وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیردفاع  کا فیلڈ کمانڈرز کے لیے مالی حد میں دوگنا اضافہ کرنے اور آپریشنل کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلہ

وزیردفاع نے فیلڈ کمانڈرز کے لیے مالی اختیارات میں دوگنا اضافہ منظور کرتے ہوئے دفاعی نظام کی آپریشنل کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام کے تحت ریونیو روٹ کے ذریعہ 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی خریداری میں معاونت کے لیے مالی اختیارات میں توسیع کی گئی ہے

نظرِ ثانی شدہ مالی اختیارات کے تحت دیسی سازی  اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے لیے بھی مالی حد کو دوگنا کر دیا گیا ہے، تاکہ دفاعی شعبہ میں‘آتم نربھرتا’ کو فروغ دیا جا سکے اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے

مشترکہ خدمات (جوائنٹ) کی خریداری کو تیز تر بنانے کے لیے نئے انتظامات متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے تحت لیڈ سروس کو زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے تاکہ دفاعی سازوسامان کی خریداری کے عمل میں رفتار اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 1:05PM by PIB Delhi

وزیردفاع جناب راجناتھ سنگھ نے 4 جون 2026 کو نئی دہلی میں مسلح افواج کے لیے نظرِ ثانی شدہ مالی اختیارات (ڈیلی گیشن آف فنانشل پاورز-ڈی ایف پی) جاری کیے، جن میں طبی اور تعمیراتی منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان اختیارات میں مجموعی طور پر100 فیصد تک اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد فیلڈ کمانڈرز کی آپریشنل کارکردگی کو مزید مضبوط بنانا، معاہدوں کے جلد اختتام اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔نظرِ ثانی شدہ نظام کے تحت فوجی ڈھانچے میں انڈیجینائزیشن (دیسی سازی) اورتحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے لیے مالی اختیارات کو بھی دوگنا کر دیا گیا ہے تاکہ دفاعی شعبہ میں ‘آتم نربھرتا’ کو فروغ دیا جا سکے اور غیر ملکی اصل سازوسامان بنانے والی کمپنیوں پر انحصار کم ہو۔

اس نئے فریم ورک کے ذریعہ موجودہ بجٹ  الاٹمنٹ  کے مطابق 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی خریداری ریونیو روٹ کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔فوج، فضائیہ اور بحریہ کے کمانڈرز کے خصوصی مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ فوری آپریشنل ضروریات کے لیے مجموعی مالی حد میں بھی 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نئی شقیں شامل کی گئی ہیں جن کے تحت مشترکہ خدمات کی خریداری کو زیادہ بااختیار لیڈ سروس کے ذریعے تیز کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ کئی نئے مختار مالیاتی حکام(سی ایف ایز) متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ اشیاء اور خدمات کی خریداری کو مزید غیر مرکزیت  فراہم کی جا سکے۔

واضح رہے کہ مالی اختیارات آخری بار 2021 میں جاری کیے گئے تھے۔ یہ نظرِ ثانی اس لیے ضروری تھی کیونکہ افواج کے حجم میں اضافہ، آپریشنل ضروریات میں توسیع اور بجٹ میں اضافے کے باعث اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یہ نیا نظام، جو اکتوبر 2025 میں جاری کیے گئے نظرِ ثانی شدہ‘ڈیفنس پروکیورمنٹ مینوئل’ کے ساتھ مل کر کام کرے گا، دفاعی خریداری کے عمل کو مزید تیز، مؤثر اور وقت کے مطابق بنائے گا۔

اس موقع پرچیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجہ سبرا منی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اُپیندر دویدی، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن،ڈیفنس سکریٹری راجیش کمار سنگھ(ڈیفنس پروڈکشن)،سنجیو کمار،(سکریٹری ایکس سروس مین ویلفیئر)، محترمہ سکرتی لیکھی، سکریٹری(ڈیفنس فنانس)،وشوا جیت سہائےوائس چیف آف دی ایئر اسٹاف  ایئر مارشل ناگیش کپور، کنٹرولر جنرل آف ڈیفنس اکاؤنٹس انوگرہ نارائن داس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

********

 

 

ش ح- ظ الف-  ج

UR- 7966

                          


(रिलीज़ आईडी: 2268821) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Malayalam