تعاون کی وزارت
جناب امت شاہ نے داشیلا میں مدُھر ڈیری کے جدید ترین دودھ پراسیسنگ کارخانے کا افتتاح کیا، جس سے ’’تعاون سے خوشحالی‘‘ کے تصور کو نئی رفتار ملی
1971 میں قائم ہونے والی مدُھر ڈیری آج 628 کروڑ روپے سالانہ کاروبار کے ساتھ امدادِ باہمی نظام کی کامیابی کی زندہ مثال بن چکی ہے
128 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ جدید مدُھر ڈیری کارخانے سے دودھ پراسیسنگ کی صلاحیت بڑھ کر روزانہ 5 لاکھ لیٹر ہو جائے گی، جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں شروع کیا گیا ’’سفید انقلاب 2.0‘‘ آئندہ 10 برسوں میں بھارت کی دودھ پیداوار کو تین گنا کر دے گا
مودی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ گردشی معیشت کے اصول ڈیری شعبے کی آمدنی میں 20 فیصد تک اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے
امول کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل معاون ’’سرلابین‘‘ دیہی خواتین اور مویشی پال کسانوں کے لیے تکنیکی خوداختیاری کا ایک مؤثر ذریعہ بن کر ابھر رہی ہے
گجرات کی 36 لاکھ خواتین روزانہ 3 کروڑ لیٹر دودھ کی تجارت کر رہی ہیں، جس سے ہر روز 200 کروڑ روپے کا کاروبار ہو رہا ہے، جو ’’تعاون سے خوشحالی‘‘ کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے
प्रविष्टि तिथि:
17 MAY 2026 7:28PM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’تعاون سے خوشحالی‘‘ کے تصور کے مطابق خوشحال اور خود کفیل بھارت کی تعمیر کے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے اور امت شاہ کی قیادت میں وزارتِ تعاون ملک بھر میں جدید بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی سے مربوط نظام اور کسان دوست اقدامات کے ذریعے امدادِ باہمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں امت شاہ نے آج گجرات کے گاندھی نگر کے داشیلا علاقے میں مدھر ڈیری کی دوسری اکائی کے جدید خودکار دودھ پراسیسنگ اور پیک بندی کارخانے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر بھوپیندر بھائی پٹیل، ہرش سنگھوی اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ داشیلا میں قائم کیا گیا جدید ڈیری کارخانہ محض ایک صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ لاکھوں دودھ پیدا کرنے والے خاندانوں، خصوصاً دیہی ماؤں اور بہنوں کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 128 کروڑ روپے کی لاگت سے 15 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیے گئے اس کارخانے میں اس وقت روزانہ 2.5 لاکھ لیٹر دودھ پراسیسنگ کی صلاحیت موجود ہے، جسے مستقبل میں بڑھا کر 5 لاکھ لیٹر یومیہ کیا جائے گا۔
امت شاہ نے کہا کہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والے منافع کا بڑا حصہ براہِ راست دودھ پیدا کرنے والوں کے بینک کھاتوں میں منتقل ہوگا، جس سے دیہی معیشت کو مزید مضبوطی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیری امدادِ باہمی ماڈل نے دیہات میں خواتین کی سماجی اور معاشی حیثیت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلے خواتین زیادہ تر گھریلو ذمہ داریوں تک محدود تھیں، لیکن آج وہ ڈیری سرگرمیوں کے ذریعے اپنے خاندانوں کی معاشی طاقت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل، تریبھوونداس پٹیل، ڈاکٹر ورگیز کورین اور دیگر امدادِ باہمی رہنماؤں کی قائم کردہ روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مدھر ڈیری آج ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈیری ادارے کے طور پر ابھری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1971 میں محض 6,000 لیٹر دودھ جمع کرنے اور 7,000 روپے کے کاروبار سے آغاز کرنے والی مدھر ڈیری آج 628 کروڑ روپے سالانہ کاروبار اور دودھ کی خرید، پراسیسنگ اور تقسیم کے وسیع نظام کے ساتھ ایک بڑے ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو امدادِ باہمی ماڈل کی عملی کامیابی کی زندہ مثال قرار دیا۔
وزیر تعاون نے کہا کہ جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے ’’سفید انقلاب 2.0‘‘ کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد آئندہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی دودھ پیداوار کو تین گنا بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی معروف ڈیری تنظیموں، جن میں امول، بناس ڈیری اور مہسانہ ڈیری شامل ہیں، نے مویشی پال کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے عالمی معیار کی جدید ٹیکنالوجی اختیار کی ہے، اور امدادِ باہمی نظام کے ذریعے اس کے فوائد براہِ راست دودھ پیدا کرنے والوں تک پہنچ رہے ہیں۔
امت شاہ نے کہا کہ ملک بھر کی امدادِ باہمی ڈیری تنظیمیں، جن میں امول بھی شامل ہے، پروٹین مشروبات، مفید جراثیم والی دہی، بلند غذائیت والے مشروبات اور دیگر غذائیت سے بھرپور مصنوعات کے شعبے میں نمایاں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امدادِ باہمی نظام کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ان کامیاب مصنوعات کا حقیقی فائدہ کسانوں اور مویشی پال افراد تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت تقریباً 36 لاکھ خواتین روزانہ قریب 3 کروڑ لیٹر دودھ کی پیداوار سے وابستہ ہیں اور امدادِ باہمی ڈیری نظام کے ذریعے ہر روز تقریباً 200 کروڑ روپے براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ دیہی بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے اور خود کفالت کی ایک وسیع عوامی تحریک ہے۔
جناب امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ امول کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل معاون کا افتتاح جناب نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت سربراہی اجلاس کے دوران کیا تھا۔ ’’سرلابین‘‘ نامی یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم دیہی خواتین اور مویشی پال کسانوں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد دیہات اور عام مویشی پال افراد کے لیے ٹیکنالوجی کو آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ آنے والے برسوں میں ڈیری شعبے میں گردشی معیشت کے اصولوں کو اپنانے سے ڈیری آمدنی میں کم از کم 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور قدر افزائی کے ذریعے امدادِ باہمی ڈیری شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔
پروگرام کے دوران ڈیری امدادِ باہمی انجمنوں سے وابستہ خواتین دودھ پیدا کنندگان نے امت شاہ کو مدھر ڈیری کی مصنوعات پر مشتمل تحفہ پیش کیا۔ جناب امت شاہ نے دودھ پیدا کرنے والی انجمنوں کے نمائندوں میں اسناد بھی تقسیم کیں۔ مدھر ڈیری کی دوسری اکائی کے افتتاح سے امدادِ باہمی بنیادوں پر دیہی ترقی کو مزید رفتار ملنے، ڈیری کسانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور جدید و پائیدار امدادِ باہمی ماڈل کے ذریعے بھارت کے ڈیری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-7173
(रिलीज़ आईडी: 2262078)
आगंतुक पटल : 44