عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
وزیر مملکت (پی پی) جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی پی جی آر اے ایم ایس کے اے آئی سے تقویت یافتہ وائس چیٹ بوٹ ’سمادھان دیدی‘ کا آغاز کیا؛ اسے ہندوستان میں عوامی شکایات کے نظام کو لوگوں تک پہنچانے والا قرار دیا گیا
جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اصلاح حکومت کے ’پورے ملک کی شمولیت کے نقطۂ نظر کی عکاس ہے؛ ریاستوں اور دیگر شراکت داروں سے شکایات کے پورٹلز میں اے آئی پر مبنی وائس معاون ٹولز کو اپنانے اور ضم کرنے کی اپیل
شہری اب اپنی مادری زبان میں صرف بول کر شکایات درج کرا سکیں گے؛ نظام خودکار طور پر متعلقہ وزارت اور محکمہ کی شناخت کرے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 MAY 2026 4:37PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر (آزادانہ چارج)، نیز وزیر اعظم کے دفتر، محکمۂ جوہری توانائی، محکمۂ خلائی امور اور عملہ، عوامی شکایات و پنشن کے وزیر مملکت جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) کی جانب سے بھاشنی کے اشتراک سے تیار کردہ سی پی جی آر اے ایم ایس کے اے آئی سے تقویت یافتہ وائس چیٹ بوٹ "سمادھان دیدی" کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی پی جی آر اے ایم ایس کے اے آئی سے تقویت یافتہ وائس چیٹ بوٹ میں اس تبدیلی کو ملک میں "عوامی شکایات کے نظام کو لوگوں تک پہنچانے والا" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شہریوں کے لیے سرکاری خدمات کے استعمال کو مزید آسان بنانے کے حوالے سے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکمرانی سے متعلق اصلاحات میں ہمیشہ شہری مرکزیت پر مبنی نقطۂ نظر کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔
عوامی انتظامیہ میں ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) شکایات کے ازالے کے نظام کو زیادہ قابلِ رسائی، مؤثر اور جوابدہ بنا کر اس کی جمہوریت کاری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پر مبنی ٹولز شہریوں کی شمولیت کو مضبوط بنا رہے ہیں اور شکایات کے ازالے کے معیار اور رفتار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات حکومت کے "پورے ملک کی شمولیت" کے وژن کا واضح ثبوت ہیں۔ جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ریاستوں اور دیگر شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ آخری فرد تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے "سمادھان دیدی" جیسے اے آئی سے چلنے والے وائس معاون ٹولز کو اپنے ریاستی شکایتی پورٹلز میں اپنائیں اور ضم کریں۔
ملک میں گزشتہ 12 برس کے دوران عوامی شکایات کے نظام میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جب 2014 میں موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو شکایات کے ازالے کے نظام میں عوامی شرکت محدود تھی اور سالانہ صرف تقریباً دو لاکھ شکایات درج ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پی جی آر اے ایم ایس میں اصلاحات کے بعد اس نظام کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد کئی گنا بڑھ کر اب سالانہ 25 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شکایات کے ازالے کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہونے کے ساتھ عوام کا حکومت کے جوابدہ اور شہری دوست طرزِ حکمرانی پر اعتماد نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے، اور یہی بڑھتی ہوئی عوامی شرکت اس اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ "سمادھان دیدی" ایسا نظام ہے جو اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمرانی کے فوائد معاشرے کے آخری فرد تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا لسانی تنوع رسائی میں رکاوٹ نہیں بلکہ سہولت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ یہ ایک خود انحصار اور تکنیکی طور پر خودمختار ہندوستان کے تصور کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں ہر شہری کی آواز اسی کے اپنے الفاظ اور اپنی زبان میں سنی جائے۔
جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید بتایا کہ سی پی جی آر اے ایم ایس پلیٹ فارم پر لسانی رسائی کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل 22 زبانوں کے علاوہ بھوجپوری، گارو، خاصی، میزو اور بودھی جیسی علاقائی اور مقامی زبانوں کو بھی مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور شمولیت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی پی جی آر اے ایم ایس شہری مرکز حکمرانی کے ایک عالمی نمونے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جو اس بات کی مثال ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نظامِ حکمرانی کس طرح شفافیت، جوابدہی اور مؤثریت کو فروغ دے سکتا ہے، جبکہ شہریوں اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

"سمادھان دیدی" عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید آسان، قابلِ رسائی اور حقیقی معنوں میں کثیر لسانی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب کوئی بھی شہری اپنی شکایت اپنی ہی زبان میں صرف زبانی طور پر بیان کر کے درج کرا سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ شکایت کس وزارت، محکمہ، زمرے یا ذیلی زمرے سے متعلق ہے۔
چیٹ بوٹ شہری کی شکایت کو سمجھتا ہے، ضروری وضاحت کے لیے چند متعلقہ سوالات پوچھتا ہے، اور پھر خودکار طور پر متعلقہ وزارت، محکمہ، زمرہ اور ذیلی زمرے کی نشاندہی کرتے ہوئے شکایت کو درست اتھارٹی کے پاس درج کر دیتا ہے۔
یہ نظام بھاشنی کی لسانی صلاحیتوں کو سی پی جی آر اے ایم ایس کے اعداد و شمار پر تربیت یافتہ شکایات کی درجہ بندی کے ماڈلز کے ساتھ مربوط کرتا ہے، جس سے مختلف ہندوستانی زبانوں میں ایک ہموار اور مؤثر تجربہ ممکن ہو سکا ہے۔ یہ پلیٹ فارم محفوظ سرکاری انفراسٹرکچر کے اندر تیار کیا گیا ہے، جس کے باعث صارفین کے ڈیٹا کی رازداری بھی یقینی بنائی گئی ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران چیٹ بوٹ کا براہِ راست مظاہرہ کیا گیا اور اسے مختلف ہندوستانی زبانوں میں آزمایا گیا۔ اس موقع پر محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی) کی سیکریٹری جناب نویدیتا شکلا ورما، ایڈیشنل سیکریٹری جناب پونیت یادو، محکمہ کے سینئر افسران اور بھاشنی کے نمائندے بھی موجود تھے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :7761 )
(ریلیز آئی ڈی: 2267053)
وزیٹر کاؤنٹر : 16