پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

فلیکس ایندھن والی گاڑیاں ہندوستان میں خام تیل کی درآمدات کو کم کرنے، کسانوں کو اضافی آمدنی فراہم کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی کو فروغ دینے کا عملی حل پیش کرتی ہیں: جناب ہردیپ سنگھ پوری


ہندوستان کے ایتھنول آمیزش  کے پروگرام کے انقلابی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ کسانوں نے 1.58 لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے، جس سے ہمارے خوراک فراہم کرنے والوں کو توانائی فراہم کرنے والوں میں تبدیل کیا گیا ہے

ای- 20 سے ای- 85 ایندھن پر چلنے والی موٹر سائیکلوں کی نقاب کشائی کر دی گئی ہے! اس اقدام سے نہ صرف ہندوستان میں سبز توانائی میں انقلاب آئے گا بلکہ خود انحصاری کو بھی فروغ ملے گا

प्रविष्टि तिथि: 03 JUN 2026 9:20PM by PIB Delhi

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ فلیکس ایندھن والی گاڑیاں ہندوستان میں خام تیل کی درآمدات کو کم کرنے، ایتھنول کی مانگ میں اضافہ کرکے دیہی معیشت کو مضبوط کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی کو فروغ دینے کا عملی حل پیش کرتی ہیں۔ مرکزی وزیر نے آج نئی دہلی میں ہیرو موٹو کارپ کی پہلی فلیکس فیول موٹر سائیکل کے آغاز  کے موقع پر یہ بیان دیا۔ سڑک  ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر جناب نتن گڈکری بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

جناب پوری نے اس آغاز کو ہندوستان کی توانائی کی تاریخ کے ایک نئے باب کے طور پر بیان کیا، جس میں ای- 20 سے ای- 85 تک ایتھنول آمیزش کے ساتھ ہم آہنگ نئی موٹر سائیکلیں متعارف کرائی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپلینڈر پلس اور ایچ ایف ڈیلکس فلیکس فیول موٹرسائیکلوں کے آغاز کے ساتھ، ہندوستان  آتم نربھر گاڑیوں  کے ساتھ بڑے پیمانے پر فلیکس فیول موبلیٹی کے شعبے میں داخل ہوگیا ہے۔’بھارت کی بائیک،بھارت کا انیدھن!‘

ہندوستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے دو پہیوں والے ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک ہے، جہاں 300 ملین سے زیادہ دو پہیہ گاڑیاں چل رہی ہیں۔ فلیکس فیول ٹیکنالوجی میں نقل و حرکت کو بے مثال پیمانے پر تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ آج کا تاریخی آغاز ہندوستان کی نقل و حرکت اور ایتھنول کی آمیزش کے تعلق سے ایک اہم لمحہ ہے، جو 2014 میں صرف 1.5 فیصد سے اب 20 فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے ہمارے توانائی کے درآمدی اخراجات کو کم کرنے اور ہمارے کسانوں کو اضافی آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنے میں مدد ملے گی، جو اب ملک کے خوراک فراہم کرنے والوں سے توانائی فراہم کرنے والوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان میں مستقبل کی نقل و حرکت کا ماحولیاتی نظام ہندوستانی حالات کے مطابق برقی گاڑیاں، بائیو فیول، ہائیڈروجن اور قابل تجدید توانائی کو مربوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت اپنی خام تیل کی تقریباً 88.5 فیصد ضرورت کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جس سے معیشت اور توانائی کے تحفظ  کو جغرافیائی سیاسی بحران کا خطرہ  لاحق ہوسکتاہے۔

مالی سال 2014-15 میں شروع کیے گئے ایتھنول آمیزش کے پروگرام نے ہندوستان کو  1.84 لاکھ کروڑ روپے کی غیر ملکی کرنسی کی بچت کی ہے، 30.2 ملین میٹرک ٹن خام تیل کی جگہ لی ہے، اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو 90.9 ملین میٹرک ٹن تک کم کیا ہے۔ اس پروگرام کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ اس نے کسانوں کی آمدنی میں  1.58 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ کیا ہے، انہیں خوراک فراہم کرنے والوں سے توانائی فراہم کرنے والوں میں تبدیل کیا ہے۔

وزیر نے کہا کہ ہندوستان میں پٹرول گاڑیوں کی سالانہ فروخت میں ایک فیصد اضافہ بھی 27-2026 میں شروع ہونے والے 40 ملین لیٹر ایتھنول کی مانگ پیدا کرے گا، جس کے لیے ڈسٹلریز کو تقریباً 266 کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے اور ملک کو غیر ملکی کرنسی میں 195 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ اس سے خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 0.28 لاکھ میٹرک ٹن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 0.86 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی واقع ہوگی۔

اہم بات یہ ہے کہ تقریباً 160 کروڑ روپے جو بصورت دیگر تیل کی درآمد کے لیے ملک سے باہر جائیں گے وہ براہ راست ہندوستانی کسانوں کو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی دو پہیہ گاڑیوں کی وسیع صنعت میں فلیکس ایندھن ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانے سے یکسر تبدیلی رونما ہوگی۔

ای- 85 فلیکس ایندھن کے کئی فوائد ہیں، جیسے گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات میں کمی، بنیادی ڈھانچے پر کم سے کم سرمایہ خرچ، اور تیزی سے توسیع (الیکٹرک وہیکل نیٹ ورکس سے تقریباً 10-15 گنا تیز)۔ تاہم، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری کے اجزاء کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں اور پیداواری عمل کے دوران کاربن کا نمایاں اخراج پیدا کرتی ہیں۔

اس کے برعکس، فلیکس ایندھن والی گاڑیاں اندرون ملک تیار کیے جانے والے بائیو ایندھن پر انحصار کرتی ہیں اور بیٹری سے متعلق اخراج سے بچتی ہیں، جس سے وہ مکمل طور پر خود کفیل ہوتی ہیں اور کاربن کے اخراج کو کم کرتی ہیں۔ مزید برآں، فلیکس ایندھن  کی مانگ  کے سبب ایتھنول کے خام مال کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے ہمارے کسانوں کو فوری آمدنی میں مدد ملے گی۔

جناب پوری نے مزید کہا کہ فلیکس ایندھن پر مبنی  نقل و حرکت صارفین کے لیے اقتصادی طور پر بھی فائدہ مند ہونی چاہیے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ای- 85 ایندھن کی قیمت ای- 20 سے کم ہے، تو صارفین ایندھن کی کم قیمتوں کی وجہ سے بچت کے ذریعے تقریباً تین سالوں میں گاڑی کی قیمت وصول کر سکتے ہیں۔ مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت کم خرچ  فلیکس ایندھن کو اپنانے کو فروغ دینے کے لیے ایک معاون پالیسی فریم ورک پر فعال طور پر غور کر رہی ہے۔

فلیکس ایندھن کے بارے میں عام غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ ہندوستان میں ای-20 کو لاگو کرنے سے پہلے ایس آئی اے ایم ،اے آر اے آئی،آئی او سی ایل اور گاڑیوں کے مینوفیکچررز کے ذریعہ وسیع پیمانے پر جانچ کی گئی تھی۔ وزیر نے مزید کہا کہ عالمی تجربہ، بشمول برازیل کا اعلی ایتھنول مرکبات کو اپنانا، جس کا مشاہدہ میں نے 2006-2008 کے درمیان برازیلیا میں اپنی پوسٹنگ کے دوران کیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ فلیکس ایندھن موبلٹی قابل توسیع اور قابل اعتماد ہے۔

جناب پوری نے ہیرو موٹو کارپ کو اس قومی سفر میں قیادت کرنے پر مبارکباد دی۔ کمپنی کی نئی موٹرسائیکلیں اندرونی دہن کے انجن اور جدید ایندھن کے نظام سے لیس ہیں جو ای- 20 سے ای-85 تک کسی بھی قسم کے پیٹرول اور ایتھانول کے مرکب پر چل سکتی ہیں۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کے تعین میں معاونت اور ہدفی ترغیبات سمیت معاون پالیسیاں اپنانے میں تیزی لا سکتی ہیں، کفایتی ثابت ہو سکتی ہیں اور ہندوستان کو فلیکس ایندھن موبلٹی سے متعلق حل  میں عالمی رہنما کے طور پر قائم کر سکتی ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  ش ب۔ع ن)

U. No.


(रिलीज़ आईडी: 2268788) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Kannada , Malayalam