ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: گیر کے جنگلات میں ایشیائی شیروں کی آبادی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 3:32PM by PIB Delhi

ملک میں ایشیائی شیروں کی تعداد 2020 کے 674 سے بڑھ کر 2025 میں 891 ہو گئی ہے۔ گجرات ریاست سے موصولہ معلومات کے مطابق شیروں نے نئے علاقوں جیسے نوٹیفائیڈ جنگلاتی علاقے، دریا کے راستے اور ریونیو بنجر زمینیں میں رہائش اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ ریاست نے انسانی و جنگلی حیات کے ٹکرؤ اور بیماریوں کے خطرات کو کنٹرول کرنے کے لیے ویٹرنری سہولیات کو مضبوط بناتے ہوئے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. شیروں کی ماحولیات، جغرافیائی تقسیم، راہداریوں کے استعمال، آبادی کے ارتکاز کی نقل و حرکت، موسمی پیٹرنز، زمین کے استعمال کی ترجیحات اور اہم انتظامی علاقوں پر سائنسی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایک جامع سیٹلائٹ پر مبنی مطالعہ کیا گیا۔
  2. وائلڈ لائف فرینڈز اور ٹریکرز مقامی آبادی کو علاقے میں جنگلی جانوروں کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
  3. گیر اور گریٹر گیر کے شیر کے مسکن والے علاقے میں گھاس کے میدانوں کی بہتری اور بحالی، شکار بننے والے جانوروں کی تعداد میں اضافہ، اور مسکن کی بہتری
  4. وسیع گیر علاقے میں گنجان آبادی کے انتظام اور سیکورٹی کو مضبوط بنانا۔
  5. اہم راستوں اور شیروں کی آمدورفت کے مقامات کی حد بندی، مسکن کی بہتری اور تحفظ۔
  6. کسانوں کو رات کے وقت فصلوں کے تحفظ کے لیے مچان (اونچے پلیٹ فارم) فراہم کرنا۔
  7. انسانی آبادی والے علاقوں کی طرف جانوروں کی نقل و حرکت کو کم کرنے کے لیے آبی وسائل میں اضافہ۔
  8. ماحولیاتی ترقیاتی سرگرمیاں، کمیونٹی کی شمولیت، قدرتی تعلیم کے کیمپ اور دیگر آگاہی پروگرام۔
  9. ریلوے ٹریک کے آس پاس شیروں کے تحفظ کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار(ایس او پی) تیار کیا گیا، اہم علاقوں میں ٹرینوں کی رفتار پر پابندی اور ریلوے ٹریک کے اطراف نگرانی اور گشت۔

شیروں کی آبادی کے لیے دوسرا مسکن بنانے کے لیے بردا وائلڈ لائف سینکچوری کو ترقی دی گئی ہے اور کوریڈور مینجمنٹ اقدامات نے ذیلی آبادیوں کے درمیان محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا ہے تاکہ نئے مسکنوں میں قدرتی توسیع ممکن ہو سکے۔

اس کے علاوہ شیروں کی نئی آبادی والے علاقوں میں مسکن کی بہتری کے اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں۔ 2019 میں ساسان-گیر میں شیروں کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ایک ہائی ٹیک مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا گیا ہے جو ریڈیو ٹیلی میٹری کا استعمال کرتا ہے۔

 

یہ معلومات ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

 

*****

ش ح۔ م ع ن۔ ج

UNO-7375

 


(ریلیز آئی ڈی: 2263643) وزیٹر کاؤنٹر : 6