سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت کے توسیع پاتے ڈیٹا سینٹر کے شعبے سے ایک لاکھ انجینئرنگ ملازمتوں کی توقع: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت ’’ڈیٹا مراکز سے متعلق معیشت ‘‘ میں دنیا کی قیادت کر سکتا ہے؛ حکومت صنعت کے ساتھ اضافی تعاون کے لیے تیار ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت اب بیرون ملک کامیابی کی کہانیوں کا انتظار نہیں کرتا؛ آج دنیا جدید ٹیکنالوجیز میں بھارت کے ساتھ شراکت داری کی خواہاں ہے
اے آئی، کوانٹم اور ماحول کیلئے سازگار توانائی بھارت کے اگلے ٹیکنالوجی انقلاب کو آگے بڑھائیں گے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 MAY 2026 3:53PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنس اور وزیر مملکت برائے پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور اگلے سلسلے کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ مستقبل کے عالمی معاشی نظام کو تشکیل دیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب بھارت کسی اور جگہ کی کامیابیوں کا انتظار نہیں کرتا بلکہ دنیا خود بھارت کے ساتھ ٹیکنالوجی شراکت داری کی خواہاں ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت مکمل طور پر ایک قابل اعتماد عالمی ڈیٹا سینٹر ہب کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے، جس کی بنیاد پالیسی اصلاحات، نجی شعبے کی شمولیت، ماحول دوست توانائی کے انضمام اور تیزی سے توسیع پاتے اختراعی ماحولیاتی نظام پر ہے۔
اے ایم چیم انڈیا کے زیر اہتمام سالانہ لیڈرشپ سمٹ میں ’’مستقبل کے لیے بھارت کے ڈیٹا سینٹرز کو مضبوط بنانا: پائیدار سپلائی چینز اور مواقع‘‘ کے خصوصی سیشن سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اب ڈیٹا اکانومی کو صرف ایک تکنیکی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھ سکتا بلکہ اسے ایک اسٹریٹجک قومی موقع سمجھنا ہوگا جو آنے والی دہائیوں میں سرمایہ کاری، روزگار، توانائی کے نظام اور جغرافیائی سیاسی مسابقت پر اثر انداز ہوگا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کی ڈیٹا سینٹر صلاحیت 1.5 گیگا واٹ سے بڑھ کر 2030 تک تقریباً 6.5 گیگا واٹ تک پہنچنے کی توقع ہے اور اس جاری توسیع سے تقریباً ایک لاکھ انجینئرنگ ملازمتیں پیدا ہوں گی، جن میں اے آئی سسٹمز، کولنگ ٹیکنالوجیز، اسمارٹ گرڈز، قابل تجدید توانائی کے انضمام اور جدید ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے جیسے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا تیزی سے ارتقا پذیر ماحولیاتی نظام، جو اے آئی، 6 جی ، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل عوامی ڈھانچے سے تقویت پا رہا ہے، عالمی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون کے بے مثال مواقع پیدا کر رہا ہے۔
ڈیٹا سینٹرز کو ’’مستقبل کی تیل کی معیشت‘‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ڈیٹا کے کنٹرول، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور محفوظ ٹیکنالوجی نظام کے ارد گرد ہمارے مستقبل کا محور ہوگا ۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا جس میں حکومت، نجی صنعت، بنیادی ڈھانچے فراہم کرنے والے ادارے، ٹیلی مواصلات کے نیٹ ورکس، قابل تجدید توانائی کے شراکت دار اور تحقیقی ادارے شامل ہوں تاکہ کافی وسیع ڈیٹا سینٹرز اور تیسرے فریق کی ملکیت والے بازاروں میں موجود مواقع سے مکمل طور پر استفادہ کیا جا سکے۔
تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت آج کئی جدید شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے برابر کھڑا ہے۔ انہوں نے قومی کوانٹم مشن کو ایک بڑی مثال قرار دیا اور کہا کہ بھارت نے اپنے منصوبہ بند اہداف کا نصف حصہ مقررہ وقت کے نصف سے بھی کم عرصے میں حاصل کر لیا ہے۔ آٹھ برسوں میں 2000 کلومیٹر محفوظ کوانٹم مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے ہدف کے مقابلے میں بھارت نے صرف تین سال میں 1000 کلومیٹر سے زائد کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے بھارت کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز اور اسٹریٹجک صنعتوں کے لیے تیار کرنے کے لیے کئی جرات مندانہ اور انقلابی فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کے لیے طویل مدتی ٹیکس مراعات، نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن، سیمی کنڈکٹر مشن اور خلائی و ایٹمی توانائی کے شعبوں میں نجی شرکت کی اجازت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے تک یہ اصلاحات ناقابل تصور سمجھی جاتی تھیں، لیکن بھارت نے تیزی سے ان شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا ہے جو مستقبل کی اقتصادی ترقی اور تکنیکی قیادت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت صرف ٹیکنالوجی کی ترقی میں سہولت فراہم نہیں کر رہی بلکہ صنعت کی شمولیت کو تیز کرنے کے لیے معاون فریم ورک بھی تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کے اختراع اور ڈیپ ٹیک تحقیق کی حالیہ معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں حکومت اور صنعت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کی تعمیر میں برابر کے شراکت دار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں مستقبل کی ترقی کا انحصار مضبوط سپلائی چینز، پائیدار توانائی کے نظام، جدید ٹیلی مواصلاتی رابطے ، سب سی کیبل انفراسٹرکچر، اسمارٹ کولنگ حل اور مختلف شعبوں میں مربوط پالیسی تعاون پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی معاونت اور نجی شعبے کی شراکت کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں بھارت دنیا کے سب سے قابل اعتماد ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے مراکز میں سے ایک بن سکتا ہے۔
5EZT.JPG)
BASD.JPG)
BUM4.JPG)
3FE6.JPG)
*******
ش ح ۔ م ش ۔ م الف
U. No.7430
(ریلیز آئی ڈی: 2264178)
وزیٹر کاؤنٹر : 13