امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ اور کوآپریٹیو کے وزیر جناب امت شاہ نے چھتیس گڑھ کے جگدل پور میں شہداء کے اہلِ خانہ، مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے اہلکاروں اور نکسل تشدد سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی
میں فخر کے ساتھ یہ اعلان کر سکتا ہوں کہ ہندوستان اب نکسل ازم سے پاک ہو چکا ہے: امت شاہ
صرف 3 سے 4 برسوں میں مودی حکومت نے ملک کو نکسل ازم سے پاک بنانے کا وہ ہدف حاصل کر لیا، جسے کبھی پوری زندگی میں بھی حاصل کرنا مشکل کام سمجھا جاتا تھا
24 اگست 2024 کو نکسل ازم سے پاک ہندوستان کا عہد کیا گیا تھا، اور یہ عزم 31 مارچ 2026 کی مقررہ مدت سے پہلے ہی پورا کر لیا گیا
کشمیر، شمال مشرق اور نکسل ازم — مودی حکومت نے ملک کے اندرونی سلامتی کے ان تین بڑے چیلنجوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے
ہندوستان کو نکسل ازم سے پاک بنانے میں سب سے بڑا کردار ہمارے ڈی آر جی بہن- بھائیوں اور بہادر کوبرا کمانڈوز کا ہے
ماؤ ازم ترقی کے فقدان کی وجہ سے نہیں پھیلا، بلکہ مسلح نکسل عناصر نے خود ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کیں
“2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان” کا خواب “ترقی یافتہ بستر” کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا ہے: وزیر داخلہ
نکسل ازم نے بستر کی فن، موسیقی اور روایات کو دبانے کی کوشش کی، لیکن اب نئی صبح طلوع ہو رہی ہے
آنے والے پانچ برسوں میں بستر ملک کے تمام قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ خطے کے طور پر ابھرے گا
بستر کے نیتانار گاؤں میں 400 قبائلی افراد سے ملاقات کر کے مجھے جو قلبی سکون حاصل ہوا، وہ لاکھوں لوگوں کی ریلیوں سے خطاب کرنے سے کہیں زیادہ تھا، اور اس احساس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے: امت شاہ
حکومت خود سپردگی کرنے والے تقریباً 3 ہزار نکسل افراد کی بازآبادکاری کے ساتھ ساتھ انہیں ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے کا بندوبست بھی کر رہی ہے: وزیر داخلہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAY 2026 8:23PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور کوآپریٹیو کے وزیر جناب امت شاہ نے آج چھتیس گڑھ کے جگدل پور میں شہداء کے اہلِ خانہ، مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے اہلکاروں اور نکسل تشدد سے متاثرہ افراد سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ جناب وشنو دیو سائے، نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے شرما، مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر جناب تپن ڈیکا، نکسل ازم سے پاک ریاستوں کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ آج وہ فخر کے ساتھ کہہ یہ سکتے ہیں کہ ہندوستان اب نکسل ازم سے آزاد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا خواب تھا جس کے لیے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی ہر چیز قربان کر دی۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں تک ملک نے خونریزی، پسماندگی اور نکسل متاثرہ علاقوں کے نوجوانوں کے تاریک مستقبل جیسے خوفناک حالات کا سامنا کیا۔ یہاں تک کہ غیر نکسل متاثرہ ریاستوں کے لوگ بھی ان علاقوں کے حالات پر شدید تشویش میں مبتلا رہتے تھے۔ انہوں نے خوشی ظاہر کی کہ جو مقصد کبھی پوری زندگی میں بھی حاصل ہونا ناممکن محسوس ہوتا تھا، اسے بہادر سکیورٹی فورسز نے صرف تین سے چار برسوں میں حاصل کر لیا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ 21 جنوری 2024، 24 اگست 2024 اور 31 مارچ 2026 کی تین تاریخیں نکسل ازم کے خاتمے کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں ہماری حکومت کے قیام کے بعد 21 جنوری 2024 کو نکسل ازم کے مسئلے پر پہلی میٹنگ ہوئی، 24 اگست 2024 کو 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کے مکمل خاتمے کا عہد کیا گیا، اور 31 مارچ 2026 کو یہ عہد پورا ہوا۔ یہ تینوں تاریخیں “نکسل فری انڈیا” مہم کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ماں دانتیشوری کے آشیرواد سے آج بستر کو نکسل ازم سے آزاد بنانے کا ہدف پورا ہو چکا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج بستر میں “شہید ویر گنڈا دھور سیوا ڈیرا پروجیکٹ” کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں مرکزی مسلح پولیس فورس کے تقریباً 200 کیمپ موجود ہیں، جنہوں نے اب تک قبائلی برادری، کسانوں، خواتین اور بچوں کو نکسل تشدد سے محفوظ رکھا۔ ان میں سے 70 کیمپوں کو اب “شہید ویر گنڈا دھور سیوا ڈیرہ” میں تبدیل کر کے علاقائی ترقی کے مثالی مراکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ مراکز 370 سرکاری اسکیموں تک آن لائن رسائی فراہم کریں گے۔ جن سیوا کیندر میں راشن کارڈ اور آدھار کارڈ بنائے جائیں گے، اور سبسڈی والے راشن کی عدم دستیابی سے متعلق شکایات بھی درج کی جا سکیں گی۔ ان مراکز سے بینک اکاؤنٹس کا کام بھی انجام دیا جائے گا اور صحت سے متعلق خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔ یہ مراکز ڈیری دودھ جمع کرنے کے مراکز کے طور پر بھی کام کریں گے۔ بہتر کاشتکاری کے لیے محکمۂ زراعت کی جانب سے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ یہاں قائم اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر دیہی نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنے گا، جبکہ تعلیم بالغان کے پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ کے اندر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن (این آئی ڈی) کی مدد سے اس منصوبے کا مکمل خاکہ تیار کر کے “شہید ویر گنڈا دھور سیوا ڈیرہ” کے نام سے ایک جامع ترقیاتی منصوبے کے طور پر زمین پر نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اُن دانشوروں کے لیے بھی ایک پیغام ہوگا جو ماؤ نوازوں کی حمایت کرتے ہیں۔ جنا ب امت شاہ نے کہا کہ ماؤ ازم اس لیے نہیں پھیلا کہ ترقی نہیں ہوئی، بلکہ مسلح نکسل سرگرمیوں سے ہی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوئیں۔ اب جب مسلح تحریک ختم ہو چکی ہے تو ترقی کا راستہ بھی کھل گیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ بستر ملک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ قبائلی خطے کے طور پر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے غریبوں، پسماندہ طبقات، دلتوں اور قبائلی برادریوں کے لیے متعدد فلاحی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی کوئنٹل 3100 روپے کی شرح سے دھان کی خریداری اور فی فرد ماہانہ 7 کلو چاول کی تقسیم جیسی اسکیمیں موجود ہونے کے باوجود ہماری حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے ان کے فوائد عوام تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔انہوں نے بستر کے کھانوں، فن، موسیقی، رقص، کھیل اور روایات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نکسل تشدد کی وجہ سے اس عظیم ثقافتی وراثت کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم اب بستر ایک نئی صبح کا مشاہدہ کر رہا ہے اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ جناب شاہ نے اُن خاندانوں کی قربانیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا، جن میں سیکورٹی اہلکار اور بے قصور قبائلی شہری شامل ہیں۔ انہوں نے اُن سابق نکسل افراد کی بھی ستائش کی جو ضلع ریزرو گارڈ (ڈی آر جی) میں شامل ہوئے اور نکسل مخالف مہم کی کامیابی میں معاون ثابت ہوئے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ نکسل مخالف کارروائیوں کی کامیابی بڑی حد تک ڈی آر جی اہلکاروں اور کوبرا کمانڈوز کی بہادری اور لگن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی، چھتیس گڑھ پولیس، ڈی آر جی، اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف)، بستر فائٹرز، اور مختلف ریاستوں کی پولیس فورسز کی مشترکہ کوششوں کو نکسل ازم کے خلاف فتح کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے سول سوسائٹی کے ارکان، صحافیوں اور عوامی نمائندوں کے کردار کو بھی سراہا، جنہوں نے نکسل افراد کو ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں واپس آنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد داخلی اور خارجی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا تھا۔ جموں و کشمیر، شمال مشرق اور نکسل ازم ملک کے سب سے بڑے چیلنجوں میں شامل تھے، اور آج ہندوستان بڑی حد تک ان تینوں مسائل پر قابو پا کر ترقی کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھ چکا ہے۔نیتانار گاؤں میں “گنڈا دھور سیوا ڈیہا” کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ وہ قبائلی باشندوں کے چہروں پر امید اور اعتماد صاف محسوس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہتھیار ڈالنے والے نکسل افراد اور ان کے خاندانوں کی تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت کے ذریعے بازآبادکاری کی جائے گی تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ دوبارہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خود سپردگی کرنے والے تقریباً 3 ہزار نکسل کارکنوں کی بازآبادکاری کے لیے ایک تفصیلی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر 20 کروڑ روپے ان کی تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ وہ عزت اور احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
جناب امت شاہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ بستر کے لوگ 3 ہزار ہتھیار ڈالنے والے نکسل افراد کا ہمدردی کے ساتھ استقبال کریں گے اور انہیں باعزت زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا 2047 تک مکمل ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب “ترقی یافتہ بستر” کے بغیر ادھورا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نکسل ازم کا خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ گزشتہ 50 برسوں کے نقصانات کی تلافی آئندہ پانچ برسوں میں کی جائے اور بستر کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر ترقی یافتہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ سڑکوں، دیہی ترقی، بینکاری، ڈاک خدمات، گیس سپلائی، صاف پانی، بجلی اور غذائی تحفظ سمیت تمام ضروری بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

تمام مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ “آپریشن بلیک فاریسٹ” کے دوران 45 ڈگری درجۂ حرارت کے باوجود جوانوں نے رسد اور سہولیات کی پرواہ کیے بغیر پہاڑیوں کی جانب پیش قدمی کی۔ وہاں ہزاروں بارودی سرنگیں نصب کی گئی تھیں، اس کے باوجود فورسز نے دشوار گزار علاقوں میں قائم ماؤ نواز کیمپوں کو کامیابی سے ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر “آپریشن بلیک فاریسٹ” اور پہاڑی چوٹیوں پر قائم مضبوط ٹھکانوں کا خاتمہ نہ کیا جاتا تو بستر کو نکسل ازم سے پاک بنانا ممکن نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ جب ماؤ نوازوں کو پہاڑوں سے نیچے اترنے پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے، مقابلے تیز ہوئے اور بڑی تعداد میں ماؤ نواز مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران کئی اہلکاروں نے اپنے اعضا کھو دیے، شدید پانی کی کمی کا سامنا کیا اور بے شمار مشکلات برداشت کیں۔ چاہے وہ “آپریشن بلیک فاریسٹ” ہو، “آپریشن پراہار”، “آپریشن آکٹوپس” یا “آپریشن ڈبل بُل”، ان کارروائیوں نے جھارکھنڈ اور بہار سے لے کر بستر اور تلنگانہ تک وسیع علاقوں کو نکسل اثر سے آزاد کیا اور ساتھ ہی ترقی کی راہ بھی ہموار کی۔جناب شاہ نے کہا کہ پرامن اور ترقی یافتہ بستر کے قیام کا پورا سہرا سی اے پی ایف اہلکاروں کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل عناصر نے متعدد مواقع پر سیکڑوں قبائلی گھروں کو نذرِ آتش کیا، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر تشدد اور قتلِ عام کے باوجود سیکورٹی فورسز نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر بے شمار بے گناہ لوگوں کی حفاظت کی۔انہوں نے مختلف قبائلی برادریوں کے رہنماؤں کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ مشکل حالات میں بستر کی حفاظت اور سماج کو حوصلہ و اعتماد دینے کے لیے انہیں خصوصی اعزاز ملنا چاہیے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اب کسی بے گناہ قبائلی کو نقصان نہیں پہنچے گا، اسکول بند نہیں ہوں گے، بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی، اور کسانوں کو تمام فوائد براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ “بستر اولمپکس” اور “بستر پنڈم” جیسے اقدامات کا مقصد خطے کی ثقافتی وراثت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
***
ش ح۔ م ش ع ۔ م ا
UN-7231
(ریلیز آئی ڈی: 2262592)
وزیٹر کاؤنٹر : 7