نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

میگھالیہ میں 2027 کے نیشنل گیمز ایک نیا معیار قائم کریں گے: ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ؛ میگھالیہ میں 150 کروڑ روپے کے ہائی آلٹیٹیوڈ تربیتی مرکز کا اعلان


آٹھ لکشمی ریاستیں 39ویں نیشنل گیمز کے لیے تیار: ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے تیاریوں کا جائزہ لیا، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے بڑے اقدامات کا اعلان

ہندوستان کی کھیلوں کی ترقی کے مرکز میں شمال مشرق: ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے نیشنل گیمز کی تیاریوں کا جائزہ لیا، شیلانگ میں کثیر المقاصد مربوط انڈور اسپورٹس ہال کا افتتاح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAY 2026 4:51PM by PIB Delhi

نوجوانوں کے امور اور کھیل کے مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے آج 2027 میں منعقد ہونے والے 39ویں نیشنل گیمز کی میزبانی کے لیے میگھالیہ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے مقصد سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

اس اجلاس میں میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ جناب کونراڈ کے سنگما، نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزیر مملکت محترمہ رکشا کھڈسے، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی صدر محترمہ پی ٹی اوشا، میگھالیہ کے وزیر کھیل جناب ویلادمیکی شیلا، شمال مشرقی خطے کی آٹھ ریاستوں کے کھیل حکام اور نوجوانوں کے امور و کھیل کی مرکزی وزارت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

 

اجلاس کے دوران نوجوانوں کے امور اور کھیل کے مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے زور دے کر کہا کہ جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق 39ویں نیشنل گیمز محض ایک بڑی کھیلوں کی تقریب تک محدود نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ انہیں میگھالیہ اور پورے شمال مشرقی خطے کے بھرپور ثقافتی ورثے، تنوع اور منفرد شناخت کو ملک اور دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیشنل گیمز کو ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ کی ایک یادگار تقریب بنانے کے لیے عالمی معیار کے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے، بہترین انتظامات اور عوام کی وسیع شرکت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

 

جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا، ’’2027 میں میگھالیہ میں ہونے والے 39ویں نیشنل گیمز کے لیے پائیداری (سَسٹین ایبلٹی) اور تنوع ہمارا پیغام ہے۔‘‘

مختلف ریاستوں کی جانب سے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی میں بڑھتی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کے امور اور کھیل کے مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ نیشنل گیمز میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی تلاش پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’نیشنل گیمز کو ڈوپنگ کے بارے میں بیداری پھیلانے کے ایک موقع کے طور پر بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کے اثرات اور نقصانات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔‘‘

جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ میگھالیہ میں نیشنل گیمز کے دوران ایم وائی بھارت کے رضاکاروں کو بھی خدمات کے لیے شامل کیا جانا چاہیے۔

مرکزی وزیر نے آٹھ لکشمی (شمال مشرقی) ریاستوں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران وزیر کے سامنے 39ویں نیشنل گیمز 2027 کی تیاریوں، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، مقابلوں کے مقامات کی تیاری، منصوبوں کی تکمیل کے مقررہ اوقات اور خصوصی توجہ کے متقاضی اہم شعبوں کے حوالے سے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔

شمال مشرقی خطے کے تین روزہ دورے پر موجود نوجوانوں کے امور اور کھیل کے مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے آج شیلانگ میں جدید سہولیات سے آراستہ ایک کثیر المقاصد مربوط انڈور اسپورٹس ہال کا بھی افتتاح کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ سہولت نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی اور میگھالیہ سمیت پورے شمال مشرقی خطے میں کھیلوں کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ کھیلوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور نئی نسل کی کھیلوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

نوجوانوں کے امور اور کھیل کے مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ میگھالیہ میں جلد ہی 150 کروڑ روپے کی لاگت سے عالمی معیار کا ایک جدید ہائی آلٹیٹیوڈ تربیتی مرکز قائم کیا جائے گا۔

میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ جناب کونراڈ کے سنگما کی تعریف کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ ان کی قیادت میں گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ریاست نے کھیلوں کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جناب کونراڈ کے سنگما نے میگھالیہ میں کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع اور دور اندیش کوشش کی ہے۔ کھیلوں کی سائنس اور جدید تربیتی طریقوں کے فروغ سے لے کر باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور نچلی سطح پر کھیلوں کی ترقی کے مضبوط پروگراموں کے قیام تک، انہوں نے دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔‘‘

ہندوستان کے کھیلوں کے منظرنامے میں شمال مشرقی خطے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ جب میگھالیہ جیسی ریاست نیشنل گیمز کی میزبانی کے لیے آگے آتی ہے تو یہ پورے ملک کے لیے فخر کی بات ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی خطہ مسلسل غیرمعمولی کھیل صلاحیتوں کو جنم دیتا رہا ہے اور نیشنل گیمز کی میزبانی سے کھیلوں کی ترقی کو مزید تقویت ملے گی، نوجوان کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی حاصل ہوگی اور ملک کے دیگر حصوں کے سامنے شمال مشرقی خطے کی بھرپور ثقافت، مہمان نوازی اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔

 

جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے مزید کہا، ’’میں نے میگھالیہ میں 39ویں نیشنل گیمز کے لیے جاری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تیاریوں کا جائزہ لیا ہے، اور میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نیشنل گیمز 2027 اس تقریب کی تاریخ میں ایک نیا معیار قائم کریں گے۔‘‘

شمال مشرقی خطے میں کھیلوں کی ترقی پر مرکز کی نئی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں کے امور اور کھیل کے مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ اب کسی ریاست کا حجم یا آبادی کھیلوں کے وسائل اور مواقع کی تقسیم کا پیمانہ نہیں رہا۔

انہوں نے کہا، ’’آج شمال مشرقی خطے کی آبادی ہندوستان کی کل آبادی کا صرف تقریباً چار فیصد ہے، لیکن ملک بھر کے تقریباً 25 فیصد کھیلو انڈیا مراکز اسی خطے میں قائم ہیں۔ یہ شمال مشرق کی بے پناہ کھیل صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ ہند کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ملک کے بیشتر اضلاع میں جہاں ایک کھیلو انڈیا مرکز قائم کیا گیا ہے، وہیں شمال مشرقی خطے کے کئی اضلاع میں دو دو مراکز فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ کھلاڑیوں کو تربیت، کوچنگ اور نچلی سطح پر کھیلوں کی ترقی کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔

یہ اس خطے میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ایک مضبوط کھیل نظام کی تعمیر کے لیے ہماری مرکوز کوششوں کا واضح ثبوت ہے۔‘‘

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 7759 )


(ریلیز آئی ڈی: 2267041) وزیٹر کاؤنٹر : 18