پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ پنچایتی راج کی جانب سے دیہی علاقوں میں خواتین کے تحفظ کو پختہ کرنے  کے لیے ’نربھے رہو‘ مہم کے تحت ٹریننگ آف ٹرینر پروگرام کا انعقاد


’نربھے رہو‘ مہم کا مقصد ملک بھر میں تربیت اور صلاحیت سازی کے پروگراموں کے ذریعے 32 لاکھ سے زائد منتخب پنچایتی نمائندوں تک  پہنچنا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAY 2026 11:32AM by PIB Delhi

وزارتِ پنچایتی راج کی جانب سے 25 تا 27 مئی 2026 نئی دہلی میں ’’تشدد سے آزادی: خواتین کے تحفظ و سلامتی سے متعلق قانونی دفعات پر منتخب خواتین نمائندگان کی صلاحیت سازی‘‘ کے موضوع پر تین روزہ ٹریننگ آف ٹرینر پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام وزارت کی ’نربھے رہو‘ مہم کے تحت نربھیا فنڈ کے ذریعے، وزارتِ بہبودی  خواتین و اطفال  اور نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو)، بنگلور کے اشتراک سے منعقد ہوا۔اس پروگرام کا مقصد منتخب خواتین نمائندگان اور پنچایتی نمائندوں کی خواتین کے تحفظ، قانونی بیداری، صنفی حساسیت، ادارہ جاتی کارروئی کے نظام اور سماجی سطح پر معاونت کے ڈھانچوں سے متعلق صلاحیتوں کو مضبوط بنانا تھا۔ پروگرام میں تقریباً 50 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹس آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج (ایس آئی آر ڈی اینڈ پی آرز)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج (این آئی آر ڈی اینڈ پی آر) کے تحت قائم اسکول آف ایکسیلنس اِن پنچایتی راج (ایس او ای پی آر)، پیرامل فاؤنڈیشن اور ٹرانسفارم رورل انڈیا فاؤنڈیشن (ٹی آر آئی ایف) کے نمائندے شامل تھے۔ پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے وزارتِ پنچایتی راج کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج اور آئی آئی پی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سریندر کمار باگڈے نے خطاب کیا۔

اپنے کلیدی خطاب میں جناب وویک بھاردواج نے نچلی سطح پر بیداری، شمولیت اور انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے میں پنچایتی راج کے  اداروں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ باخبر اور حساس پنچایتی قیادت خواتین کے تحفظ، وقار اور سلامتی سے متعلق مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے، ساتھ ہی دیہی علاقوں میں ذمہ دارانہ سماجی معاونتی نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت کی جانب سے 11 مارچ 2026 کو نربھیا فنڈ کے تحت شروع کی جانے والی  ’نربھے رہو‘ مہم کے تحت پنچایتوں میں خواتین کے تحفظ اور صنفی لحاظ سے  حساس طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے تین بڑے اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان میں نربھے نیتری شامل ہے، جو منتخب خواتین نمائندگان کی صلاحیت سازی اور قانونی بیداری پر مرکوز ہے؛ نربھے چیتنا، جس کا مقصد منتخب مرد نمائندوں کو صنفی مساوات اور خواتین سے متعلق مسائل کے تئیں حساس بنانا ہے؛ اور نربھے درشٹی، جس کے تحت پنچایتوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی حفاظتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے دیہی علاقوں کے اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس مہم کا ہدف ملک بھر میں تقریباً 14.5 لاکھ منتخب خواتین نمائندگان اور تقریبا  17.5 لاکھ منتخب مرد نمائندوں تک تربیتی، بیداری اور ادارہ جاتی صلاحیت سازی کے پروگراموں کے ذریعے پہنچ حاصل کرنا ہے۔

نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی، بنگلور کے پروفیسر (ڈاکٹر) سائی رام بھٹ نے اپنے خطاب میں نچلی سطح پر قانونی بیداری، صنفی حساسیت اور متاثرہ خواتین پر مبنی معاونتی طرزِ عمل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی نمائندے بیداری کو فروغ دے کر، مقامی معاونت کے نظام کو مضبوط بنا کر اور خواتین کو انصاف و ادارہ جاتی سہولیات تک رسائی فراہم کرکے سماجی تبدیلی کے مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔

تین روزہ پروگرام میں صنفی تشدد، گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی، سائبر تحفظ، متاثرین کے معاونتی نظام، قانونی چارہ جوئی، متاثرین کو معاوضہ فراہمی، سماجی شمولیت اور پنچایت  کی سطح پر ابتدائی امدادی نظام سے متعلق مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ تربیت کے دوران اشتراکی   اور عملی طرزِ تعلیم اختیار کیا گیا، جس میں ماہرین کے خطابات، طبقاتی مباحثے، مطالعاتی مقدمات، میوٹ کورٹ کی مشقیں، کردار نگاری (رول پلے) اور تجرباتی تعلیمی طریقوں کو شامل کیا گیا۔پروگرام کے دوران مختلف اجلاس میں ممتاز قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور عملی میدان سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جبکہ مباحثوں میں قانونی دفعات کی عملی سمجھ، متاثرین کے تئیں حساس ادارہ جاتی ردِعمل کو مضبوط بنانے، رپورٹنگ اور رہنمائی کے نظام کو بہتر کرنے، اور تربیت دہندگان کو سماجی رابطے کے لیے زمینی سطح کی معلومات سے آراستہ کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔پروگرام کا اختتام شرکاء کی آراء اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مرحلہ وار تربیتی ماڈل کے ذریعے اس مہم کو وسعت دینے سے متعلق غور و خوض کے ساتھ ہوا۔ یہ پہل دیہی ہندوستان میں خواتین کے تحفظ اور وقار کے لیے سماج کی قیادت میں جاری کوششوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ زیادہ جامع، جوابدہ اور خواتین کے لیے سازگار  پنچایتوں کی تشکیل کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

***

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

UR No-7656


(ریلیز آئی ڈی: 2266253) وزیٹر کاؤنٹر : 8