امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے ملک کو بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نجات دلانے کی کوششوں کے حوالے سے لوک سبھا میں ہوئی بحث کا جواب دیا ہے


نکسل ازم بائیں بازو کے نظریے کی پیداوار ہے

نکسل ازم غربت کی وجہ سے نہیں پھیلا بلکہ نکسل ازم کی وجہ سے غربت پھیلی

کمیونسٹ پارٹی ناانصافی کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ ہمارے پارلیمانی نظام کی مخالفت کے لیے بنائی گئی تھی

نکسلی تشدد میں ملوث افراد کے دن اب ختم ہو چکے ہیں

نکسل ازم کی اصل جڑ ترقی کا فقدان نہیں بلکہ بائیں بازو کا نظریہ ہے، جسے اس وقت کی برسراقتدار پارٹی کے رہنما نے 1969 میں صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے قبول کیا تھا

نکسل سے پاک بھارت مودی حکومت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے

ایسی کمیونسٹ پارٹی جس کی بنیاد کسی دوسرے ملک کے نظریے سے متاثر ہو، وہ بھارت کا بھلا کیسے کر سکتی ہے؟

ماؤ نوازوں نے ریڈ کوریڈور کا انتخاب امتیازی سلوک کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کیا تھا کیونکہ وہاں حکومت کی پہنچ کمزور تھی

بائیں بازو کے نظریے کے حامیوں نے بھگوان برسا منڈا، شہید بھگت سنگھ یا سبھاش چندر بوس کو اپنا آئیڈیل (مثالی شخصیت) نہیں مانا، بلکہ اس کے بجائے "ماؤ" کو اپنا آئیڈیل منتخب کیا ہے

یہ مودی حکومت ہے ، جو بھی ہتھیار اٹھائے گا اسے اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے

بَستر سرخ دہشت کے سائے کی وجہ سے ترقی میں پیچھے رہ گیا تھا

اب جب کہ سرخ دہشت کا سایہ ختم ہو چکا ہے، بستر ترقی کر رہا ہے

نکسل سے پاک بھارت مودی حکومت کی سب سے تاریخی اور اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے

اس کا تمام تر سہرا مرکزی مسلح پولیس فورسز، خاص طور پر کوبرا  اور سی آر پی ایف کے جوانوں، ریاستی پولیس،بالخصوص چھتیس گڑھ پولیس اور ڈی آر جی کے جوانوں اور مقامی قبائلیوں کو جاتا ہے

جہاں بائیں بازو کے انتہا پسندوں نے دہائیوں تک ترقی نہیں پہنچنے دی، مودی حکومت اب وہاں ہر گھر تک ترقی پہنچا رہی ہے

مودی حکومت خوفزدہ ہونے والی حکومت نہیں ہے، بلکہ ہر کسی کو انصاف فراہم کرنے والی حکومت ہے

برسرِاقتدار لوگوں کی حمایت کے بغیر، ملک کے بالکل وسط میں تروپتی سے پشوپتی ناتھ تک پھیلا ہوا 'ریڈ کوریڈور' بنانا ناممکن ہوتا

بائیں بازو کا نظریہ اپنی بنیاد کھو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام بائیں بازو والے اپنے وجود کو بچانے کے لیے نت نئے نظریات ایجاد کرنے میں مصروف ہیں

بائیں بازو کے نظریے کا مقصد ریاست، طرزِ حکمرانی، دستور اور سیکورٹی میں ایک خلا پیدا کرنا اور پھر خونریزی کرنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAR 2026 10:29PM by PIB Delhi

امورداخلہ اور امداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج لوک سبھا میں رول 193 کے تحت ملک کو بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے پاک کرنے کی کوششوں پر ہوئی بحث کا جواب دیا۔

بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ان کے حامیوں نے معصوم قبائلیوں کے سامنے ایک جھوٹا بیانیہ پیش کیا تھا کہ وہ ان کے حقوق اور انہیں انصاف دلانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نکسل ازم اب بَستر  سے تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور وہاں کے ہر گاؤں میں اسکول بنانے اور راشن کی دکانیں کھولنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسل ازم کی وکالت کرنے والوں کو یہ بتانا چاہیے کہ 1970 سے اب تک یہ سب کیوں نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں جناب نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد، ملک بھر میں ہر غریب کو گھر، گیس کنکشن، پینے کا پانی، 5 لاکھ روپے تک کا بیمہ اور 5 کلو مفت اناج ملا۔ تاہم، بَستر کے لوگ اس سے محروم رہے کیونکہ سچائی کو جھٹلایا گیا اور سرخ دہشت کے سائے کی وجہ سے وہاں ترقی نہیں پہنچ سکی۔ جناب شاہ نے کہا کہ سرخ دہشت اس لیے نہیں تھی کہ وہاں ترقی نہیں ہوئی تھی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سرخ دہشت کی وجہ سے وہاں ترقی نہیں ہو سکی، لیکن آج سرخ دہشت کا سایہ ختم ہو چکا ہے اور بَستر ترقی کر رہا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ نریندر مودی جی کی حکومت ہے اور جو کوئی بھی ہتھیار اٹھائے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت حساس ہے اور وہ تمام مسائل کو سننا اور انہیں حل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیمیں بنائی ہیں، لیکن بائیں بازو کے انتہا پسند اور ان کے حامی ان پر عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہاں ان کا نظریہ’یعنی ان کی غیر قانونی حکمرانی‘جاری رہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی، جب کہ اہم اپوزیشن پارٹی نے ملک پر 60 سال حکومت کی، پھر بھی قبائلی ترقی سے محروم کیسے رہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ نریندر مودی جی ہیں جو ترقی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اصل قصور وار کون ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ چھتیس گڑھ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، اڈیشہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، بہار، بنگال، کیرالہ، کرناٹک کے کچھ حصوں اور اتر پردیش کے 3 اضلاع سمیت 12 ریاستوں میں ایک مکمل 'ریڈ کوریڈور' بن گیا تھا۔ ان علاقوں میں 12 کروڑ لوگ برسوں تک غربت میں رہے اور 20,000 نوجوانوں نے اپنی جانیں گنوائیں، اس کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل ازم کی اصل وجہ ترقی کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ نکسل ازم کی جڑ ترقی کی کمی نہیں بلکہ بائیں بازو کا نظریہ ہے، جسے اس وقت کی برسراقتدار جماعت کے لیڈر نے 1969 کا صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے قبول کیا تھا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پورے ملک کے سامنے کھلے عام اعتراف کیا تھا کہ کشمیر اور شمال مشرق کے مقابلے میں ملک کو درپیش سب سے بڑا اندرونی سیکورٹی چیلنج مسلح ماؤ نواز تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ایک تبدیلی آئی اور وزیر اعظم مودی جی کی قیادت میں کئی دیرینہ مسائل حل ہوئے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹا دیا گیا، رام جنم بھومی پر ایک عظیم الشان مندر تعمیر کیا گیا ہے، جی ایس ٹی ایک حقیقت بن گیا ہے، شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کر دیا گیا ہے اور قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ وہ تمام بڑے کام جن کی اس ملک کے عوام آزادی کے وقت سے تمنا کر رہے تھے، نریندر مودی جی کی حکومت کے 12 سالوں میں مکمل ہوئے ہیں اور اب نکسل ازم سے پاک بھارت کی تشکیل بھی نریندر مودی جی کے دورِ حکومت میں ہی ہوگی۔ جناب شاہ نے کہا کہ گزشتہ 12 سال ملک کے لیے بہت مبارک ثابت ہوئے ہیں۔ ان 12 سالوں میں ملک کو غربت سے نجات دلانے، نوجوانوں کے لیے نیا نظامِ تعلیم لانے، اندرونی و بیرونی سلامتی کو یقینی بنانے اور ملک کی بنیادی اقدار سے غیر مربوط پالیسیوں کو ترک کرنے کے لیے بہت کچھ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تاریخی اور اہم ترین فیصلوں پر نظر ڈالے تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نکسل ازم سے پاک بھارت سرفہرست ہوگا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسل ازم سے پاک جس بھارت کی شکل ملک میں ابھرنے والی ہے، اس کی بڑی ترقی کا تمام تر سہرا ہماری مرکزی مسلح پولیس فورسز، خاص طور پر کوبرا  اور سی آر پی ایف کے جوانوں، ریاستی پولیس بالخصوص چھتیس گڑھ اسٹیٹ پولیس اور ڈی آر جی  کے جوانوں  اور مقامی قبائلیوں کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خاتمے میں عوام نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اس نظریے کا ترقی یا ترقی کے مطالبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ نظریہ کیا ہے؟ ماؤ نواز نظریہ کیا ہے؟ ان کا رہنما نعرہ کیا ہے؟ ان کا رہنما نعرہ ہے ’طاقت بندوق کی نالی سے نکلتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ترقی کے لیے نہیں بلکہ اپنے نظریے کی بقا اور فتح کے لیے لڑ رہے ہیں اور معصوم قبائلیوں میں اپنا نظریہ پھیلا کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں جمہوریت پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ان کا موازنہ شہید بھگت سنگھ اور بھگوان برسا منڈا سے کرنے لگے ہیں۔ کیا آپ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے شہید بھگت سنگھ اور بھگوان برسا منڈا کا موازنہ ان لوگوں سے کر رہے ہیں جو آئین کو توڑتے ہیں، ہتھیار اٹھاتے ہیں اور معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ مانتا ہے کہ صرف ایک طویل جنگ ہی ان کے نظریے کو پھیلا سکتی ہے۔ انہیں اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ اس نظریے کے حامیوں نے بھگوان برسا منڈا، شہید بھگت سنگھ یا سبھاش چندر بوس کو اپنا آئیڈیل نہیں مانا، بلکہ اس کے بجائے ماؤ  کو اپنا آئیڈیل منتخب کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر پورے ’ریڈ کوریڈور‘ کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ وہاں ریاست کی پہنچ کمزور تھی۔ معصوم قبائلیوں کو گمراہ کیا گیا اور ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قبائلی جو 15 اگست 1947 سے پہلے سے بھگوان برسا منڈا، تلکا مانجھی، رانی درگاوتی اور مرمو بھائیوں کو اپنا ہیرو مانتے تھےوہی قبائلی 1970 تک پہنچتے پہنچتے ماؤ کو اپنا ہیرو کیسے ماننے لگے؟ جناب شاہ نے کہا کہ یہ ترقی کی کمی یا ناانصافی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ مشکل جغرافیائی حالات اور ریاست کی عدم موجودگی کی وجہ سے بائیں بازو والوں نے اس علاقے کا انتخاب کیا تاکہ وہ اپنا نظریہ پھیلا سکیں اور معصوم قبائلیوں کو گمراہ کرنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کے انتہا پسندوں نے برسوں تک اس علاقے میں ترقی نہیں پہنچنے دی، لیکن اب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی حکمرانی میں وہاں کے ہر گھر تک ترقی پہنچ رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسل ازم غربت کی وجہ سے نہیں پھیلا، بلکہ نکسل ازم کی وجہ سے پورے خطے میں برسوں تک غربت رہی۔ انہوں نے کہا کہ نکسل ازم کی جڑیں غربت اور ترقی کی کمی سے نہیں جڑی ہیں، بلکہ یہ نظریاتی ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ نکسل باڑی میں شرح خواندگی 32 فیصد، بَستر میں 23 فیصد، سہرسہ (بہار) میں 33 فیصد اور بلیا (اتر پردیش) میں 31 فیصد تھی۔ اسی طرح، فی کس آمدنی نکسل باڑی میں 500 روپے، بَستر میں 190 روپے، سہرسہ میں 299 روپے اور بلیا میں 374 روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان چاروں خطوں میں فی کس آمدنی کم و بیش ایک جیسی تھی، پھر بھی بائیں بازو کی انتہا پسندی نکسل باڑی اور بَستر میں پھلی پھولی، لیکن سہرسہ اور بلیا میں نہیں۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ سہرسہ اور بلیا کا جغرافیہ ان کے لیے سازگار نہیں تھا۔ وہاں چھپنے کے لیے گھنے جنگلات، ندیاں، نالے یا پہاڑیاں نہیں تھیں۔ وہاں ہتھیار لے جانے، اپنی تحریک چلانے، قبائلیوں کو دبانے یا انہیں زبردستی اپنے نظریے سے جوڑنے کے لیے سازگار حالات موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترقی یا فی کس آمدنی ہی معیار ہوتی، تو ملک کے کئی حصے ایسے تھے جہاں 1970 میں ترقی نہیں پہنچی تھی، لیکن وہاں نکسل ازم کیوں نہیں پھیلا؟

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ ڈرنے والی حکومت نہیں ہے، بلکہ ہر کسی کو انصاف فراہم کرنے والی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسلی تحریک کی شروعات 1970 کی دہائی میں نکسل باڑی اور بنگال سے ہوئی تھی۔ صرف 1971 کے ایک سال میں وہاں تشدد کے 3,620 واقعات ہوئے۔ 1980 کی دہائی تک ’پیپلز وار گروپ‘بن گیا اور یہ تحریک مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور اڈیشہ کی ریاستوں تک پھیل گئی۔ 1990 کی دہائی میں بائیں بازو کا نظریہ سکڑنا شروع ہوا اور انتہا پسند گروپوں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان انضمام شروع ہوا۔ 2004 میں دو بڑے گروپوں نے ضم ہو کر سی پی آئی (ماؤسٹ) تشکیل دی۔ 1970 سے 2004 تک، چار سالوں کے علاوہ، یہ پورا عرصہ اہم اپوزیشن پارٹی کے دورِ حکومت میں رہا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ وہ دور تھا جب نکسل باڑی سے شروع ہونے والی تحریک 12 ریاستوں تک پھیل گئی، جس نے ملک کے 17 فیصد رقبے اور 10 فیصد سے زیادہ آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ برسرِاقتدار لوگوں کی حمایت کے بغیر، ملک کے بالکل وسط میں تروپتی سے پشوپتی ناتھ تک پھیلا ہوا ’ریڈ کوریڈور‘ بنانا ناممکن ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ جو ہتھیار ضبط کیے گئے ہیں، ان میں سے 92 فیصد پولیس سے لوٹے گئے تھے۔ تھانے اور گولیاں لوٹی گئیں اور ان کا استعمال معصوم جوانوں، بچوں اور کسانوں کو قتل کرنے کے لیے کیا گیا۔ بائیں بازو کے نظریے نے پراپیگنڈے کے ذریعے اسے ایک مغالطے کی طرح پھیلایا۔یہ بیانیہ پیش کیا گیا کہ ناانصافی سے بچنے کے لیے ہتھیار اٹھائے جا رہے ہیں، تاکہ ان کے نظریے کو برقرار رکھا جا سکے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کو بحث و مباحثے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، ہتھیاروں کے ذریعے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نکسلیوں نے اس ملک میں ایک خلا پیدا کرنے کی کوشش کی تمام نظاموں کو تباہ کر کے ریاست اور طرزِ حکمرانی کا خلا، آئین پر بھروسہ ختم کر کے دستور کا خلا اور تھانوں کو جلا کر سیکورٹی کا خلا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تشدد میں ملوث ماؤ نوازوں اور نکسلیوں کے دن اب ختم ہو چکے ہیں اور مودی حکومت میں یہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہمیں ماؤ نواز انتہا پسندوں کو ناانصافی کے خلاف ہتھیاروں سے لڑنے والے لوگ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ بائیں بازو کا نظریہ اپنی بنیاد کھو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بائیں بازو والے اپنے وجود کو بچانے کے لیے مختلف نظریات ایجاد کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا واحد ایجنڈا ملک میں خلا پیدا کرنا ہے۔ ان کا مقصد ریاست، طرزِ حکمرانی، آئین اور سیکورٹی میں خلا پیدا کرنا اور پھر خونریزی کرنا ہے، لیکن اب یہ کامیاب نہیں ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ نکسلیوں نے بہت سے معصوم دیہاتیوں کو ’دشمن کا مخبر‘ قرار دے کر پھانسی دے دی ہے۔ انہوں نے ’عوامی عدالت‘کے نام پر ایک ڈرامہ رچایا ہوا ہے، جہاں نہ کوئی وکیل ہوتا ہے اور نہ جج۔وہ خود ہی جج بن کر بیٹھتے ہیں، خود ہی فیصلہ سناتے ہیں اور خود ہی لوگوں کو پھانسی دیتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسلیوں نے ’عوامی حکومت‘ کے نام پر ایک جھوٹا بیانیہ تیار کیا اور ترقیاتی اسکیموں کو روکنے کے لیے کام کیا۔ ان کا مقصد آئین اور نظامِ عدل کو نشانہ بنانا اور دستور میں خلا پیدا کرنا تھا۔ وہ لوگ جو اب ’ان سے بات کرو‘کی بات کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے بَستر جا کر عوامی پلیٹ فارموں پر 50 سے زائد بار کہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور حکومت ان کی بحالی کے مکمل انتظامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی واضح ہے ، وہ یہ کہ بات چیت صرف ان سے ہوتی ہے جو ہتھیار ڈال دیتے ہیں، لیکن جو گولیاں چلاتے ہیں انہیں گولیوں سے ہی جواب دیا جاتا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ جیسے ہی سوویت یونین میں کمیونسٹ حکومت بنی، یہاں 1925 میں سی پی آئی قائم ہوئی۔ سوویت یونین میں کمیونسٹ حکومت بنی اور اسی وقت یہاں سی پی آئی کی بنیاد رکھی گئی۔ کیا ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق ہے؟ سوویت حکومت نے دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیوں کے قیام کی سرپرستی اور مدد کی تھی۔ اب، ایک ایسی پارٹی جس کی بنیاد ہی دوسرے ملک سے متاثر ہو، وہ ہماری قوم کی فلاح و بہبود کے بارے میں کیسے سوچ سکتی ہے؟ ان لوگوں نے انگریزوں تک کی حمایت کی تھی۔ 1964 میں، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) بنی۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سی پی آئی (ایم) کیوں بنائی گئی۔ جب سی پی آئی پہلے سے موجود تھی، تو سی پی آئی (ایم) کیوں بنی؟ 1964 میں سوویت روس اور چین کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا۔ نتیجے کے طور پر، دو کمیونسٹ ممالک میں دو مختلف نظریاتی کمیونسٹ حکومتیں ابھریں۔ جیسے ہی مختلف نظریات والی یہ حکومتیں وجود میں آئیں، یہاں ایک چین نواز پارٹی سی پی آئی (مارکسسٹ) بن گئی۔ اس کے بعد 1969 میں پارلیمانی سیاست کی مخالفت کے لیے سی پی آئی (ایم ایل) قائم کی گئی۔ اس کا مقصد ترقی کے لیے خلا پیدا کرنا یا حقوق کا تحفظ کرنا نہیں تھا۔ اس کے دستور میں اس کا بیان کردہ مقصد پارلیمانی سیاست کی مخالفت اور مسلح انقلاب برپا کرنا تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے دو مقاصد مسلح انقلاب اور پارلیمانی سیاست کی مخالفت  کے ساتھ سی پی آئی (مارکسسٹ) بنائی اور یہ وہی لوگ ہیں جو آج کے ماؤ نواز ہیں۔ اس کے بعد 1975 میں، جیسے ہی انہیں کانگریس کی حمایت حاصل ہوئی، ایم سی سی (ماؤسٹ کمیونسٹ سینٹر)بنی اور یہ بہار اور جھارکھنڈ میں ایک مرکزی پارٹی بن گئی۔ پھر 1980 میں پی ڈبلیو جی (پیپلز وار گروپ) بنی، جس کا مرکز آندھرا تھا۔ 1982 میں، بہار میں ’دلت کسان مرکزی مسلح جدوجہد‘ کے مقصد کے ساتھ سی پی آئی (ایم ایل) پارٹی یونٹی بنی۔ 1998 میں، پیپلز وار گروپ بنا اور ماؤ نواز اس کے تحت متحد ہو گئے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2000 میں، پی ایل جی اے (پیپلز لبریشن گوریلا آرمی) بنائی گئی اور ایک گوریلا فورس قائم ہوئی۔ 2004 میں، پی ڈبلیو جی اور ایم سی سی ضم ہو گئے۔ 2014 میں مودی جی برسرِاقتدار آئے اور 2026 تک ان سب کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ یہ 1925 سے 2026 تک ان کی 101 سالہ تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو ناانصافی کے خلاف جدوجہد قرار دے کر اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔ یہ لوگ ووٹوں کے بجائے گولیوں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ بات چیت سے نہیں سمجھتے۔ ایسی صورتوں میں معصوم شہریوں کو ان کے مظالم سے بچانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہماری پارٹی کی حکومت ہے اور نریندر مودی جی نے ہر شہری کی سیکورٹی کو یقینی بنایا ہے۔ جو بھی شہریوں کے ساتھ ناانصافی کرے گا ، اگر وہ سمجھ جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ فورس اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، اسے استعمال کیا جائے گا، نتائج آئیں گے اور آج نتائج آنا شروع ہو چکے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ’اربن نکسل‘  کہتے ہیں کہ ہمیں ان ماؤ نوازوں سے بات چیت کرنی چاہیے جو ہتھیار لیے گھومتے ہیں کیونکہ وہ ناانصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں، انہیں مارا نہیں جانا چاہیے اور ان کے ساتھ ہمدردی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بھی دانشور ان کسانوں کے لیے نہیں لکھتا جو معذور ہو جاتے ہیں، سیکورٹی فورسز کے ان 5000 سے زائد جوانوں کے لیے نہیں لکھتا جو شہید ہو چکے ہیں، نہ ان کی بیواؤں کے لیے اور نہ ہی ان کے یتیم بچوں کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انسانیت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو آئین توڑتے ہیں اور ہتھیار لیے پھرتے ہیں۔ ان شہریوں کے لیے ان کے دل میں کوئی انسانیت نہیں ہے جو ان کے ہتھیاروں سے مارے جا رہے ہیں۔ ہم انسانیت کے اس دوہرے معیار کو قبول نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ انسان دوست نہیں بلکہ نکسلیوں کے حامی ہیں۔ یہ لوگ غریبوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دے کر اپنا نظریہ پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن اب ان کے دن بھی ختم ہو چکے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’سلوا جوڈوم‘  کا آغاز 2005 میں حکومت کی حمایت یافتہ عوامی تحریک کے طور پر ہوا تھا۔ قبائلی نوجوانوں کو اسپیشل پولیس آفیسر ( ایس پی اوز) بنایا گیا اور انہیں دہشت پھیلانے والوں کے خلاف لڑنے کی تربیت دی گئی۔ سلوا جوڈوم کا آغاز جناب کرما نے کیا تھا، جنہیں بعد میں نکسلیوں نے قتل کر دیا۔ 5 جولائی 2011 کو نندنی سندر اور دیگر نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی۔ جسٹس سدرشن ریڈی کے تحت سپریم کورٹ نے نکسلیوں کے خلاف ریاست کی اس لڑائی کو غیر قانونی قرار دیا اور فوری طور پر ان کے ہتھیار واپس لینے کا حکم دیا۔ اس کے نتیجے میں ان سے ہتھیار لے لیے گئے اور نکسلیوں نے چن چن کر سلوا جوڈوم سے وابستہ لوگوں کو قتل کیا اور وہی جسٹس سدرشن ریڈی بعد میں نائب صدر کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے امیدوار بنے۔ جو لوگ ملک کے امن و امان کا احترام کرتے ہیں وہ کبھی سدرشن ریڈی کو اپنا امیدوار نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص جج کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے اپنے ذاتی نظریے کا استعمال کرتا ہے، آئینی لبادہ اوڑھ کر اپنے نظریے کو حکم میں بدل دیتا ہے اور ایسا فیصلہ سناتا ہے جس سے ہزاروں معصوم قبائلیوں کی موت واقع ہو جائے، تو ہم اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ نظریے کو عوام کی فلاح و بہبود سے اوپر نہیں رکھا جا سکتا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جی کی قیادت میں 2014 سے اب تک نکسل ازم سے متاثرہ علاقوں میں 17,589 کلومیٹر سڑکیں بنانے کو منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 12,000 کلومیٹر سڑکیں پہلے ہی تعمیر ہو چکی ہیں۔ ترقی اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ نکسل ازم آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ ہم نے 6,000 کروڑ روپے کی لاگت سے تقریباً 5,000 موبائل ٹاور لگائے ہیں۔ نریندر مودی جی نے دو دیگر اسکیموں کے تحت مزید 8,000 4جی ٹاور لگانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ گزشتہ 12 سالوں میں 1,804 بینک شاخیں کھولی گئیں، 1,321 اے ٹی ایم  نصب کیے گئے، 37,850 بینکنگ کرسپونڈنٹس مقرر کیے گئے اور 6,025 پوسٹ آفس کھولے گئے۔ یہ سب کچھ محض 12 سالوں میں ہوا ہے۔ ہم نے ماؤ نوازوں سے بات چیت نہیں کی؛ بلکہ ہم نے انہیں ختم کیا اور ترقی کو آگے بڑھایا۔ ہم نے 259 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول  تعمیر کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 46 آئی ٹی آئی، 49 اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز اور 16 مزید مہارت کے تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ہم نے گزشتہ 12 سالوں میں ان سب پر تقریباً 800 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ شہری پروگراموں کے تحت 212 کروڑ روپے کے کام کیے گئے ہیں، جن کا تعلق ہیلتھ کیمپوں اور ادویات سے ہے۔ ہم نے قبائلی نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام بھی شروع کیے ہیں۔ سیکورٹی کے لیے ہم ایس آر ای  اسکیم لائے، جس کے تحت 10 سالوں میں ریاستوں کو 3,000 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ ہم ’اسپیشل انفراسٹرکچر اسکیم‘ بھی لائے اور اس کے تحت 5,000 کروڑ روپے فراہم کیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 1970 سے اب تک یہ سب کیوں نہیں ہوا؟ جب بھی سابقہ حکومتوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی، ان لوگوں نے دھماکے کیے اور لوگوں کو مار دیا۔ ہم نے دھماکے کرنے والوں کو ختم کر دیا اور اب ترقی ہو رہی ہے۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ 2014 سے اس کام کے ساتھ ایک واضح پالیسی اور مضبوط سیاسی عزم وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی جی نے یہ بالکل واضح کر دیا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں خواہ وہ کشمیر ہو، شمال مشرق ہو یا بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقے،کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مرکز اور ریاستوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی رہی ہے۔ ہم نے طرزِ حکمرانی، سرکاری کام کاج اور پولیسنگ میں ریاستوں کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ سی اے پی ایف اور ریاستی پولیس کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھایا گیا ہے۔ زمینی سطح تک قابلِ عمل انٹیلی جنس پہنچانے کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے اور ذمہ داریاں واضح طور پر طے کی گئی ہیں۔ ہم نے ’آل ایجنسی اپروچ‘ شروع کی اور نہ صرف ہتھیاروں پر بلکہ ان کے پورے نیٹ ورک پر ضرب لگائی، جس میں این آئی اے ، ای ڈی، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور ان کی فنڈنگ اور معاونت کے نظام شامل ہیں۔ ہم نے ہتھیار ڈالنے کی ایک مؤثر پالیسی متعارف کروائی۔ ترقی اور طرز حکمرانی میں ہم نے کوئی خلا نہیں چھوڑا۔ پہلے جہاں ریاست کی موجودگی نہیں تھی، آج وہاں ریاست موجود ہے۔ نکسل ازم کی شکست کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اب ہر گاؤں تک پہنچ چکی ہے اور وہاں پنچایتیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ترقی کے لیے ہم نے’ہول آف گورنمنٹ‘کا نقطہ نظر اپنایا اور سیکورٹی کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے ’ہول آف ایجنسی‘کا  نقطہ نظر اختیار کیا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وہ تین اہم تاریخوں کا ذکر کرنا چاہیں گے - 20 اگست 2019، 24 اگست 2024 اور گزشتہ روز، 31 مارچ 2026۔ 20 اگست 2019 کو وزارت داخلہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پولیس کی مکمل کوآرڈینیشن، جدید کاری، ریٹائرڈ نکسلیوں کی پولیس فورس میں شمولیت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ان کی ہم آہنگی، ان سب کا خاکہ 20 اگست کو تیار کیا گیا تھا۔ اس وقت چھتیس گڑھ میں اپوزیشن پارٹی کی حکومت تھی جس نے تعاون نہیں کیا۔ بہار 2024 سے پہلے ہی نکسل ازم سے پاک ہو چکا تھا۔ مہاراشٹر ایک تحصیل کو چھوڑکر 2024 سے پہلے نکسل ازم سے پاک ہو گیا تھا۔ اڈیشہ 2024 سے پہلے نکسل ازم سے پاک ہو چکا تھا۔ جھارکھنڈ ایک ضلع کو چھوڑ کر 2024 سے پہلے نکسل ازم سے پاک ہو گیا تھا۔ صرف چھتیس گڑھ باقی رہ گیا تھا کیونکہ وہاں کی اپوزیشن پارٹی کی حکومت نکسلیوں کو تحفظ فراہم کر رہی تھی۔ جنوری 2024 میں چھتیس گڑھ میں ہماری حکومت بنی اور اس کے اگلے ہی دن سے ہمیں مکمل تعاون اور یقین دہانی مل گئی۔ ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کی گئی اور 24 اگست 2024 کو ہم نے اعلان کیا تھا کہ 31 مارچ 2026 تک پورے ملک سے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے سیکورٹی گرڈ میں اضافہ کیا۔ وزیر اعظم مودی جی کے 11 سالوں میں 596 قلعہ بند  پولیس اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ نکسل متاثرہ اضلاع کی تعداد، جو 2014 میں 126 تھی، آج کم ہو کر صرف دو رہ گئی ہے۔ انتہائی متاثرہ اضلاع کی تعداد، جو 2014 میں 35 تھی، اب صفر ہے۔ نکسلی واقعات ریکارڈ کرنے والے پولیس اسٹیشنوں کی تعداد جو 350 تھی، آج کم ہو کر 60 رہ گئی ہے۔ گزشتہ 6 سالوں میں 406 نئے سی اے پی ایف  کیمپ قائم کیے گئے ہیں، رات کو لینڈنگ کے لیے 68 ہیلی پیڈ بنائے گئے ہیں، ہمارے جوانوں کو 400 بلٹ پروف اور بلاسٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، ہمارے جوانوں کے لیے پانچ اسپتال بنائے گئے ہیں اور پورے مواصلاتی نظام کو مضبوط کیا گیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اگر ہم 2024، 2025 اور 2026 کے مجموعی اعداد و شمار کو دیکھیں تو ان تین سالوں میں مارچ 2026 تک تصادم میں کل 706 نکسلی مارے گئے۔ 2,218 کو گرفتار کر کے جیلوں میں بھیجا گیا، جبکہ 4,839 نے ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات کی بات کرتی ہے۔ طرزِ حکمرانی کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ بات چیت ان سے کی جائے جو بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن جو ہمارے جوانوں، کسانوں، قبائلیوں اور بچوں پر گولیاں چلاتے ہیں انہیں گولیوں سے ہی جواب دیا جانا چاہیے۔ ہم نے ان تینوں چیزوں یعنی  مذاکرات، سیکورٹی اور ہم آہنگی  کا استعمال کیا ہے۔ ہم نے درست نگرانی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اور بڑی تعداد میں ٹیلی فون بلوں کا تجزیہ کیا۔ وزارت داخلہ نے لوکیشن ٹریکنگ سسٹم، موبائل فون کی سرگرمیوں، سائنسی کال لاگز، سوشل میڈیا کے تجزیے اور فارنسک و تکنیکی اداروں کے تعاون سے اس پوری مہم کی قیادت کی۔ یہ کامیابی ڈرون نگرانی، سیٹلائٹ کے استعمال، امیجنگ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔بہار میں، 2022 میں بوڑھا پہاڑ کے علاقے میں ’آپریشن آکٹوپس‘کیا گیا۔ 8 سے 25 فروری 2022 تک گملا، لوہردگا اور کٹیہاراضلاع میں ’آپریشن ڈبل بل‘ کیا گیا، جس کے بعد یہ تینوں اضلاع نکسل ازم سے پاک ہو گئے۔ 1 سے 3 ستمبر 2022 تک جھارکھنڈ کے سرائے کیلا، مغربی سنگھ بھوم اور کھونٹی اضلاع میں ’آپریشن تھنڈر اسٹورم‘ کیا گیا۔ جون اور جولائی 2022 میں مونگیر ضلع میں ’آپریشن بھیم برگ‘ کیا گیا۔ 2022 میں بہار کے گیا اور اورنگ آباد اضلاع میں ’آپریشن چکر بندھا‘ کیا گیا اور ان تمام علاقوں کو نکسل ازم سے آزاد کرا لیا گیا۔ تلنگانہ-چھتیس گڑھ سرحد پر 50 کلومیٹر لمبائی اور 37 کلومیٹر چوڑائی پر پھیلی ہوئی ایک پہاڑی پر ’آپریشن بلیک فارسٹ‘ کیا گیا۔ نکسلیوں نے وہاں ایک مستقل کیمپ قائم کر رکھا تھا جس میں 5 سال تک لڑائی جاری رکھنے کے انتظامات تھے ، جن میں ہتھیار، سولر لائٹس، بڑی تعداد میں آئی ای ڈی بنانے کی فیکٹریاں اور 5 سال کے لیے ذخیرہ شدہ اناج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں 400 سے 500 کیڈر جمع تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 45 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں پہاڑی پر پتھر انتہائی گرم ہو جاتے تھے۔ جوانوں کا 2 سے 3 لیٹر پسینہ بہتا تھا، لیکن انہوں نے شکایت کا ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا۔ یہ آپریشن 21 دن تک جاری رہا۔ وہاں 30 سے زائد ماؤ نواز مارے گئے، جبکہ باقی یا تو نیچے آتے ہی پولیس کے ساتھ تصادم میں مارے گئے یا انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ ہم نے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا پورا ذخیرہ ضبط کر لیا۔ اس آپریشن نے مؤثر طریقے سے مہاراشٹر، چھتیس گڑھ (بَستر) اور تلنگانہ میں ماؤ نواز تحریک کا خاتمہ کر دیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ کوبرا ، سی آر پی ایف، ڈی آر جی  اور چھتیس گڑھ پولیس کے جوانوں نے غیرمعمولی صبر اور ہمت کے ساتھ نکسلیوں کے قلعے کو توڑ دیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ 2024 کے آغاز میں، ان کی پارٹی کی مرکزی قیادت پر مشتمل سینٹرل کمیٹی اور پولٹ بیورو میں کل 21 ممبران تھے۔ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، سات نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، 12 مارے جا چکے ہیں، اور ایک مفرور ہے ۔ اس کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ سینٹرل کمیٹی اور پولٹ بیورو کے تمام 21 ممبران کو بے اثر کر دیا گیا ہے اور ان کا مرکزی ڈھانچہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ دنڈاکارنیہ  میں 27 ممبران پر مشتمل ایک اسٹیٹ کمیٹی تھی۔ تین گرفتار ہوئے، 20 نے ہتھیار ڈالے، 11 مارے گئے اور دو کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ دنڈاکارنیہ میں ان کی اہم اسٹیٹ کمیٹی ختم ہو چکی ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ کی ایم ایم سی  اسٹیٹ کمیٹی میں صرف تین ممبر رہ گئے تھے ۔ ان تینوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اڈیشہ میں چار بچے تھے ، ایک نے ہتھیار ڈال دیے اور تین مارے گئے۔ او ایس سی (اڈیشہ) میں صرف 10 ممبر تھے ، پانچ نے ہتھیار ڈالے اور پانچ مارے گئے۔ ڈسٹربڈ ریجن بیورو  میں ایک گرفتار ہوا، تین مارے گئے اور ایک مفرور ہے۔ تلنگانہ میں چھ نے ہتھیار ڈالے اور تین مارے گئے ، اب ایک بھی باقی نہیں بچا۔ اس طرح، ان کا پولٹ بیورو اور سی ایم سی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے 31 مارچ تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا اور ہم نے اسے حاصل کر لیا ہے۔ اب یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ملک نکسل ازم سے پاک ہو چکا ہے۔ان کے جنرل سکریٹری بسواراجو کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ 27 لوگوں کو قتل کرنے والے ہڈماکو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ 11 سال سے سرگرم گجور یلا روی کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ 46 سال سے سرگرم کداری ست نارائن ریڈی کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ 44 سال سے سرگرم گنیش اوئیکے کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ وینوگوپال نے ہتھیار ڈال دیے ہیں - وہ 46 سال سے سرگرم تھا۔ واسودیو نے ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔ وہ 36 سال سے سرگرم تھا۔ 46 سال سے سرگرم پلوری پرساد راؤ چاندنا نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ 36 سال سے سرگرم رام دیو مانجھی دیبو نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ 44 سال سے سرگرم ٹپری تروپتی نے بھی ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ تمام اعلیٰ مسلح ماؤ نواز لیڈروں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ہم نے ایک پرکشش بحالی پالیسی  اپنائی ہے جس کے تحت ہتھیار ڈالنے پر 50,000 روپے کی ترغیبی رقم دی جاتی ہے، جو گروپ کی شکل میں ہتھیار ڈالنے پر دوگنی کر دی جاتی ہے۔ حکومت تمام کو موبائل فون فراہم کرتی ہے۔ ہتھیار جمع کرانے پر اضافی معاوضہ دیا جاتا ہے۔ بحالی کے مراکز میں ہنر کی تربیت اور ٹول کٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم انہیں 36 ماہ تک 10,000 روپے ماہانہ دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی جی نے ان سب کو ’پردھان منتری آواس یوجنا‘ کے تحت گھروں کا تحفہ دیا ہے۔ جیسے ہی کوئی گاؤں نکسل ازم سے پاک ہوتا ہے اور وہاں پنچایت بنتی ہے، گاؤں کی ترقی کے لیے 1 کروڑ روپے دیے جاتے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ نکسلیوں کے ہاتھوں 15,000 بچوں کی زندگیاں برباد ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ عدالتوں کے تحفظ میں ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر مضامین لکھتے ہیں، جبکہ وہاں زندگیاں تباہ ہو گئیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو خود کو انسانی حقوق کے علمبردار سمجھتے ہیں، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس بچی کے انسانی حقوق کی فکر کون کرے گا جو 32 سال کی عمر تک مہندی بھی نہیں لگا سکی؟ انہوں نے کہا کہ صرف نریندر مودی جی ہی اس کی فکر کریں گے اور کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ان کے حقوق چھینے انہیں دیر یا سویر اس کا جواب دینا ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے الفاظ کے ذریعے یا بھیس بدل کر بلاواسطہ یا بالواسطہ نکسلیوں کی حمایت کی ہے، وہ اس گناہ میں اتنے ہی برابر کے شریک ہیں جتنے کہ وہ لوگ جو بندوقیں لیے پھرتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے ’اسکل سینٹرز‘ قائم کر کے ان کے روزگار اور نوکریوں کے لیے کئی کوششیں کی ہیں۔ ہم نے ان کے بچوں کے لیے بارہویں جماعت تک مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی ہے۔ ہم نے خواتین کے لیے 2 لاکھ روپے اور مردوں کے لیے 5 لاکھ روپے کے قرضوں کا انتظام کیا ہے۔ ہم ’بَستر اولمپکس‘ اور ’بَستر پانڈم‘ کے ذریعے وہاں ثقافت اور کھیلوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ بَستر پانڈم میں 1.20 لاکھ سے زائد فنکاروں نے حصہ لیا اور کھیلوں کے مقابلوں میں 5.50 لاکھ قبائلیوں نے شرکت کی۔ وہ لوگ جو اسے انصاف کی لڑائی کہتے ہیں انہیں بَستر پانڈم اور بَستر اولمپکس کا دورہ کرنا چاہیے۔ جناب شاہ نے کہا کہ آپ کے پاس ان لوگوں کی حمایت میں تقریریں کرنے کے لیے کافی وقت ہے جنہوں نے متاثرین پر مظالم ڈھائے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ جب سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت بنی تو ایک نیشنل ایڈوائزری کونسل (این اے سی) بنائی گئی۔ نیشنل ایڈوائزری کونسل کی شکل میں ایک نیا ماورائے آئین فورم تشکیل دیا گیا جس نے عملی طور پر ملک کے لیے قوانین بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہرش مندر اس کے ممبران میں سے ایک تھے، جن کی این جی او’امن ویدیکا‘ نے ایک اعلیٰ نکسل لیڈر کی بیوی کو ذمہ داری دے رکھی تھی۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں اغوا کے مقدمات میں ملوث تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ این اے سی ملک کے لیے پالیسیاں بنا رہی تھی۔ رام دیال منڈا کہا کرتے تھے کہ نکسل آپریشن ضرورت سے زیادہ سخت تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس خفیہ حمایت نے نکسلیوں کے حوصلے بلند کیے تھے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ نندنی سندر، رام چندر گوہا، ای اے ایس شرما اور دیگر بھی سلوا جوڈوم کیس سے وابستہ تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ایک ماورائے آئین اتھارٹی ، جو وزیر اعظم سے بھی اوپر تھی،کے ارکان نکسل ازم کے حامی ہوں، تو نکسلیوں کا حوصلہ کبھی کیسے ٹوٹے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ کام اہم اپوزیشن پارٹی نے کیا تھا۔ یہ تاریخ ہے اور جو لوگ اس حقیقت کی مخالفت کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں سینکڑوں کتابیں لکھی جائیں گی جو آپ کے ان ہی کرتوتوں سے بھری ہوں گی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنے طویل سیاسی کیریئر میں کئی بار نکسلیوں اور ان کے ہمدردوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی نکسل فرنٹل تنظیموں نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں حصہ لیا اور اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں انہیں اڈیشہ میں لاڈو سیکوکا کے ساتھ اسٹیج پر دیکھا گیا تھا۔ سیکوکا نے اسی اسٹیج سے اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور انہوں نے اسے ہار بھی پہنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں اپوزیشن لیڈر نے حیدرآباد میں گماڈی وٹھل راؤ عرف گدر  سے ملاقات کی تھی، جو ان کے نظریے کے قریب تھے۔ مئی 2025 میں انہوں نے ’کوآرڈینیشن کمیٹی آف پیس‘ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہڈما  ،وہ جس نے 172 جوانوں کو قتل کیا تھا کو ختم کیا گیا، تو انڈیا گیٹ پر نعرے لگائے گئے: ’تم کتنے ہڈما مارو گے؟ ہر گھر سے ہڈما نکلے گا۔‘ اپوزیشن لیڈر نے خود ان نعروں کی ویڈیو شیئر کی تھی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ نکسلیوں کے حامیوں نے 1970 سے مارچ 2026 تک نکسل ازم کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قتل عام کی حمایت ہے اور اگر 20,000 لوگوں کے قتل کے پیچھے کوئی ایک مجرم ہے، تو وہ اہم اپوزیشن پارٹی کا بائیں بازو کا نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسلیوں کے ساتھ رہتے ہوئے، یہ پارٹی اور اس کے لیڈر خود نکسلی بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام کو انتخابات میں اپنا جواب دینا ہوگا، کیونکہ یہ معاملہ یہاں نہیں رکے گا ،یہ عوام کی عدالت میں جائے گا۔

*****

ش ح۔ م م  ۔ ص ج

U. No-7029


(ریلیز آئی ڈی: 2260806) وزیٹر کاؤنٹر : 7