جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 جل جیون مشن 2.0 کے تحت اروناچل پردیش، جھارکھنڈ، تمل ناڈو، پڈوچیری اور ناگالینڈ کے ساتھ اصلاحات سے منسلک مفاہمت ناموں پر دستخط


جوابدہ اور عوام کی شمولیت پر مبنی آبی حکمرانی کے ذریعے دیہی علاقوں میں پائیدار آبی فراہمی کے لیے مرکز اور ریاستوں کی شراکت داری، اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 JUN 2026 7:36PM by PIB Delhi

 ہندوستان بھر میں دیہی علاقوں میں پائیدار، یقینی اور شہری مرکزیت پر مبنی پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر آج جل جیون مشن 2.0 کے تحت اصلاحات سے منسلک مفاہمت ناموں پر چار ریاستوں — اروناچل پردیش، جھارکھنڈ، تمل ناڈو اور ناگالینڈ — اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کے ساتھ دستخط کیے گئے۔

اصلاحات سے منسلک اس مفاہمت نامے کے تحت گرام پنچایت کی قیادت، خدمات پر مبنی اور عوام کی مرکزیت پر مشتمل دیہی آبی حکمرانی کے ماڈل کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جو جل جیون مشن 2.0 کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد مضبوط عوامی شمولیت (جن بھاگیداری) اور دیہی آبی فراہمی کے نظام کے پائیدار آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے ساختی اصلاحات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر دیہی گھرانے کو مقررہ معیار کے مطابق مناسب مقدار میں پینے کا صاف پانی باقاعدگی سے دستیاب ہو۔

یہ اقدام دیہی برادریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی آبی تحفظ کو بھی فروغ دے گا، جو وِکست بھارت 2047 کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہے۔

 

مفاہمت ناموں پر دستخط کی تقریب میں محکمہ پینے کا پانی و صفائی کے سینئر افسران بھی موجود تھے، جن میں سیکریٹری جناب اشوک کے کے مینا، قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سیکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سوان، جوائنٹ سیکریٹریز، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ایڈوائزرز شامل تھے۔

اروناچل پردیش کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط مرکزی وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل کی موجودگی میں کیے گئے۔ اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو اور وزیر برائے عوامی صحت انجینئرنگ و آبی فراہمی جناب ماما ناتونگ بھی ریاستی حکومت کے سینئر حکام کے ساتھ ورچوئل طور پر اس تقریب میں شریک ہوئے۔

مفاہمت نامے پر دستخط اور اس کا تبادلہ محکمہ پینے کا پانی و صفائی کی جوائنٹ سیکریٹری (واٹر) محترمہ سواتی مینا نائک اور حکومتِ اروناچل پردیش کے عوامی صحت انجینئرنگ و آبی فراہمی محکمہ کے کمشنر جناب امجد تاک کے درمیان کیا گیا۔

Image

 مرکز اور ریاستوں کے باہمی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر آج دوپہر 2 بجے جھارکھنڈ کے ساتھ مفاہمت نامے پر باضابطہ دستخط کیے گئے۔

اجلاس مرکزی وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت سورین اور ریاست کے دیگر اہم عہدیداروں کی موجودگی میں منعقد ہوا، جنہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ورچوئل طور پر شرکت کی۔

جھارکھنڈ کے محکمہ پینے کا پانی و صفائی کے وزیر جناب یوگیندر پرساد مشن کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں بالمشافہ موجود تھے۔

 مفاہمت نامے پر محکمہ پینے کا پانی و صفائی کی جوائنٹ سیکریٹری (واٹر) محترمہ سواتی مینا نائک اور حکومتِ جھارکھنڈ کے محکمہ پینے کا پانی و صفائی کے سیکریٹری جناب ابو عمران نے دستخط کیے اور اس کا تبادلہ کیا۔

تمل ناڈو کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کی تقریب آج دوپہر 2:30 بجے مرکزی وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جناب سی جوزف وجے اور ریاست کے دیگر عہدیداروں کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جنہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔

مفاہمت نامے پر قومی جل جیون مشن کے جوائنٹ سیکریٹری جناب ڈی سنتھل پانڈیان اور حکومتِ تمل ناڈو کے بلدیاتی انتظامیہ و آبی فراہمی محکمہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری جناب گگن دیپ سنگھ بیدی نے دستخط کیے، جبکہ اس کا تبادلہ چیف ریذیڈنٹ کمشنر محترمہ آر جیا نے کیا۔

Image

 

پڈوچیری کے ساتھ مفاہمت نامے پر محکمہ پینے کا پانی و صفائی، وزارت جل شکتی کی جوائنٹ سیکریٹری (واٹر) محترمہ سواتی مینا نائک اور پڈوچیری کے محکمہ تعمیراتِ عامہ کی کمشنر و سیکریٹری ڈاکٹر اے متھاما نے دستخط کیے۔ مفاہمت نامے کا تبادلہ پڈوچیری کے جوائنٹ ریذیڈنٹ کمشنر جناب روی دیپ سنگھ چہار نے کیا۔

یہ تقریب آج سہ پہر 3:30 بجے مرکزی وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جبکہ پڈوچیری کے وزیر اعلیٰ جناب این رنگاسامی اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دیگر سینئر عہدیداروں نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔

دن کا پانچواں مفاہمت نامہ ناگالینڈ کے ساتھ شام 4 بجے طے پایا۔ اس موقع پر ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ جناب نیفیو ریو نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔ ان کے ساتھ ناگالینڈ کے وزیر برائے محکمہ عوامی صحت انجینئرنگ جناب جیکب ژیمومی اور ریاست کے دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

 

ناگالینڈ کے ساتھ مفاہمت نامے پر محکمہ پینے کا پانی و صفائی کی جوائنٹ سیکریٹری (واٹر) محترمہ سواتی مینا نائک اور ناگالینڈ کے سیکریٹری و مشن ڈائریکٹر (جل جیون مشن) جناب زارین تھنگ ایزونگ نے دستخط کیے، جبکہ مفاہمت نامے کا تبادلہ ناگالینڈ ہاؤس کی جوائنٹ ریذیڈنٹ کمشنر محترمہ شیرون لونگچاری نے کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل نے کہا کہ جناب نریندر مودی کی قیادت میں شروع کیا گیا جل جیون مشن ملک بھر میں دیہی پینے کے پانی کی فراہمی میں انقلابی تبدیلی کا باعث بنا ہے اور خاص طور پر خواتین اور بچیوں کو پانی لانے کی مشقت سے نجات دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت اب مشن کے دوران تعمیر کیے گئے بنیادی ڈھانچے کی پائیداری، نل کے کنکشنوں کی فعالیت، پانی کے معیار، آبی ذرائع کے تحفظ، آپریشن و دیکھ بھال، کمیونٹی کی ملکیت اور باقاعدہ نگرانی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

مرکزی وزیر نے آبی تحفظ، بارش کے پانی کے ذخیرے، زیرِ زمین پانی کی بھرپائی، استعمال شدہ پانی کے انتظام، آبی ذخائر کے تحفظ اور کمیونٹی کی بنیاد پر پانی کے معیار کی نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گرام پنچایتوں، ضلعی آبی و صفائی مشنز، ریاستی آبی و صفائی مشنز اور مقامی برادریوں کو قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

اروناچل پردیش کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے کہا کہ ریاست کے پہاڑی جغرافیے اور زیادہ بارش کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن و دیکھ بھال کی پالیسی جلد نوٹیفائی کی جائے گی۔ انہوں نے ضلعی آبی و صفائی مشنز کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے، لیبارٹریوں کی این اے بی ایل منظوری کے عمل کو تیز کرنے اور اثاثوں کو باضابطہ طور پر گرام پنچایتوں کے حوالے کرنے کے لیے "جل ارپن دیوس" منانے پر بھی زور دیا۔

جھارکھنڈ کے لیے مرکزی وزیر نے مناسب آپریشن و دیکھ بھال، آبی ذرائع کے تحفظ اور پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ ریاست کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے انہوں نے جاری منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ باقی تمام دیہی گھرانوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشترکہ کوششوں سے جھارکھنڈ جل جیون مشن 2.0 کے اہداف حاصل کر لے گا۔

تمل ناڈو کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے جل جیون مشن کے تحت ریاست کی پیش رفت کی ستائش کی اور یقین ظاہر کیا کہ ریاست باقی ماندہ کام بھی جلد مکمل کر لے گی۔ انہوں نے مالیاتی کمیشن کے گرانٹس اور وی بی-جی رام جی فنڈز کے مؤثر استعمال کے ذریعے کمیونٹی سطح پر بارش کے پانی کے ذخیرے، آبی ذرائع کے تحفظ، پانی کے بچاؤ اور استعمال شدہ پانی کے انتظام پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی۔

جناب سی آر پاٹل نے 2021 میں "ہر گھر جل" سرٹیفکیشن حاصل کرنے پر پڈوچیری کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اب توجہ باقاعدہ، قابلِ اعتماد اور پائیدار آبی خدمات، عوامی بیداری، کمیونٹی کی ملکیت، گرام پنچایت سطح پر خدمات کی فراہمی، سوجل گاؤں شناختی نمبر کے اجرا اور نظرثانی شدہ آپریشن و دیکھ بھال پالیسی کے نفاذ پر ہونی چاہیے۔

 

ناگالینڈ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے اعتماد ظاہر کیا کہ ریاست رواں سال باقی تمام گھرانوں کو نل کے ذریعے پانی کے کنکشن فراہم کر دے گی، جس سے مقامی برادری، بالخصوص خواتین اور بچوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی سہولت مسلسل حاصل ہوتی رہے گی۔

اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو نے اپنے خطاب میں کہا کہ جل جیون مشن نے اروناچل پردیش میں دیہی پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، حالانکہ ریاست دشوار گزار جغرافیے، بکھری ہوئی آبادیوں اور دور دراز علاقوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کے تحت ریاست ہر گھر تک نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کے ہدف کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت طے پانے والا مفاہمت نامہ آبی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور دیہی پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کی پائیداری اور بھروسا مندی میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے آبی ذرائع کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی "جل سنکلپ" پہل کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت فنڈنگ کے خلا کو پُر کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں اروناچل پردیش اسپرنگ ریجووینیشن پروگرام بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش میں آبی ذخائر کے کیچمنٹ علاقوں کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ریاست میں زمین کی بیشتر ملکیتیں کمیونٹی کی بنیاد پر قائم ہیں۔ "اروناچل پردیش تحفظ و انتظامِ آبی ذخائر برائے پینے کا پانی ایکٹ" کے ذریعے ریاستی حکومت کمیونٹی کی شمولیت اور ادارہ جاتی تعاون کے ساتھ پینے کے پانی کے ذرائع اور ان کے کیچمنٹ علاقوں کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔

 

 انہوں نے مشن کے تئیں ریاست کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی آبی و صفائی مشن، ریاستی نوڈل افسران اور متعلقہ محکمے دیہی پینے کے پانی کے نظام کے مؤثر نفاذ اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت سورین نے جل جیون مشن کے تحت ہر دیہی گھرانے کو محفوظ اور قابلِ اعتماد پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے جھارکھنڈ کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمت نامہ بالخصوص دور دراز اور دیہی علاقوں میں فعال نل کنکشنوں کی توسیع کی کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دشوار گزار جغرافیائی حالات، جنگلاتی علاقوں سے پائپ لائن بچھانے اور قومی شاہراہوں کی اتھارٹی اور داموودر ویلی کارپوریشن کے دائرۂ کار میں آنے والے علاقوں میں کام کے لیے این او سی حاصل کرنا جھارکھنڈ کو درپیش اہم چیلنجز ہیں۔ انہوں نے جاری دیہی آبی فراہمی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے حکومتِ ہند سے مسلسل تعاون کی درخواست کی۔

انہوں نے مؤثر نفاذ کے لیے باقاعدہ نگرانی، جوابدہی اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیونٹی کی شمولیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیونٹی پر مبنی گروپس اور جل سہیائیں دیہی آبی فراہمی کے نظام کے آپریشن، نگرانی اور دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہیں آن لائن شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے شکایات درج کرنے اور ان کے حل کے لیے بھی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

 

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جناب سی جوزف وجے نے اپنے خطاب میں جل جیون مشن کی مدتِ عمل کو دسمبر 2028 تک بڑھانے پر حکومتِ ہند اور وزارتِ جل شکتی کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کو آبی وسائل کے حوالے سے منفرد چیلنجوں کا سامنا ہے کیونکہ ریاست میں پانی کا کوئی بڑا مستقل ذریعہ موجود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے پینے کے پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اور متعدد دیہات پر مشتمل آبی فراہمی منصوبوں کا نفاذ ضروری ہے، جس کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور آبی بنیادی ڈھانچے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔

جاری اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پہلے سے منظور شدہ کاویری پر مبنی آبی فراہمی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے، جس سے دھرم پوری اور کرشن گیری جیسے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے اضلاع کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے دیہی برادریوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی معاونت ریاست کے دیہی آبی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر دیہی گھرانے کو مستقل بنیادوں پر محفوظ اور وافر مقدار میں پینے کا پانی دستیاب ہو۔ انہوں نے مشن کے مقاصد کے تئیں ریاستی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ مرکز اور ریاست کے درمیان مسلسل تعاون سے ریاست میں دیہی پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی مزید مستحکم ہوگی۔

 

پڈوچیری کے وزیر اعلیٰ جناب این رنگاسامی نے جل جیون مشن کے تصور کو عملی شکل دینے اور اس کے کامیاب نفاذ پر جناب نریندر مودی اور وزارتِ جل شکتی کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسے عوامی فلاح و بہبود کے سب سے اہم اقدامات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مشن نے دیہی ترقی کے مرکز میں وقار، صحت اور معیارِ زندگی کو رکھ کر پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کے نظام میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پڈوچیری کا محکمہ مقامی انتظامیہ جل جیون مشن 2.0 کے مقاصد کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور وزارتِ جل شکتی کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

انہوں نے آبی ذرائع کے تحفظ، پانی کے معیار کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے ڈیجیٹل نظاموں کے استعمال، کمیونٹی کی ملکیت اور انتظام میں چلنے والے آبی فراہمی کے نظام کے فروغ، اور آبی وسائل کے پائیدار انتظام کو اہم ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات مشن کے جامع اور ہمہ گیر نقطۂ نظر سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

 

اپنے خطاب میں ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ جناب نیفیو ریو نے حکومتِ ہند، وزارتِ جل شکتی اور محکمہ پینے کا پانی و صفائی کا مسلسل تعاون فراہم کرنے پر دلی شکریہ ادا کیا اور جل جیون مشن کو حالیہ برسوں کی دیہی ترقی کی سب سے انقلابی اسکیموں میں سے ایک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مشن نے محفوظ پینے کے پانی کو براہِ راست گھرانوں تک پہنچا کر عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ ریاست کو درپیش منفرد جغرافیائی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہاڑی اور بکھری ہوئی دیہی آبادیوں تک قابلِ اعتماد آبی فراہمی کو یقینی بنانا طویل عرصے سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جہاں ماضی میں متعدد خاندان دور دراز چشموں اور روایتی آبی ذرائع پر انحصار کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جل جیون مشن ایک بڑی تبدیلی کا باعث بنا ہے، جس نے خاص طور پر خواتین اور بچوں کی روزمرہ مشکلات میں کمی لائی ہے اور دیہی برادریوں کو زیادہ محفوظ اور آسانی سے دستیاب پینے کا پانی فراہم کیا ہے۔

 

اپنے ابتدائی خطاب میں محکمہ پینے کا پانی و صفائی کے سیکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے اس بات پر زور دیا کہ مفاہمت نامہ صرف پائپ لائنوں جیسے بنیادی ڈھانچے کے قیام تک محدود نہیں بلکہ نچلی سطح پر پائیدار خدمات کی فراہمی کو بھی ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے غیر مرکزی نظام اور کمیونٹی کی ملکیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرام پنچایتوں اور دیہی آبی و صفائی کمیٹیوں کو دیہات کے اندر آبی فراہمی کے نظام کے انتظام اور آپریشن کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مفاہمت ناموں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جناب اشوک کے کے مینا نے کہا کہ یہ مفاہمت نامے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ایک مشترکہ عہد کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کا مقصد جل جیون مشن 2.0 کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور دیہی گھرانوں کو محفوظ، قابلِ بھروسا اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔

پائیدار آبی خدمات کی فراہمی کے لیے ادارہ جاتی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی کلکٹروں کو ضلعی آبی و صفائی مشن کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اجلاسوں سے دیہی ایکشن پلان کی تیاری میں سہولت ملے گی اور پنچایتوں کو دیہی آبی فراہمی کے نظام کے انتظام کے قابل اداروں کے طور پر تصدیق حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ منصوبوں کے نفاذ کی نگرانی، وقتاً فوقتاً جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے پر گرام پنچایتوں کو مطلوبہ معاونت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جناب نریندر مودی کے "ہر گھر نل سے مسلسل جل" کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :7888  )


(ریلیز آئی ڈی: 2268199) وزیٹر کاؤنٹر : 4