سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان اور جنوبی افریقہ کا مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق،مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور جدید مینوفیکچرنگ کلیدی ترجیحات


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مبنی ہند–جنوبی افریقہ کی اگلےسلسلے کی ٹیکنالوجی کی شراکت داری پر زور دیا

جنوبی افریقہ کی سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کی نائب وزیر، ڈاکٹر نومالنگیلو گینا نے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی

ہندوستان  اور جنوبی افریقہ نے کوانٹم ٹیکنالوجیز، بایو ٹیکنالوجی اور ہائیڈروجن توانائی کے شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے امکانات کا جائزہ لیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے برکس کے سائنس و ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے اقدامات میں جنوبی افریقہ کی مزید مضبوط شمولیت کی دعوت دی

ہندوستان اور جنوبی افریقہ کا تحقیقی شراکت داری کو جدت طرازی  اور صنعتی تعاون میں تبدیل کرنے کا عزم

प्रविष्टि तिथि: 03 JUN 2026 2:20PM by PIB Delhi

ہندوستان اور جنوبی افریقہ نے آج مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور جدید مینوفیکچرنگ آئندہ دوطرفہ شراکت داری کے اہم ترجیحی شعبے قرار دیے گئے ہیں۔

جنوبی افریقہ کی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کی نائب وزیر ڈاکٹر نومالنگیلو جینا نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کے دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ اس شراکت داری کو روایتی تحقیقی تعاون سے آگے بڑھا کر ایسی جدت طرازی  پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے جو بڑے پیمانے پر معاشی اور سماجی اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

جنوبی افریقہ کی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کی نائب وزیر ڈاکٹر نوما لونگیلو جینا کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان  اور جنوبی افریقہ کے مابین اگلے مرحلے کے روابط ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اختراعی ، اسٹارٹ اپ شراکت داری اور صنعت سے منسلک تحقیق پر مبنی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایسی تکمیلی صلاحیتوں کے حامل ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر ترقی پذیر دنیا کے لیے سستے، وسیع پیمانے پر قابلِ عمل اور ہمہ جہت ٹیکنالوجیکل حل تیار کیے جا سکتے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان  اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک منفرد شراکت داری ہے جو مشترکہ تاریخ، جمہوری اقدار اور سب کی شمولیت کے ساتھ ترقی کے باہمی عزم سے پروان چڑھی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ عالمی خطۂ جنوب کی بااثر آوازوں کے طور پر، دونوں ممالک برکس ، آئی بی ایس اے، جی 20 اور آئی او آر اے جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر بین الاقوامی گفتگو کو تشکیل دینے میں تیزی سے اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی متعدد تزویراتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔

یہ میٹنگ نئی دلی کے کرتویہ بھون میں منعقد ہوئی۔ ہندوستانی وفد میں ڈی ایس ٹی  کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، محکمے کے سینئر حکام اور وزارتِ خارجہ کے نمائندے شامل تھے۔ جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت نائب وزیر ڈاکٹر نوما لونگیلو جینا نے کی اور اس میں محکمۂ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع اور جنوبی افریقی ہائی کمیشن کے سینئر حکام شامل تھے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان  دنیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے اختراعی نظام میں سے ایک بن کر سامنے آیا ہے، جسے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، سائبر فزیکل سسٹمز، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور اسٹارٹ اپس کی قیادت میں ہونے والی اختراعات جیسے بڑے قومی اقدامات کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت جنوبی افریقہ کے ساتھ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراعی شراکت داری کے لیے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سائنس کو بڑے پیمانے پر ایسے حلوں میں تبدیل ہونا چاہیے جو زندگیوں کو بہتر بنائیں، روزگار پیدا کریں اور معیشتوں کو مضبوط کریں، وزیر موصوف نے دونوں ممالک کے تحقیقی اداروں، اختراعی ایجنسیوں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے مابین گہرے روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تعاون میں نہ صرف سائنسی مہارت پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے بلکہ ٹیکنالوجی کے نفاذ، تجارتی کاری  اور سماجی نتائج پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

ان مباحثوں کا ایک اہم نتیجہ اعلیٰ درجے کے مواد اور مینوفیکچرنگ، جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کا فیصلہ تھا، جو کہ ہند-جنوبی افریقہ مشترکہ کمیٹی میکانزم کے تحت طے شدہ ترجیحی شعبے ہیں۔ دونوں فریقوں نے سائنسدانوں، اداروں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان باہمی روابط کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تاکہ ان اہم شعبوں کو ٹھوس باہمی تعاون کے پروگراموں اور نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔

ان مباحثوں میں بائیوٹیکنالوجی، جینومکس ،ویکسین کی تیاری، ہیلتھ ٹیکنالوجیز اور وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے شعبوں میں بھی وسیع مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حالیہ عالمی تجربات نے حفظان صحت کے مضبوط نظام اور سائنسی شراکت داری کی اہمیت کو مزید تقویت دی ہےاور یہ کہ بائیوٹیکنالوجی، سستی ہیلتھ کیئر اختراعات اور ویکسین کی مینوفیکچرنگ میں ہندوستان  کی صلاحیتیں جنوبی افریقہ کے ساتھ تعاون کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔

جنوبی افریقہ نے قابلِ تجدید توانائی، ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، ہیلتھ سائنسز، ویکسین ریسرچ اور ہنر مندی کی ترقی میں ہندوستان  کے ساتھ تعاون کو بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر جینا نے کہا کہ جنوبی افریقہ ہندوستان  کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ترجیحی شعبوں میں ادارہ جاتی روابط، تحقیقی تعاون اور اختراعی شراکت داری کو مضبوط بنانے کا خواہشمند ہے۔ دوطرفہ سائنسی روابط کی مضبوط بنیاد کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے نوٹ کیا کہ دونوں ممالک پہلے ہی مشترکہ تحقیقی اقدامات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر چکے ہیں، جس میں مختلف سائنسی شعبوں میں تقریباً 150 مشترکہ مالی اعانت سے چلنے والے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری اب ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبوں اور اختراع پر مبنی تعاون میں نمایاں توسیع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

دونوں رہنماؤں نے فلکیات کے شعبے میں تعاون کا بھی جائزہ لیا، جو کہ ہندوستان -جنوبی افریقہ سائنسی روابط کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسکوائر کلومیٹر ارے (ایس کے اے) پروجیکٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے اس صدی کی سب سے عظیم الشان سائنسی کوششوں میں سے ایک قرار دیا اور اسے ایک بہترین مثال بتایا کہ کس طرح بین الاقوامی تعاون سائنسی دریافت، اعلیٰ درجے کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں، ٹیکنالوجیکل اختراع اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

کثیر جہتی سائنسی روابط کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جنوبی افریقہ کو اگست 2026 میں چنئی میں منعقد ہونے والے برکس سائنس، ٹیکنالوجی اور انوویشن وزرائے خارجہ/وزراء سطح کے اجلاس میں سرگرم شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ برکس تعاون ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، بائیوٹیکنالوجی، آبی وسائل، پریسیژن ایگریکلچر  اور مٹیریل سائنس جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ہندوستان  کو سائنس فورم ساؤتھ افریقہ 2026 میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی، جو کہ عالمی سائنسی مکالمے، علم کے تبادلے اور اختراعی شراکت داری کے لیے افریقہ کے اہم ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ دونوں فریقوں نے باقاعدہ ادارہ جاتی روابط اور اعلیٰ سطحی تبادلوں کے ذریعے سائنسی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے اس موقع کا خیرمقدم کیا۔

ہندوستان  اور جنوبی افریقہ نے 1995 میں دوطرفہ سائنس اور ٹیکنالوجی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایک متحرک شراکت داری کو برقرار رکھا ہے۔ گزشتہ برسوں میں، یہ تعلقات فلکیات، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ سائنسز، مقامی معلوماتی نظام، قابلِ تجدید توانائی، اعلیٰ درجے کے مواد اور ارضیاتی علوم تک پھیل چکے ہیں۔ دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر درجنوں تحقیقی منصوبوں کی حمایت کی ہے اور منظم ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے تعاون کو گہرا کرنا جاری رکھا ہے۔

یہ میٹنگ  سائنسی مہارت، ٹیکنالوجی کی ترقی، اسٹارٹ اپ تعاون اور عوامی سطح پر سائنسی تبادلوں کے ذریعے ایک مضبوط، مستقبل کے لیے تیار اختراعی شراکت داری قائم کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے لیے معنی خیز فوائد حاصل کرنا اور عالمی خطۂ جنوب کی وسیع تر ترقیاتی امنگوں میں اپنا تعاون پیش کرنا ہے۔

*****

ش ح۔ ک ح۔ا ش ق

U. No. 7912


(रिलीज़ आईडी: 2268376) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Tamil , Kannada