ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آسام اور شمال مشرقی خطہ میں رابطہ، کارکردگی اور مسافروں کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بڑے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ذریعہ انڈین  ریلوے رابطہ کاری اور ترقی کے ایک نئے دور کی قیادت کر رہی ہے


وزیراعظم آسام اور شمال مشرقی خطہ میں 1,400 کلومیٹر سے زائد محیط علاقے میں ریلوے  کی برقی کاری کے بڑے منصوبوں کا افتتاح کریں گے

ایک سو چورانےو(194)کلومیٹر طویل فرکیٹنگ–تنسکیا ریلوے لائن ڈبلنگ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا تاکہ گنجائش میں اضافہ اور بھیڑ میں کمی لائی جا سکے

شمال مشرقی خطہ کو جنوبی ہند، مغربی بنگال اور تری پورہ سے جوڑنے کے لیے تین نئی ٹرین سروسز شروع کی جائیں گی

کوکراجھار کے بشباری میں پیریاڈک اوورہالنگ ورکشاپ قائم کی جائے گی تاکہ خطہ میں ریلوے کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے

سال 2014 سے اب تک شمال مشرقی خطے میں 1,900 کلومیٹر سے زائد نئی ریلوے لائنیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ 72 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے

प्रविष्टि तिथि: 12 MAR 2026 6:54PM by PIB Delhi

 انڈین ریلوے آسام اور وسیع تر شمال مشرقی خطے میں رابطہ کاری، کارکردگی اور اقتصادی ترقی کو مستحکم ومضبوط بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کرنے جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے 13 تا 14 مارچ آسام کے دورہ کے دوران متعدد ریلوے منصوبوں کا افتتاح کریں گے اور ملک کے نام وقف اور آغاز کیا جائے گا۔

یہ اقدامات خطے میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، مسافروں کی آمد و رفت بہتر کرنے، تجارت کو فروغ دینے اور شمال مشرقی خطے کو قومی ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں جوڑنے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں۔

اہم منصوبوں میں 194 کلومیٹر طویل فرکیٹنگ–تنسکیا ریلوے لائن ڈبلنگ پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد شامل ہے۔ یہ راہداری بالائی آسام کی ایک اہم ریلوےکنیکشن ہے اور اس وقت سنگل لائن پر مشتمل ہے، جس کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت محدود رہتی ہے اور اکثر بھیڑ پیدا ہوتی ہے جس سے لائن کو دوہرا (ڈبلنگ)کرنے سے گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا، اور جس سے مزید مسافر اور مال بردار ٹرینیں بیک وقت چل سکیں گی۔ اس اپ گریڈیشن سے چائے، لکڑی، پیٹرولیم مصنوعات اور زرعی اجناس کی نقل و حمل زیادہ مؤثر ہوگی، جبکہ مسافروں کے سفر کی بھروسہ مندی میں بھی بہتری آئے گی۔

ضلع کوکراجھار میں بشباری کے مقام پر ایک پیریاڈک اوورہالنگ (پی او ایچ) ورکشاپ کا سنگِ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔ یہ سہولت شمال مشرقی خطے میں ریلوے کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط کرے گی کیونکہ کوچز اور ویگنز کی مرمت اور سروسنگ خطہ کے اندر ہی ممکن ہو سکے گی۔ اس وقت اس نوعیت کے بیشتر کام کے لیے ٹرینوں کو دور دراز ورکشاپس میں بھیجنا پڑتا ہے، جس سے وقت زیادہ لگتا ہے۔ نئی ورکشاپ رولنگ اسٹاک کی واپسی کے وقت کو کم کرے گی، عملی کارکردگی بہتر بنائے گی اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔

خطہ میں پائیدار ریلوے نظام کو فروغ دینے کے لیے وزیرِ اعظم کئی اہم ریلوے برقی کاری منصوبے  ملک  کے نام وقف کریں گے۔ ان میں رنگیا–مرکونگ سیلیک لائن (558 کلومیٹر)، چپارمکھ–ڈبروگڑھ لائن (571 کلومیٹر)، اور بدرپور–سلچر و بدرپور–چورائی باری لائنیں (315 کلومیٹر) شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ منصوبے 1,400 کلومیٹر سے زائد نئی برقی ریلوے لائنوں پر مشتمل ہیں۔

برقی کاری سے تیز رفتار اور توانائی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ٹرینوں کا آپریشن ممکن ہوگا اور ڈیزل انجنوں پر انحصار کم ہوگا۔ اس سے ماحول دوست ریلوے نظام کو فروغ ملے گا اور شمال مشرقی خطے کا ریلوے نیٹ ورک  ہندوستان کے مکمل برقی ریلوے نظام کے مزید قریب آ جائے گا۔

رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے تین نئی ٹرین سروسز بھی شروع کی جائیں گی تاکہ شمال مشرقی خطہ کے اندر اور ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ سفر کی سہولیات میں اضافہ ہو۔

کامکھیا–چارلاپلی امرت بھارت ایکسپریس شمال مشرقی خطے اور جنوبی ہند کے درمیان براہِ راست ریلوے رابطہ قائم کرے گی، جس سے کاروبار، سیاحت اور مذہبی سفر کو فروغ ملے گا۔ گوہاٹی–نیو جلپائی گوڑی ایکسپریس مشرقی ہندوستان کے مصروف ترین بین اضلاع راستوں میں سے ایک کو مزید مضبوط کرے گی، جس سے آسام اور مغربی بنگال کے درمیان سفر کرنے والے  سٹوڈنٹس، پیشہ ور افراد اور خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ نارنگی–اگرتلہ ایکسپریس آسام اور تری پورہ کے درمیان ریلوے رابطہ بہتر بنائے گی، جس سے شمال مشرقی خطے کے نقل و حمل کے ڈھانچے کو تقویت ملے گی اور علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ حاصل ہوگا۔

یہ نئے اقدامات گزشتہ ایک دہائی کے دوران آسام اور شمال مشرقی خطے میں ریلوے ترقی کے میدان میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ سال 2014 سے اب تک خطے میں تقریباً 1,900 کلومیٹر نئی ریلوے لائنیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ ریلوے کے سالانہ بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2009–14 کے دوران 2,122 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026–27 میں 11,486 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، جو شمال مشرقی خطے میں ریلوے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جدید کاری پر حکومت کی مسلسل توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔

اس وقت خطہ میں 72 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ریلوے منصوبے مختلف مراحل میں زیرعمل ہیں، جن میں نئی ریلوے لائنوں کی تعمیر، اسٹیشنوں کی جدید کاری اور اہم حفاظتی منصوبے شامل ہیں۔

ریلوے کی برقی کاری کے میدان میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اروناچل پردیش، میگھالیہ، ناگالینڈ، تری پورہ اور میزورم جیسی ریاستیں سو فیصد برقی کاری حاصل کر چکی ہیں۔ آسام بھی اس ہدف کے قریب پہنچ چکا ہے۔

حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے پورے خطے میں 500 سے زائد ریلوے فلائی اوورز اور انڈر پاس تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ لیول کراسنگز کو ختم کیا جا سکے اور حادثات کے خطرات کم ہوں۔ اس کے علاوہ، اہم ریلوے راستوں پر ‘کَوچ’ خودکار ٹرین تحفظ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت 235 روٹ کلومیٹر پر کام اور ٹینڈرنگ جاری ہے جبکہ 1,197 روٹ کلومیٹر کے لیے منظوری دی جا چکی ہے۔

مسافروں کی سہولیات کو بھی‘امرت بھارت اسٹیشن اسکیم’ کے تحت بہتر بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت آسام اور شمال مشرقی خطے کے 60 ریلوے اسٹیشنوں کی تقریباً 2,101 کروڑ روپے کی لاگت سے ازسرِ نو تعمیر و ترقی کی جا رہی ہے۔ ان میں ہیبرگاؤں اسٹیشن مکمل ہو چکا ہے، جہاں مسافروں کے لیے جدید سہولیات اور بہتر بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ منصوبے شمال مشرقی خطہ میں ریلوے رابطہ کاری کو تبدیل کرنے کے لیے  انڈین ریلوے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ گنجائش میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے  انڈین  ریلوے اقتصادی ترقی، بہتر نقل و حرکت اور شمال مشرقی خطے کو ملک کے دیگر حصوں سے مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

 

********

ش ح- ظ الف- ج

UR- 7260


(रिलीज़ आईडी: 2262783) आगंतुक पटल : 20
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Kannada