وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

نیدرلینڈز میں سی ای اوز کے گول میز اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کےتبصرے کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAY 2026 10:17PM by PIB Delhi

محترم عالی جناب وزیراعظم راب یتّن،

دونوں ممالک کے وفود،

نیدرلینڈز کے کاروباری لیڈران،

نمسکار!

آج یہاں دنیا کی سب سے زیادہ جدید اور اختراعی کمپنیوں کے رہنماؤں کے درمیان موجود ہونا میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ آج 300 سے زیادہ ڈچ کمپنیاں بھارت کی کہانی کا حصہ ہیں۔ آپ کا وژن اور بھارت پر اعتماد ہی کی وجہ سے نیدرلینڈز یورپ سے بھارت کا سب سے بڑا سرمایہ کار اور دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا ہے۔

ساتھیوں،

آپ کی کمپنیاں بھارت میں صرف معروف برانڈز ہی نہیں بلکہ بھارت-نیدرلینڈز دوستی کی برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ این ایکس پی ، فلپس اور پروسس بھارت کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر عالمی معیار کے حل تیار کر رہی ہیں۔

اے پی ایم، ڈامن اور رائل ووپاک جیسی کمپنیاں بھارت کے بندرگاہ، شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبے کو تبدیل کر رہی ہیں۔ جبکہ کئی دیگر کمپنیاں زراعت اور پائیداری کے میدان میں بھارت کے ساتھ مل کر دنیا کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنا رہی ہیں۔

کچھ ہی وقت پہلے اے ایس ایم ایل اور ٹاٹا کے درمیان مفاہمت نامہ ہوا-اب اے ایس ایم ایل کےپرزوں سے بھارت میں سیمی کنڈکٹر چِپس بنیں گے۔ آج آپ سب کی گفتگو میں بھارت کے بارے میں جو رجائیت نظر آتی ہے، وہ بالکل واضح ہے۔ اس رجائیت کو نتائج میں بدلنا ہماری گارنٹی ہے۔

ساتھیوں،

آج کا بھارت پیمانے اور استحکام کی علامت ہے۔ اسکیل کی بات کریں تو ہم دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بھی ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا ٹیلنٹ پول بھی۔ انفراسٹرکچر، صاف توانائی یا کنیکٹیویٹی-بھارت کی رفتار کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا کی ترقی میں بھارت کا تقریباً 17 فیصد تعاون ہے۔

 

اور استحکام کے حوالے سے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے، آج کے دن میرے 12 سال مکمل ہوئے ہیں۔ ان 12 برسوں میں مسلسل اصلاحات کے ذریعے ہم نے اپنی معاشی ساخت  کو بدل دیا ہے۔ ہماری سمت واضح رہی ہے،پرائیویٹ سیکٹر کو پالیسی پروڈکٹبلیٹی دینا اور ان کے لیے مواقع بڑھانا۔

اسپیس، مائننگ یا نیوکلیئر انرجی،ہم نے ہر شعبے کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھول دیا ہے۔ ہم نے ضوابط  کو مسلسل کم کیا ہے اور کاروبار میں آسانی  کو بڑھایا ہے۔ حال ہی میں ہم نے ٹیکس، لیبر کوڈ اور گورننس جیسے شعبوں میں نئی نسل کی اصلاحات کی ہیں۔ اب بھارت میں مینوفیکچرنگ بہت زیادہ لاگت مؤثر ہو گئی ہے۔

الیکٹرانکس، جو پہلے بھارت کا ایک بڑا درآمدی آئٹم تھا، آج بھارت کا سب سے بڑا برآمدی آئٹم بن چکا ہے۔ اس مینوفیکچرنگ ترقی کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے ہم کئی اہم شعبوں میں مراعات دے رہے ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر آپ بھارت میں دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کر سکتے ہیں۔

اسی طرح سروسز سیکٹر میں بھی بھارت اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر کارکردگی اور جدت کا مرکز بن گیا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھارت میں اپنے گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز قائم کیے ہیں۔

ہم آپ سب کو بھی بھارت میں ڈیزائن اوراختراع کاری کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے لیے آج سے بہتر کوئی وقت نہیں۔

ساتھیوں،

سال 2026 سے بھارت اور یورپ کے تعلقات میں ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ہے۔ اسی سال ہم نے تاریخی بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ  کیا ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری اور ذمہ دار طاقتوں کے درمیان یہ معاہدہ مشترکہ خوشحالی  کی مضبوط بنیاد بنے گا۔

اس ایف ٹی اے کے مکمل امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے وزیراعظم یتّن اور میں آج کئی اہم فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔ ہم بھارت-نیدرلینڈز کی اس اعتماد پر مبنی شراکت داری کو اسٹریٹجک شراکت داری بنانے جا رہے ہیں۔ ہم گرین ہائیڈروجن کے حوالے سے ایک پرجوش مشترکہ روڈ میپ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی میں اپنے تعلقات کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنا رہے ہیں۔

ہم دونوں ممالک کے درمیان ٹیلنٹ موبیلیٹی، یونیورسٹی پارٹنرشپ اور مشترکہ تحقیق و ترقی کو بھی مزید مضبوط بنانے جا رہے ہیں۔ یعنی بھارت اور نیدرلینڈز کی شراکت داری کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔

ساتھیوں،

بھارت اور یورپ کے درمیان مضبوط ہوتا ہوا اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہمارے کاروباری تعلقات کو نئی تحریک دے رہا ہے۔ اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھنا اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب آپ بھارت میں اپنا اسکوپ، سرمایہ کاری اور عزائم مزید بڑھائیں گے۔ اور آپ کے ساتھ پورے یورپ کا اختراعی ماحولیاتی نظام بھی بھارت آئے گا۔

ساتھیوں،

نیدرلینڈز میں ایک کہاوت ہے:

‘‘زندگی یا کاروبار میں محفوظ جگہ پر رہنا آسان اور آرام دہ ہوتا ہے، لیکن اصل مقصد خطرات مول لے کر آگے بڑھنا، نئے مواقع تلاش کرنا اور سفر کرنا ہوتا ہے۔’’

ڈچ بزنس کمیونٹی سے بہتر اس بات کو کون سمجھ سکتا ہے؟ آپ کا ملک صدیوں سے نئے مواقع کی تلاش میں آگے بڑھتا رہا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت میں آپ کی یہ تلاش کامیاب بھی ہوگی اور بامعنی بھی۔ اب آپ کو بھارت میں مزید جرات کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

بے-ڈانکٹ۔

بہت بہت شکریہ۔

***

ش ح ۔ع ح۔م ش

U. No.7182


(ریلیز آئی ڈی: 2262153) وزیٹر کاؤنٹر : 7