بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت نے 2026 کی صدارت کے تحت برکس ایم ایس ایم ای  کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی سمت اہم پیش رفت کی


بہت چھوٹی، چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت کےزیر اہتمام ’’ایم ایس ایم ای کے  لیے ٹیکنالوجی تک رسائی میں اضافہ‘‘ کے موضوع پر برکس پارٹ این آئی آر ٹریک کے تحت ایس ایم ای  ورکنگ گروپ کے دوسرےاجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا

برکس رکن ممالک کے درمیان ہونے والے تبادلۂ خیال میں ’’بہت چھوٹی، چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے اختراعات سے فائدہ اٹھانے اور ٹیکنالوجی کو عملی و تجارتی شکل دینے‘‘ پر خصوصی توجہ دی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAY 2026 1:15PM by PIB Delhi

بہت چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی نئی صنعتی ترقی پر برکس شراکت داری (پارٹ این آئی آر) کے تحت قائم ورکنگ گروپ کی قیادت بھارت کی بہت چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت کر رہی ہے۔ بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کے تحت اس وزارت کی جانب سے تین ورکنگ گروپ اجلاس اور برکس  بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے پہلے فورم کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں تین اہم ترجیحات پر توجہ دی جائے گی: مالی وسائل تک رسائی، ٹیکنالوجی تک رسائی اورایم ایس ای صنعتوں کی پائیدار ترقی۔

مورخہ 24 اپریل 2026 کو منعقد ہونے والے پہلے ایس ایم ای ورکنگ گروپ اجلاس کے بعد، بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی وزارت نے 26 مئی 2026 کو برکس پارٹنرشپ برائے نئی صنعتی ترقی (پارٹ این آئی آر) کے تحت دوسرے ایس ایم ای ورکنگ گروپ اجلاس کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس اجلاس کا موضوع ’’بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی کو بہتر بنانا‘‘ تھا۔ برکس رکن ممالک کے درمیان ہونے والے تبادلۂ خیال  میں ’’اختراعات سے فائدہ اٹھانے اور ٹیکنالوجی کو عملی و تجارتی شکل دینے‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’صنعتی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور ایس ایم ایز میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے تربیت و مہارتوں کی ترقی‘‘ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

اجلاس میں برکس رکن ممالک نے بھرپور اور سرگرم شرکت کی، جس کے ذریعے تجربات اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کا موقع ملا۔ اس موقع پر بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے رول  کو اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت اور جامع ترقی کے فروغ میں انتہائی اہم قرار دیا گیا۔  تبادلہ خیال میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے کے لیے ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے، جس میں ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینا، اختراعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور ایم ایس ایز صنعتوں کی تکنیکی تیاری کو بہتر کرنا شامل ہو۔ اس کا مقصد انہیں علاقائی اور عالمی  ویلو چین میں مؤثر طور پر شامل کرنا ہے۔

اجلاس میں اس بات  کی بھی توثیق کی گئی کہ برکس معیشتوں کے درمیان ٹیکنالوجی تک رسائی، جدت پر مبنی نظام اور  ایم ایس ایم ایز کے لیے مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں مزید گہرا تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان مذاکرات نے اُن ممالک کے درمیان مؤثر پالیسی تبادلے کو ممکن بنایا جو یکساں ترقیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس اجلاس نے اس مشترکہ عزم کو مضبوط کیا کہ برکس ممالک میں ایم ایس ایم ایز کے شعبے کو زیادہ مضبوط، شمولیتی اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جائے۔

اجلاس انتہائی کامیاب اور نتیجہ خیز رہا، جس نے بامعنی تبادلۂ خیال کو فروغ دیا، برکس رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا اور بہت چھوٹی ، چھوٹی اور متوسط صنعتوں کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی اور استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے اہم اور قابلِ قدر نکات سامنے آئے۔

************

ش ح۔ت ف۔ش ت

 (U: 7702)


(ریلیز آئی ڈی: 2266590) وزیٹر کاؤنٹر : 12