نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
شیلانگ میں ’’نشہ مکت یووا فار وکست بھارت – پوروَتّر‘‘ پروگرام کے دوران وزیر مملکت رکشا کھڈسے کی منشیات کے بیجا استعمال کے خلاف مشن موڈ میں عوامی تحریک چلانے کی اپیل
مرکزی وزیرِ مملکت برائے امورِ نوجوانان و کھیل نے کہا کہ کھیل، ثقافت اور سماجی شمولیت کے ذریعے نوجوانوں کی مؤثر شرکت کو مضبوط بنا کر ہی وکست بھارت 2047 کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 MAY 2026 3:26PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت برائے امورِ نوجوانان و کھیل رکشا کھڈسے نے آج نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور مشن موڈ میں کام کرنے کی اپیل کی۔ وہ محکمۂ امورِ نوجوانا ن و کھیل کے تحت مائی بھارت کی جانب سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم)، شیلانگ میں منعقدہ ’’نشہ مکت یووا فار وکست بھارت – پوروَتّر‘‘ پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں۔

اس پروگرام میں 24 روحانی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں، یوتھ آفیسر، سول سوسائٹی سے وابستہ افراد اور مختلف اداروں کے سربراہان نے شرکت کی، جس میں شمال مشرقی خطے میں منشیات مخالف بیداری اور نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق اقدامات کو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی پر غور و خوض کیا گیا۔
اس موقع پر محکمۂ امورِ نوجوانان کی سکریٹری پلوی جین گوول، مائی بھارت کی سی ای او ڈاکٹر پرینکا شکلا، اور آئی آئی ایم شیلانگ کی ڈائریکٹر پروفیسر نلنی پروا ترپاٹھی سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔
محترمہ رکشا کھڈسے نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی ہی 2047 تک وکست بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔

انہوں نے کہا، ’’ہمیں اجتماعی طور پر نشہ مکت ابھیان کو مشن موڈ میں آگے بڑھانا ہوگا۔ ہمارے نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں، اور انہیں صحیح سمت دینے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم انہیں مثبت رہنمائی اور بہتر مواقع فراہم کریں تو یقیناً وکست بھارت 2047 کا خواب پورا ہوگا۔‘‘
وزیرِ مملکت نے منشیات کے استعمال اور نشے کے سنگین اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو محض ایک فرد کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ بڑے سماجی چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کے لیے مربوط سماجی اقدامات اور مسلسل ادارہ جاتی مداخلت ضروری ہے۔
مائی بھارت کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد نوجوانوں کو ملک کی تعمیر کی سرگرمیوں سے جوڑنا اور انہیں نچلی سطح پر سماجی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے یوتھ آفیسر اور شراکت دار تنظیموں سے اپیل کی کہ مائی بھارت کے اقدامات کو ہر ضلع اور سماج کے ہر طبقے تک پہنچایا جائے۔
محترمہ رکشا کھڈسے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک مؤثر سماجی قوت ہے، جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھ کر انہیں نشے، ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’کھیل نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کا ایک نہایت مؤثر وسیلہ بن سکتے ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ جھارکھنڈ، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور گوا میں پہلے ہی کھیلوں کی مضبوط روایت موجود ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کھیل، مقامی ثقافتی سرگرمیوں اور مثبت سماجی سروکار سے جوڑنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی ثقافتی اور روحانی پروگراموں میں بڑھتی ہوئی شرکت انہیں مثبت سماجی سرگرمیوں اور اجتماعی ذمہ داری کی جانب راغب کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی آئی ایم شیلانگ کی ڈائریکٹر پروفیسر نلنی پروا ترپاٹھی نے کہا کہ کھیل اور انتظامی تعلیم مل کر ذمہ دار شہریوں اور مستقبل کے قائدین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور افسردگی کو کم کرنے کے ساتھ نظم و ضبط، ٹیم ورک اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئی آئی ایم شیلانگ نوجوانوں کی مثبت سماجی اور جذباتی نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے طلبہ کو مسلسل کھیل، یوگا، مراقبہ، ثقافتی سرگرمیوں اور ہم نصابی پروگراموں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔
پروگرام کے شرکاء سے منشیات کے خلاف سفیر بننے کی اپیل کرتے ہوئے پروفیسر نلنی ترپاٹھی نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو اور تبادلۂ خیال قومی سطح پر منشیات مخالف تحریک کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
پروگرام کے دوران مائی بھارت پورٹل، مائی بھارت کے ادارہ جاتی اقدامات اور منشیات سے نجات و نوجوانوں تک رسائی کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کی بہترین سرگرمیوں پر بھی پریزنٹیشن پیش کی گئیں۔
محترمہ رکشا کھڈسے نے کہا کہ اس سے قبل بنارس میں منعقد ہونے والے اسی نوعیت کے مشاورتی اجلاسوں کے نتیجے میں ’’کاشی اعلامیہ‘‘ کے تحت اہم سفارشات سامنے آئی تھیں، جن کے متعدد نکات پر وزارت سرگرمی کے ساتھ عمل کر رہی ہے۔
حکومت کے منشیات مخالف اقدامات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل ملک بھر میں بیداری، عوامی پہنچ اور نچلی سطح پر مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔
پروگرام کا اختتام اس اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا کہ وکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق منشیات سے پاک، صحت مند اور سماجی طور پر بااختیار ہندوستان کی تعمیر کے لیے نوجوانوں کی قیادت میں جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
***
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-7664
(ریلیز آئی ڈی: 2266365)
وزیٹر کاؤنٹر : 6