نے کبھی پورے ملک کی مکمل صنعتی ترقی کا تصور نہیں کیا تھا۔ ان کے نزدیک ہر گاؤں کو خود کفیل ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس صورتحال پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں دیہات سے شہروں کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے  پر لوگ مجبور ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں کے غیر موزوں حالات اور شہروں میں کنکریٹ کے جنگلوں کی بڑھوتری نے درجہ حرارت میں اضافے اور ہیٹ ویو جیسے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق دہائیوں کے دوران ماحولیات کو جو نقصان پہنچاہے، اس کی مکمل تلافی نا ممکن ہے، اس لیے اصل توجہ اس کے اثرات کو کم کرنے پر ہونی چاہیے، کیونکہ گزرے وقت کو واپس لایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی ذخائر اور جنگلات کی تباہی بڑھتے ہوئے ہیٹ اسٹریس کی بنیادی وجہ ہے، اس لئے موجودہ قدرتی ماحولیاتی نظام کے سخت تحفظ، آبی ذخائر کے اطراف تعمیرات کے سخت ضابطوں اور پائیدار شہری ترقی کے لیے عملی سفارشات ناگزیر ہیں۔

این ایچ آر سی کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا کہ شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے اجتماعی اقدامات کرتے ہوئے فطرت کے تحفظ، گرین ایریاز میں توسیع اور آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

 

اس سے قبل این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل شری بھرت لال نے اپنے ابتدائی کلمات میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کور گروپ کے اجلاس کے انعقاد کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹ ویوز تیزی سے ایک بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی تشویش بنتی جا رہی ہیں، جو ماحولیاتی انحطاط اور موسمیاتی تبدیلی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے اثرات خاص طور پر کمزور طبقات پر زیادہ پڑتے ہیں، جن میں تعمیراتی مزدور، کھلے ماحول میں کام کرنے والے محنت کش، گِگ ورکرز، بزرگ افراد، حاملہ خواتین اور وہ لوگ شامل ہیں جن کے پاس مناسب رہائش سے متعلق وسائل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہیٹ ویوز شہری علاقوں میں ایک تیزی سے سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہیں اور ملک بھر میں حالیہ برسوں میں گرمی سے ہونے والی اموات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی، صحت اور صاف ماحول کے حقوق بنیادی انسانی حقوق ہیں اور اسی بنیاد پر این ایچ آر سی مسلسل ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فعال اور پیشگی اقدامات کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد ریاستوں اور میونسپل کارپوریشنز نے شدید گرمی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مختلف اقدامات  کئےہیں، تاہم اس کے باوجود این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق ہیٹ ویوز کے باعث اموات میں اضافہ جاری ہے۔

انہوں نے اجلاس کے تین موضوعاتی سیشنز کا بھی جائزہ پیش کیا، جن میں(الف) ہیٹ ویوز کی سمجھ اور ان کے انسانی حقوق پر اثرات، (ب)شہری علاقوں میں ہیٹ ویوز سے نمٹنے کے لئے گورننس فریم ورکس اور شہر کی سطح پر ردعمل اور (ت) شہری علاقوں میں پائیدار اور جامع کولنگ کے لئے حقوق پر مبنی حکمتِ عملیاں شامل تھیں۔انہوں نے شرکاء سے درخواست کی کہ وہ قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی ایسے عملی اقدامات تجویز کریں جن کے ذریعے ہیٹ ویوز کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور خاص طور پر شہری علاقوں میں لوگوں کی جانوں اور روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سینٹر فار سسٹین ایبل ٹیکنالوجی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کے پروفیسر (ریٹائرڈ) این ایچ رویندرناتھ نے کہا کہ ہیٹ ویو کی تعریف کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس میں نمی، نباتات اور زمین کی سطح جیسے عوامل کو بھی شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے وارڈ لیول پر پیش گوئی، مصنوعی ذہانت پر مبنی خطرے کی نشاندہی ، مضبوط ہیٹ ایکشن پلانز، خصوصی ہیٹ افسران کی تعیناتی اور کمزور طبقات کے مزدوروں کے تحفظ پر زور دیا۔بھارت کے محکمہ موسمیات کےڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر اکھل شریواستونے کہا کہ جون کے مہینے میں کئی ریاستوں میں معمول سے زیادہ ہیٹ ویو دن متوقع ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ڈی کے کثیر سطحی پیش گوئی اور وارننگ سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ گرمی کی شدت کے بارے میں بروقت الرٹس اور مشورے براہِ راست کمزور طبقات تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں سڑک کنارے کام کرنے والے دکاندار اور گِگ ورکرز شامل ہیں۔

این ڈی ایم اےکے( پالیسی اینڈ پلان اورسی بی ٹی )مشیرجناب ایس راکیش کمار نے کہا کہ  ہیٹ ویوز کے خطرے سے دوچار تمام 23 ریاستوں نے اب ہیٹ ایکشن پلانز تیار کر لئے ہیں۔ انہوں نے ضلعی اور شہری سطح پر مضبوط منصوبہ بندی، عملدرآمد کے ادارہ جاتی نظام کو باقاعدہ بنانے، بہتر ابتدائی وارننگ سسٹمز، مضبوط رپورٹنگ میکانزم اور ہیٹ ویو کے اثرات کو کم کرنے کے لئے خصوصی فنڈنگ کی ضرورت پر زور دیا۔وزارت صحت و خاندانی بہبود میں جوائنٹ سکریٹری (صحت عامہ)محترمہ جی. ایس. چترا نے کہا کہ وزارت صحت ایڈوائزریز اور کلائمیٹ-ہیلتھ پروگرامز کے ذریعے صحت کے شعبے کی تیاری کو مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور ہیٹ ویوز کے بڑھتے ہوئے صحت پر اثرات سے نمٹنے کے لئے مربوط اور ہم آہنگ کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود میں ایڈیشنل ڈائرکٹر ڈاکٹر آکاش شریواستو نے خبردار کیا کہ 2035 تک گرمی سے متعلق صحت کے خطرات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز کو وسعت دینے، مضبوط نگرانی کے نظام، صحت کے شعبے کی بہتر استعداد، طبی عملے کی وسیع تربیت اور اسپتالوں کی بہتر تیاری پر زور دیا تاکہ اموات میں کمی لائی جا سکے۔جناب وی کے چورسیا، ایڈوائزر، وزارت ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرزنے شہری منصوبہ بندی میں ہیٹ ریزیلینس کو شامل کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے کولنگ ایکشن پلانز، آبی ذخائر کی بحالی، شہری علاقوں میں شجرکاری، “کول روفز” کے فروغ، پائیدار ٹرانسپورٹ اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھلنے والے شہری انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا۔

سسٹین ایبل بلڈنگ اینڈ ہیبی ٹیٹ پروگرام سی ایس ای کے پروگرام ڈائرکٹر جناب رجنیش سرین نے ورکر سینٹرک ہیٹ سیفٹی پروٹوکولز، شہر کی سطح پر درجہ حرارت کی پیمائش کے نیٹ ورک کی توسیع، مربوط گرین اور بلیو انفراسٹرکچر اور کارکردگی پر مبنی معیارات کے ذریعے شہری گرمی کو کم کرنے اور موسمیاتی لچک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر انل کمار مشرا، ایڈیشنل سیکریٹری، نیشنل رین فیڈ ایریا اتھارٹی نے مشورہ دیا کہ کام کے اوقات کار میں تبدیلی کی جائے تاکہ مزدوروں کو شدید گرمی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے شہری گرین ایریاز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ٹریٹڈ ویسٹ واٹر کے استعمال، بارش کے پانی کے ذخیرے اور زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ میں اضافہ اور شہروں میں حرارت کم کرنے والے نباتات کے فروغ پر زور دیا۔ڈاکٹر آرتی کھوسلا، فاؤنڈر ڈائریکٹر، کلائمیٹ ٹرینڈز نے ہیٹ ایکشن پلانز میں کمزور طبقات کی بنیاد پر ترجیح دینے، سستے اور ساختی کولنگ حلوں کے فروغ، گِگ اور غیر رسمی ورکرز کے تحفظ، ہیٹ سے متعلق صحت کے اثرات کے ڈیٹا میں شفافیت اور مختلف شعبوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور عوامی آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔جناب ومل مینا، ڈائریکٹر (سیفٹی) و ایچ او او، ریجنل لیبر انسٹی ٹیوٹ، فرید آباد نے لیبر کوڈز میں موجود مزدوروں کے تحفظ سے متعلق دفعات کا ذکر کرتے ہوئے کنٹریکٹ اور غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے لیے یکساں تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور ہیٹ اسٹریس اور ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات اور بچاؤ سے متعلق آگاہی بڑھانے کی بات کی۔

محترمہ پریرنا اوجھا، ریسرچ اینالسٹ، سی ای ای ڈبلیونے ہیٹ ایکشن پلانز میں رسک بیسڈ میپنگ، کمزور وارڈز کے لئے ہدفی اقدامات، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن فریم ورک، صنفی حساس حکمتِ عملی، مقامی حالات کے مطابق مسلسل اپڈیٹس اور موجودہ انفراسٹرکچر کی ریٹروفٹنگ کے ذریعے ہیٹ ریزیلینس بڑھانے کے کام کو اجاگر کیا۔جناب سندرم ورما، ماحولیاتی ماہر نے جنگلات کی کٹائی کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے شجرکاری کے اقدامات میں اضافہ کرنے کی اپیل کی۔جناب کشتج سنگھل، میونسپل کمشنر، اندور نے شہری اداروں کو درپیش چیلنجز جیسے تیزی سے شہر کاری، مالی و افرادی وسائل کی کمی اور دیگر شہری ترجیحات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اندور میں ہیٹ ریزیلینس کے لیے کم لاگت اقدامات، خصوصاً کمزور رہائشی علاقوں میں سولر ریفلیکٹو روف کوٹنگز کے استعمال جیسے اقدامات بھی شیئر کئے۔

ڈاکٹر ایچ ایس گنوال، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، انڈین کونسل آف فاریسٹ ریسرچ اینڈ ایجوکیشن، دہرادون نے کہا کہ شہری علاقوں میں گرین کور میں اضافہ اور حرارت کو کم کرنے کے لیے ریفلیکٹو روف ٹاپ اقدامات کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے ابتدائی وارننگ سسٹمز کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔جناب نرنجن دیو بھاردواج، ممتاز ایڈوائزر، گلوبل فاؤنڈیشن فار ایڈوانسمنٹ آف انوائرمنٹ اینڈ ہیومن ویلنس نے کہا کہ ہیٹ گورننس کو ردِعملی سے ہٹا کر پیشگی پیش گوئی پر مبنی نظام کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وارڈ لیول ہیٹ رسک میپنگ، ہائپر لوکل ہیٹ انٹیلیجنس، ڈیجیٹل الرٹ سسٹمز، بیرونی مزدوروں کے تحفظ، شہری منصوبہ بندی میں ہیٹ ریزیلینس کے انضمام اور ہیٹ ویوز کے لیے مالی و ادارہ جاتی تیاری پر زور دیا۔

شری بنچھ نِدھی پانی، میونسپل کمشنر، احمد آباد نے احمد آباد کے ہیٹ ایکشن پلان کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ابتدائی وارننگ سسٹمز، شہری شجرکاری، کول روفز، سایہ دار عوامی مقامات، مائیکرو لیول ہیٹ رسک میپنگ، مزدوروں کے تحفظ کے اقدامات، عوامی آگاہی مہمات اور موسمیاتی طور پر لچکدار شہری منصوبہ بندی کے ذریعے ہیٹ سے ہونے والی اموات میں کمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ڈاکٹر پرمود کانت، ایڈجَنکٹ پروفیسر، ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف وائلڈ لائف کنزرویشن، چنئی نے کم لاگت اسپیس کولنگ اقدامات جیسے ریفلیکٹو چھتوں اور پینٹس کے استعمال، فوری ٹھنڈک کے لیے بڑے پودوں کی منتقلی اور اسکولوں اور عوامی مقامات کے اردگرد سایہ دار حصے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر پرینّا جوشی، اسسٹنٹ پروفیسر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے بیرونی مزدوروں کے لیے ہیٹ پروٹیکشن اقدامات کے قانونی نفاذ، کم آمدنی والے طبقے کے لیے کم توانائی خرچ کرنے والے کولنگ سسٹمز، ہیٹ ویو الرٹس کی زیادہ رسائی اور شہری گرین کور کے اصولوں کے مؤثر نفاذ کے لیے ڈی سینٹرلائزڈ گرین اسپیسز اور مائیکرو فاریسٹ کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

محترمہ پیٹریشیا موکھیم، ایڈیٹر، دی شیلانگ ٹائم نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی قوانین کا کمزور نفاذ، دریاؤں، ویٹ لینڈز اور جنگلات کی بگڑتی ہوئی حالت اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر تجاوزات شمال مشرقی خطے میں موسمیاتی خطرات کے اہم محرکات ہیں۔ انہوں نے آبی ذخائر، سبز علاقوں اور جنگلاتی کور کے سخت تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔جناب گوتم تالُکدار، سائنسداں، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے کہا کہ ہیٹ اسیسمنٹ میں لینڈ سرفیس ٹمپریچر کو شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بڑے اداروں سے خارج ہونے والی حرارت کی نگرانی، شہری آبی و سبز علاقوں کے جائزے کے لئے سٹی بائیو ڈائیورسٹی انڈیکس کے استعمال اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو صورتحال کو مزید ابتر کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شالنی دھیانی، سائنسداں-ای، سی ایس آئی آر، این ای ای آر آئی نے شہری سبز علاقوں کی غیر مساوی تقسیم کے مسئلے کو حل کرنے، ماحولیاتی راہداریوں اور ویٹ لینڈ بفرز کی بحالی، ایکو سسٹم پر مبنی شہری منصوبہ بندی کے نفاذ، عوام کے لئے قابل رسائی سبز مقامات میں توسیع اور کمزور مزدوروں کے لیے ہیٹ حساس کام کے اوقات متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔جناب سنیل شرما، جوائنٹ ڈائریکٹر (وائلڈ لائف)، وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے بھی اس بات کی تائید کی کہ کام کے اوقات کو مرحلہ وار کیا جائے، شہری رہائشی حالات کو بہتر بنایا جائے، شہری پارکس میں زیادہ سرمایہ کاری کی جائے اور گرمی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ماحولیاتی اور منصوبہ بندی سے متعلق قوانین کے سخت نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔جناب وی بی کمار، این ایچ آر سی کے اسپیشل مانیٹر برائے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی نے عمارتوں اور شہری منصوبہ بندی کے ضوابط کی تعمیل کے آڈٹ، گرین انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے لازمی اور ترغیبی اقدامات، مختلف ہیٹ سے متعلق منصوبوں کو ایک واحد مانیٹرنگ پلیٹ فارم پر یکجا کرنے اور ہیٹ ویو انڈیکس کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

مباحثے سے جو اہم تجاویز سامنے آئیں وہ درج ذیل ہیں:

  • وارڈ سطح پر جی آئی ایس، ریموٹ سینسنگ، مصنوعی ذہانت، زمینی سطح کے درجہ حرارت اور سماجی کمزوری کے اشاریوں کی بنیاد پر ہیٹ وَلنریبیلٹی اور ریزیلینس نقشے تیار کیے جائیں، جنہیں مقامی سطح کی پیش گوئی، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ایک جامع ہیٹ وَلنریبیلٹی انڈیکس کی مدد حاصل ہو۔
  • ہیٹ ایکشن پلانز کو تمام ریاستوں، اضلاع اور شہروں میں ادارہ جاتی طور پر نافذ کیا جائے، جس کے لئے مخصوص ہیٹ افسران کی تعیناتی، مربوط گورننس ڈیش بورڈز، باقاعدہ نگرانی اور بین الاداراتی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔
  • ہیٹ ویو سے ہونے والی اموات اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو ایک متحد، سائنسی طور پر توثیق شدہ رپورٹنگ اور ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے بہتر بنایا جائے۔
  • کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے پیشہ ورانہ ہیٹ سیفٹی معیارات، سماجی تحفظ کے اقدامات، کمیونٹی کولنگ سینٹرز، قابلِ رسائی عوامی سبز مقامات خصوصاً نقل مکانی کرنےوالے مزدوروں، گِگ ورکرز، خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کے لئے اور ہدفی اقدامات کئے جائیں۔
  • ہیٹ ہیلتھ تیاری کو مضبوط بنایا جائے، جس میں خصوصی ہیٹ اسٹروک مینجمنٹ یونٹس، تربیت یافتہ طبی عملہ، ایمرجنسی کولنگ آلات، ایمبولینسز اور طبی و صحت عامہ کے نصاب میں ہیٹ ہیلتھ تعلیم کو شامل کیا جائے۔
  • ہیٹ ریزیلینٹ اور موسمیاتی لحاظ سے حساس شہری ڈیزائن کو لازمی قرار دیا جائے، جس میں غیر فعال کولنگ نظام، کول روفز، ریفلیکٹو مواد، موجودہ عمارتوں کی ریٹروفٹنگ، وینٹیلیشن کوریڈورز اور موسمیاتی موافق بلڈنگ اسٹینڈرڈز شامل ہوں۔
  • قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو وسعت دی جائے، جس کے لئے شہری سبز رقبے میں اضافہ، مقامی درختوں کی شجرکاری، شہری جنگلات، گرین کوریڈورز، ویٹ لینڈ بفرز اور دریاؤں، جھیلوں، آبی ذخائر اور دیگر بلیو-گرین انفراسٹرکچر کی بحالی شامل ہو۔
  • پائیدار آبی نظم و نسق کو فروغ دیا جائے جس میں بارش کے پانی کا ذخیرہ، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ، استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال  بنانااور شہری آبی ذخائر اور کیچمنٹ ایریاز کا تحفظ شامل ہو۔
  • عمارتوں اور رہائشی کمپلیکسز کے لئے ہیٹ ریزیلینس ریٹنگز متعارف کروائی جائیں، فضلے سے پیدا ہونے والی حرارت کو ریگولیٹ کیا جائے اور ماحولیاتی، بلڈنگ اور شہری منصوبہ بندی کے قواعد و ضوابط کے نفاذ کو باقاعدہ تعمیل آڈٹس کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔
  • عوامی آگاہی اور خطرات سے متعلق ابلاغ کو بہتر بنایا جائے، جس میں کثیر لسانی، قابلِ رسائی اور کمیونٹی بیسڈ آگاہی مہمات شامل ہوں اور ڈیجیٹل سہولت سے محروم افراد کے لئے وائس بیسڈ الرٹس فراہم کئے جائیں۔
  • ہیٹ ریزیلینس کو شہری ماسٹر پلانز، ترقیاتی منصوبوں، میونسپل بجٹ اور کلائمیٹ ایکشن حکمتِ عملیوں میں مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے، جسے ہر سطح پر مخصوص فنڈنگ اور ادارہ جاتی معاونت حاصل ہو۔

کمیشن ان تجاویز پر مزید غور و خوض کرے گا تاکہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو حتمی سفارشات پیش کی جا سکیں۔

***

 ش ح۔ ک ا۔ م ا

U.NO.7965


(रिलीज़ आईडी: 2268912) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada