امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے گجرات میں 620 کروڑ روپےکے گاندھی نگر میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے شروع کئے گئے گجرات کے ترقیاتی سفر، آج بھی مسلسل جاری ہے

مرکزی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو سمجھ لینا چاہیے کہ انہیں آنے والے سات جنموں تک گجرات میں کوئی موقع نہیں ملے گا

بنگال میں، بدانتظامی سے متاثر عوام نے دونوں ہاتھوں سے ہماری پارٹی کو آشیرواد دیا اور اسے 207 سیٹیں دے کر وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہماری پارٹی کی حکومت بنائی

آج اتراکھنڈ سے لے کر اتر پردیش، بہار اور بنگال تک، ملک کے تقریباً 80 فیصد حصوں میں ہماری پارٹی  اور ہماری اتحادی جماعت قتدار میں ہے

گجرات میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں، ہماری پارٹی نے تمام 15 میونسپل کارپوریشنوں میں فتح کا پرچم لہرایا اور عوام نے اپوزیشن کا مکمل صفایا کر دیا

چونتیس ضلع پنچایتوں میں سے 33 میں ہماری پارٹی کامیاب ہوئی اور 260 تعلقہ پنچایتوں میں سے 253 پر ہماری پارٹی کا پرچم لہرایا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAY 2026 8:35PM by PIB Delhi

داخلہ اور امداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج گجرات میں گاندھی نگر میونسپل کارپوریشن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور کئی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل اور دیگر کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج 620 کروڑ روپے کی لاگت سے گاندھی نگر شہر کے مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی نگر میں ہمہ گیر ترقی اور عوامی سہولیات فراہم کرنے کے لیے گجرات حکومت اور میونسپل کارپوریشن نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے طور پر جناب نریندر مودی جی کے آغاز کردہ گجرات کے ترقیاتی سفر کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے، اسی وجہ سے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عوام نے اپوزیشن جماعت کا صفایا کر دیا۔ دوربین لے کر تلاش کرنے پر بھی اپوزیشن جماعت کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔ اسے کسی بھی میونسپل کارپوریشن میں جگہ نہیں مل سکی۔ ایک دوسری اپوزیشن جماعت کا پہلے دہلی میں صفایا ہوا اور اب یہاں اس کا کھاتہ بھی نہیں کھلا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مرکزی اپوزیشن جماعت کے رہنما یہاں پروگرام کرتے تھے اور اگلی بار اپنی جماعت کے اقتدار میں آنے کی بات کرتے تھے۔ لیکن انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ انہیں آئندہ سات جنموں تک یہاں موقع نہیں ملنے والا۔ یہ تکبر نہیں ہے۔ تکبر ہماری جماعت کے کارکن کا مزاج ہی نہیں ہے۔ یہ ہماری جماعت کے کاموں کی بنیاد پر پیدا ہونے والے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سو فیصد میونسپل کارپوریشنوں پر کامیابی کا پرچم لہرایا، 84 میونسپلٹیوں میں انتخابات ہوئے، جن میں سے 77 میں ہماری جماعت کامیاب ہوئی۔ 34 اضلاع میں انتخابات ہوئے، جن میں سے 33 میں ہماری جماعت نے کامیابی حاصل کی۔ 260 تعلقہ پنچایتوں میں انتخابات ہوئے، جن میں سے 253 میں ہماری جماعت نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی اپوزیشن جماعت کے رہنما کو یہ نتائج کسی نے دکھائے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ پھر وہی تقریر کریں گے کہ اگلی باری ان کی جماعت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کی روایت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہماری اور تمام کارکنوں کی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہماری جماعت اور اس کے کارکنوں پر گجرات کی عوام کا جو یہ اعتماد ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوامی خدمت پر مبنی کام کرنا ہماری جماعت کے کارکنوں کی فطرت ہے اور وہ مسلسل لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرتے ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ کورونا کے دوران گجرات میں ہمارے ہر کارکن نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ضرورت مندوں کے درمیان کھڑے ہو کر خدمت کی۔ کہیں کسی ضرورت مند کو اسپتال پہنچایا، کہیں ٹیسٹنگ کا انتظام کیا، کہیں ویکسینیشن کی قطاروں کو منظم کرنے میں مدد کی۔ کئی کارکن کورونا کی زد میں آئے اور کئی نے اپنی جان بھی قربان کی۔ لیکن اپنے خدمت کے جذبے اور ذمہ داری کے احساس کے ذریعے انہوں نے گجرات کی عوام کے دل میں اپنا اعتماد مزید مضبوط کیا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ابھی ہماری جماعت نے مغربی بنگال میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں سخت دھوپ اور 42 ڈگری درجہ حرارت میں جناب مودی جی کی ریلیوں میں عوام کا سیلاب امڈ آیا۔ ہم جہاں بھی گئے وہاں جے شری رام کے نعرے لگ رہے تھے۔ بنگال کے عوام نے 207 سیٹیں دے کر ایک بڑی ذمہ داری ہماری  پارٹی کو سونپی ہے۔

 

جناب امت شاہ نے کہا کہ اگر 1964 کے گجرات پر کسی نے فلم بنائی ہو تو معلوم ہوگا کہ اس وقت گجرات کے گاؤں اور شہر اور یہاں کی سہولیات کیسی تھیں، اور اگر آج کے بنگال کی حالت پر فلم بنے تو مجھے یقین ہے کہ 1965 کا گجرات اس سے دو قدم آگے دکھائی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں 50 سال تک ترقیاتی سرگرمیوں کا فقدان رہا۔ ہر چیز کی خرید و فروخت میں وہاں کی حکومت میں شامل جماعت کمیشن لیتی تھی۔ اُس وقت کی حکمران جماعت نے اس بڑے ریاست کو اس حال تک پہنچا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت بنگال ملک کا سب سے خوشحال صوبہ تھا۔ لیکن 50 سال کی بدانتظامی سے تنگ آ کر عوام نے دونوں ہاتھوں سے آشیرواد دے کر جناب مودی جی کی قیادت میں ہماری حکومت بنائی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ماں گنگا اتراکھنڈ میں گنگوتری سے نکل کر بنگال کے گنگا ساگر میں جا کر سمٹ جاتی ہے، اور اتراکھنڈ سے لے کر اتر پردیش، بہار اور بنگال تک ہماری پارٹی کی حکومت ہے۔ ملک میں 80 فیصد علاقوں میں ہماری پارٹی اور ہمارے اتحاد کی حکومت ہے۔ مرکز میں بھی مسلسل تیسری بار جناب مودی جی وزیر اعظم بنے۔ ہر اس کامیابی کا سہرا پارٹی کے بوتھ سطح کے کارکن کے سر جاتا ہے۔

 

***

ش ح ۔ع ح۔م ش

U. No.7188


(ریلیز آئی ڈی: 2262187) وزیٹر کاؤنٹر : 4