نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ نے اعلیٰ اختیاراتی ’ایجوکیشن ٹو ایمپلائمنٹ اینڈ انٹرپرائز‘ کی قائمہ کمیٹی کا پہلا اجلاس طلب کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAY 2026 5:37PM by PIB Delhi

وزیر خزانہ نے اپنے بجٹ خطاب 2026-27 میں حکومت کے اس عزم کو اجاگر کیا ہے، جس کا مقصد خصوصاً خدمات کے شعبے پر زور دیتے ہوئے نوجوان بھارت کی امنگوں کو پورا کرنا اور صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 کے پیرا-51 میں ایک اعلیٰ اختیاراتی ”ایجوکیشن ٹو ایمپلائمنٹ اینڈ انٹرپرائز“ قائمہ کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد بھارت کو 2047 تک عالمی خدماتی منڈی میں 10 فیصد حصہ حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ کمیٹی ترقی، روزگار اور برآمدات کے فروغ کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے گی، مصنوعی ذہانت (AI) سمیت جدید ٹیکنالوجی کے روزگار اور مہارت کی ضروریات پر اثرات کا جائزہ لے گی اور مناسب اقدامات کی سفارش کرے گی۔

اس سلسلے میں، نیتی آیوگ کے سی ای او کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں متعلقہ وزارتوں/محکموں، ریاستی حکومتوں، صنعتی انجمنوں اور ماہرین و تعلیمی شخصیات کے نمائندے شامل ہیں۔ اس میں وزارت محنت و روزگار، محکمۂ تجارت، محکمۂ اقتصادی امور، وزارت الیکٹرانکس و آئی ٹی، محکمۂ اعلیٰ تعلیم، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی، وزارت شماریات و پروگرام نفاذ، آندھرا پردیش، بہار، مہاراشٹر، اور اتر پردیش کی حکومتوں، نیز ناسکام، فکی، سی آئی آئی، ایس ای پی سی اور دیگر ماہرین کی نمائندگی شامل ہے۔

22 مئی 2026 کو، نیتی آیوگ نے مذکورہ قائمہ کمیٹی کا پہلا اجلاس محترمہ ندھی چھبر (سی ای او، نیتی آیوگ) کی سربراہی میں منعقد کیا۔ اجلاس میں محترمہ دیباشری مکھرجی (سکریٹری، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری)، محترمہ دیبجانی گھوش (ڈسٹنگوشڈ فیلو، نیتی آیوگ)، اور مختلف وزارتوں/محکموں، ریاستی حکومتوں، صنعتی انجمنوں، اور ماہرین و تعلیمی اداروں کے سینیئر افسران نے شرکت کی۔

ڈاکٹر سونیا پنت، پروگرام ڈائریکٹر، سروسز ڈویژن، نیتی آیوگ نے خدماتی شعبے کی اقتصادی قدر پیدا کرنے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ نیتی آیوگ کی سی ای او محترمہ ندھی چھبر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، مہارت سازی اور روزگار کے نظام کو معیشت کی بدلتی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ بنانے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بھارت کا آبادیاتی فائدہ نوجوانوں کے لیے پیداواری روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کے لیے موزوں پالیسی اقدامات کے ذریعے ترقی کو تیز کرنے کے وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔

مباحثوں میں مختلف امور کا احاطہ کیا گیا، جن میں افرادی قوت میں شرکت، نوجوانوں کا روزگار، تعلیم اور مہارتوں کی ہم آہنگی، رسمی و غیر رسمی معیشت، اور روزگار کے لیے افرادی قوت کی تیاری شامل تھی۔ شرکاء نے زرعی شعبے سے غیر زرعی شعبوں کی جانب مزدوروں کی منتقلی، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے، اور صنعت سے متعلق مہارت سازی کے راستوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

کمیٹی نے اس بات کا ذکر کیا کہ خدماتی شعبہ بھارت کی اقتصادی ترقی میں مسلسل ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے اقتصادی استحکام، برآمدی مسابقت، روزگار کے معیار، عالمی ویلیو چین میں بڑھتے ہوئے کردار، اور ”وکست بھارت“ کے وژن میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ باقاعدہ وقفوں سے اجلاس منعقد کرے گی اور روزگار کے مواقع بڑھانے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، صنعت سے متعلق مہارت سازی کو مضبوط کرنے، اور خدماتی شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے قابلِ عمل سفارشات کی نشاندہی پر توجہ دے گی۔ اجلاس اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ بھارت کے آبادیاتی فائدے کو ترقیاتی فائدے میں تبدیل کیا جائے، مرکز، ریاستوں، صنعت، تعلیمی اداروں، اور مہارت سازی کے نظام کے درمیان مربوط تعاون کو فروغ دیا جائے، اور تعلیم، روزگار، اور صنعت کاری کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیے مستقبل سے ہم آہنگ پالیسی اقدامات تیار کیے جائیں۔

***********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 7487


(ریلیز آئی ڈی: 2264863) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Gujarati , Tamil