وزارت دفاع
وزیردفاع اور جمہوریہ کوریا کے محب وطن وسابق فوجیوں کے امور کے وزیر نے سیول میں ’وار میموریل‘ کا افتتاح کیا
کوریا کی جنگ کے دوران ہندوستانی افواج کی جرأت، قربانی اور انسانی خدمت کو ایک موزوں اور شایان شان خراج عقیدت
प्रविष्टि तिथि:
21 MAY 2026 10:45AM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ اور جمہوریہ کوریا (آر او کے)کے محب وطن و سابق فوجیوں کے امور کے وزیر جناب کوون او-یول نے 21 مئی 2026 کو سیول کے امجنگاک پارک میں’وار میموریل‘(جنگی یادگار )کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ یہ وارمیموریل کورین جنگ کی 75ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات کے حصے کے طور پر تعمیر کی گئی ہے اور یہ جنگ کے دوران ہندوستانی فوج کی 60 پیرا فیلڈ ایمبولینس اور کسٹوڈین فورس آف انڈیا (سی ایف آئی) کی جانب سے پیش کی گئی جرأت، قربانی اور انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کو ایک شاندار خراج تحسین ہے۔


دونوں وزراء نے میموریل پر گلہائے عقیدت پیش کرکے ان بہادر ہندوستانی اہلکاروں کو خراح عقیدت پیش کیا، جن کی خدمات کو جمہوریہ کوریا (جنوبی کوریا) کے عوام آج بھی انتہائی احترام اور ممنونیت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے جزیرہ نما کوریا پر امن و امان کے قیام اور انسانی ہمدردی کے کاموں میں ہندوستان کے تاریخی اور لازوال کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ تاریخ اور قربانیاں، ہندوستان اور جمہوریہ کوریا کے درمیان ’خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری‘کے لیے آج بھی ایک مضبوط بنیاد کا کام کر رہی ہیں۔

جناب راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستانی فوجیوں کے کردار کو یاد کرنا عوامی سطح پر باہمی فہم و ادراک کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کی طرف دوبارہ توجہ مبذول کراتا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند کی جانب سے جمہوریہ کوریا کی حکومت، خصوصاً وزارت محبِ وطن و سابق فوجیوں کے امور کا میموریل کے قیام میں قیمتی تعاون اور معاونت پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ اور قدردانی کا اظہار کیا۔

جمہوریہ کوریا کےمحب وطن و سابق فوجیوں کےامور کے وزیر نے کوریا کی جنگ کے دوران ہندوستان کے کردار کو دل سے سراہا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہندوستانی فوجیوں کی قربانیوں اور انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے ایسے دیرپا تعلقات قائم کیے ہیں جو کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے۔

دونوں وزراء کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) پر بھی دستخط کیے گئے، جس کا مقصد کوریا جنگ کے سابق فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا اور ان کے درمیان وفود کے تبادلوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر فوجیوں کی بے لوث قربانیوں کی یاد میں ایک سوانحی کتابچہ بھی جاری کیا گیا۔
مہاویر چکر سے سرفراز لیفٹیننٹ کرنل (ڈاکٹر) اے جی رنگاراج کی قیادت میں’60 پیرا فیلڈ ایمبولینس‘ نے شدید گولا باری اور انتہائی مشکل حالات کے باوجود ہزاروں زخمی فوجیوں اور عام شہریوں کا علاج کر کے مثالی طبی خدمات اور لگن کا لوہا منوایا۔ ان کی اسی بے مثال بہادری اور انسانی ہمدردی کے جذبے کی وجہ سے جمہوریہ کوریا کے زخمی فوجیوں اور عام شہریوں نے انہیں ’’مارون اینجلس‘‘(Maroon Angels) کے خطاب سے نوازا تھا۔
ہندوستان نے جنگ بندی کے بعد کے مرحلے میں بھی’کسٹوڈین فورس آف انڈیا'(سی ایف آئی) کے ذریعے ایک اہم ترین کردار ادا کیا، جسے ’نیوٹرل نیشنز ریپیٹریشن کمیشن( این این آر سی) کے تحت اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ سن 1953 میں کوریا جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے بعد جنگی قیدیوں کی بحفاظت واپسی اور ان کی نگرانی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اس کمیشن(این این آر سی) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کی ہندوستان نے لیفٹیننٹ جنرل کے ایس تھیمایا کی قیادت میں صدارت کی تھی۔
سی ایف آئی نے اس انتہائی حساس اور پیچیدہ ذمہ داری کو پیشہ ورانہ مہارت، غیر جانبداری اور ہمدردی کے ساتھ نبھایا، جس کی بدولت جزیرہ نما کوریا میں امن، مفاہمت اور انسانی اصولوں کے فروغ کے لیے اسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ لیفٹیننٹ جنرل تھیمایا کی شاندار قیادت اور سفارتی مہارت آج بھی کوریا کی جنگ کےدوران ہندوستان کے تعمیری اور امن پسند کردار کی ایک لازوال علامت ہے۔
یہ ’انڈین وار میموریل‘ ٹھیک اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے، جہاں ستمبر 1954 میں سی ایف آئی نے ’ ہند نگر‘ قائم کیا تھا، جہاں تقریباً 22,000 جنگی قیدیوں کو ان کی پرامن وطن واپسی تک رکھا گیا تھا۔ اس منصوبے کو حکومت ہند کی وزارت دفاع کے مالی تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخ اور دیرپا دوستی کے لیے ہندوستان کے گہرے احترام کا عکاس ہے۔

اس تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، فوجی نمائندوں، سابق فوجیوں، سفارتی برادری کے ارکان اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل (ڈاکٹر) اے جی رنگاراج کی بھانجی محترمہ کلپنا پرساد بھی موجود تھیں۔ کوریا کی ’وزارت برائے محب وطن و امورسابق فوجی نے اس پورے ماہ کو کرنل رنگاراج کے اعزازمیں ان کے نام وقف کیا ہے۔
یہ یادگاری تقریب ہندوستان اور جمہوریہ کوریا کی مشترکہ تاریخ کے ایک اہم مگر نسبتاً کم معروف باب کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ کوریا کی جنگ کے دوران ہندوستانی اہلکاروں کی خدمات آج بھی ہندوستان کے امن، انسانی امداد اور بین الاقوامی تعاون کے دیرینہ عزم کی ایک مضبوط علامت ہیں۔ ہندوستانی وار میموریل(جنگی یادگار) کے افتتاح کے ساتھ ہی وزیردفاع نے ویتنام اور جنوبی کوریا کے اپنے چار روزہ دورے کا اختتام کیا۔
*****
ش ح۔ م ع ن۔ ج
Uno-7366
(रिलीज़ आईडी: 2263621)
आगंतुक पटल : 41