سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اور ناروے نے نئے دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے اسٹریٹجک سائنس اور اختراع میں شراکت داری کو مزید مستحکم کیا

حکومت ہند کے کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) اور محکمہ برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر) نے ناروے میں پانچ اہم معاہدوں پر دستخط کیے، جو آلودگی سے پاک توانائی،سمندری ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی، پائیداری، ارضیاتی علوم اور تعلیمی تعاون کے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAY 2026 12:20PM by PIB Delhi

بھارت اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ناروے کے دورے کے دوران کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (سی ایس آئی آر) اور محکمہ برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر)، حکومت ہند نے 18 مئی 2026 کو اوسلو میں ناروے کی معروف تحقیقی، تعلیمی اور صنعتی تنظیموں کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع اور پائیدار ترقی میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔

یہ معاہدے ڈاکٹر این کلاسیلو، ڈائریکٹر جنرل سی ایس آئی آر اور سیکریٹری ڈی ایس آئی آر کی قیادت میں ڈی ایس آئی آر/سی ایس آئی آر کی جانب سے کیے گئے، جن کے ساتھ شراکت دار ناروے کے اداروں کے سینئر نمائندے بھی موجود تھے۔ ان اشتراکات کا مقصد بھارت اور ناروے کے درمیان تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں روابط کو وسعت دینا ہے، جبکہ ادارہ جاتی شراکت داری، اسٹارٹ اپ اور صنعتی تعاون، تعلیمی اشتراک اور پائیدار ترقی کے اقدامات کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔

ڈی ایس آئی آر/سی ایس آئی آر اور ناروے کی ریسرچ کونسل کے درمیان مفاہمت نامے کا مقصد تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی، اختراع اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مشترکہ ورکشاپس، باہمی تحقیقی و ترقیاتی منصوبے، سائنسدانوں اور محققین کے تبادلے کے دورے، مخصوص پروگراموں کے نفاذ کے انتظامات اور باقاعدہ جائزہ نظام شامل ہیں، جو عالمی چیلنجز اور پائیدار ترقی کے اہداف کے تناظر میں ہوں گے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، آلودگی سے پاک توانائی، سمندر اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔

سی ایس آئی آر نے اسٹفٹیلسن سنٹیف (سنٹیف)، ناروے کی ممتاز آزاد تحقیقی تنظیم، کے ساتھ 2026 تا 2029 کے لیے ایک مشترکہ معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں، جو دونوں اداروں کے درمیان 2014 کے موجودہ مفاہمتی معاہدے کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔ اس تعاون کا مرکز سرکلر اکانومی اور پائیدار منتقلی ہے، جس میں مشترکہ تحقیق اور اختراعی پروگرام شامل ہیں۔ یہ پروگرام حیاتیاتی بنیادوں پر مبنی عمل اور مواد، اختراعی مراکز، سمندری ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی، جس میں آف شور ہوا سے توانائی اور ہائبرڈ نظام، کاربن کی گرفت، ذخیرہ اور استعمال، اور فضلہ کی قدر میں اضافے جیسے شعبے شامل ہیں،  پر مشتمل ہیں۔

اس کے علاوہ سی ایس آئی آر کے اداروں اور سنٹیف کے اداروں کے درمیان سمندری توانائی اور سمندری ہوا سےپیدا ہونے والی توانائی کے حوالے سے ایک مخصوص منصوبہ جاتی اشتراکی معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں سی ایس آئی آر-اسٹرکچرل انجینئرنگ ریسرچ سینٹر (سی ایس آئی آر-ایس ای آر سی)، سی ایس آئی آر-نیشنل ایرو اسپیس لیبارٹریز (سی ایس آئی آر-ایل اے ایل)، سی ایس آئی آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشینوگرافی (سی ایس آئی آر-این آئی او) اور سی ایس آئی آر-فورتھ پیراڈائم انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-4 پی آئی) شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب سنٹیف اوشن، سنٹیف ڈیجیٹل، ایف ایم ای نارتھ ونڈ اور سنٹیف کمیونٹی شریک ہیں۔اس تعاون کا مقصد بھارت کی سمندری  قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز میں صلاحیت کو مضبوط بنانا اور قومی قابل تجدید توانائی اور کاربن نیوٹرلٹی کے اہداف کے حصول میں رول ادا کرنا ہے۔ مشترکہ پروگرام کا فوکس فلوٹنگ آف شور ونڈ ٹیکنالوجیز، توانائی کی لاگت ( ایل سی او ای) میں کمی، پائیداری اور ماحولیاتی، سماجی و حکمرانی (ای ایس جی) کے پہلوؤں، معیار بندی، پائلٹ مظاہروں، مہارت کی ترقی اور صنعتی ترقی پر ہوگا۔ اس منصوبے کے لیے سی ایس آئی آر کی مالی معاونت تقریباً 341 لاکھ  روپے ہے۔

 

india norway.jpg

 

ڈاکٹر این کلاسیلو، ڈائریکٹر جنرل سی ایس آئی آر اور سیکریٹری ڈی ایس آئی آر، کے ساتھ:

(ا) پروفیسر ٹور گرینڈے، ریکٹر، این ٹی این یو؛ (ب) ڈاکٹر الیگزینڈرا بیخ یوروف، چیف ایگزیکٹو آفیسر، اسٹفٹیلسن سنٹیف (سنٹیف)؛ (ج) مس اینے کرسٹی فاہلویک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ریسرچ کونسل آف ناروے؛ (د) ڈاکٹر آندریاس اے پیفاہفیبر، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایمرلڈ

ایک مشترکہ ارادے کا اعلامیہ بعنوان “ماحولیاتی طور پر پائیدار توانائی اور معیشت کی طرف منتقلی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع میں تعاون” بھی سی ایس آئی آر، اکیڈمی آف سائنٹیفک اینڈ انوویٹو ریسرچ(اےسی ایس آئی آر) اور ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این ٹی این یو) کے درمیان دستخط کیا گیا۔ اس اعلامیے کا فوکس پائیداری، سرکلر اکانومی، سمندری سائنس اور ٹیکنالوجی، صحت کے شعبے، اور سول و انفراسٹرکچر انجینئرنگ ٹیکنالوجیز پر ہے۔ اس تعاون کے تحت طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں، تعلیمی تبادلے، سیمینار اور مشترکہ تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔

ایک اور اہم پیش رفت میں، سی ایس آئی آر-نیشنل جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی ایس آئی آر-این جی آر آئی) نے ایمرلڈ جیوموڈلنگ کے ساتھ پانچ سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ بھارت میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے جیو سائنس پر مبنی حل کے لیے سائنسی اور کاروباری تعاون قائم کیا جا سکے۔ اس تعاون میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے منصوبے، جیو فزیکل سروے کی منصوبہ بندی، ڈیٹا تجزیہ اور ماڈلنگ، تکنیکی مشاورتی معاونت اور سائنسی تقریبات اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہوگا۔

یہ معاہدے بھارت اور ناروے کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون کا ایک اہم سنگ میل ہیں اور توقع ہے کہ یہ مشترکہ تحقیق، اختراع پر مبنی پائیدار ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

 

********

 

 

ش ح ۔ ع و ۔ م الف

U NO-7246

 


(ریلیز آئی ڈی: 2262695) وزیٹر کاؤنٹر : 16