الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
الیکٹرانکس اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت اور انڈین اسکول آف بزنس نے موہالی میں گورننس سمٹ 2026 کا انعقاد کیا
آئی ایس بی موہالی میں ایک روزہ سربراہ اجلاس نے ہندوستان کے وکست بھارت وژن کے تحت ڈیجیٹل کامرس ، حفاظت ، صحت کی دیکھ بھال اور حکمرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والے حل کو آگے بڑھانے کے لیےشراکت داروں کوایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAY 2026 10:34AM by PIB Delhi
انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) میں بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تعاون سے 23 مئی 2026 کو آئی ایس بی موہالی کیمپس میں گورننس سمٹ: 2026انکلیوژیو اے آئی فار وکست بھارت-جامع مصنوعی ذہانت برائے وکست بھارت کی میزبانی کی ۔
حکومت ہند کی الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے سمٹ کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز ایک افتتاحی کلیدی خطاب سے کیا ۔انہوں کہاکہ ڈیجیٹل معیشت کے حاشیے پر رہنے والوں سمیت ہر شہری کی خدمت کرنے والے اے آئی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے حکومت نے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہندوستان کو پیداواریت بڑھانے ، حکمرانی کو بہتر بنانے اور صحت کی دیکھ بھال،تعلیم ، مینوفیکچرنگ اور مالی شمولیت جیسے شعبوں تک رسائی کو بڑھانے کے لیے ایک تبدیلی کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ علمی ملازمتوں پر اے آئی کے اثرات کے بارے میں خدشات پائے جارہے ہیں ، لیکن ہندوستان جامع ترقی کے لیے اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے لیے ایک منفرد پوزیشن میں ہے ۔
دن بھر کے پروگرام میں چار موضوعاتی پینل مباحثے پیش کیے گئے جن میں ڈیجیٹل کامرس میں اے آئی کے کردار ، خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن حفاظت ، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اور استطاعت ، اور روزگار پیدا کرنے اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کا احاطہ کیا گیا ۔ ایک متوازی گول میز کانفرنس میں ریاستی حکومتوں سے لے کر گرام پنچایتوں تک اورسماج کے آخری میل تک عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اے آئی کے کام کرنے کا جائزہ لیا گیا ۔
پروفیسر اشونی چھتری ، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی ، آئی ایس بی نے اپنے افتتاحی خطاب میں اے آئی کے عزائم کو قابل عمل گورننس فریم ورک میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ‘‘اے آئی کو اگلی نسل کے مستقبل کی تشکیل کرنے والے ایک طویل مدتی قومی مشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور ابھرتے ہوئے اے آئی منظر نامے کے کلیدی جہتوں کے طور پر عدم مساوات سے نپٹنے ، پیش رفت کرنے کے مواقع اور ملازمتوں کے مستقبل کی نشاندہی کی جانی چاہیے ۔’’ پروفیسر چھتری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کے مواقع تک رسائی مناسب تحفظات ، سماجی تحفظ کے طریقہ کار اور مثبت کارروائی کے ذریعے مساوی رہنی چاہیے ۔
سربراہ اجلاس میں سینئر سرکاری عہدیداروں ، صنعت کے قائدین ، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کومدعو کیا گیا تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ مصنوعی ذہانت کو شمولیت کو گہرا کرنے ، حکمرانی کو مستحکم کرنے اور ہندوستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو تیز کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ریلائنس ریٹیل ، ماسٹر کارڈ ، اپولو ہاسپٹلز ، آئی آئی ٹی مدراس ، یونیسیف انڈیا ، پنجاب پولیس ، اور مرکزی اور ریاستی حکومت کی کئی وزارتوں نے شرکت کی ۔
********
ش ح۔ م م ع۔ج ا
U- 7497
(ریلیز آئی ڈی: 2264882)
وزیٹر کاؤنٹر : 15