وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کرناٹک کے شہر بنگلورو میں آرٹ آف لیونگ کی 45ویں سالگرہ تقریبات میں شرکت کی
بنگلورو کا ماحول منفرد ہے؛ یہ شہر دنیا بھر میں سافٹ ویئر اور خدمات کے لیے مشہور ہے، تاہم یہ شہر بھارت کی ثقافتی شناخت، روحانیت، اور روحانی شعور کو نئی بلندیوں سے ہمکنار بھی کر چکا ہے: وزیر اعظم
سیوا پرمو دھرم (خدمت ہی سب سے بڑا فرض ہے)، ہمارے معاشرے کا فطری کردار ہے: وزیر اعظم
ہمارا سوَچھ بھارت ابھیان محض ایک سرکاری پروگرام نہیں، بلکہ یہ عوام کی زندگی کا ایک فطری حصہ بن چکا ہے؛ اب، یہ معاشرے کی قوت کی مدد سے آگے بڑھ رہا ہے: وزیر اعظم
وکست بھارت کی تکمیل صرف ایسے نوجوانوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے، جو ذہنی طور پر پُرسکون ہوں، جو سماجی طور پر ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوں، اور جو معاشرے کے تئیں حساس ہوں: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 MAY 2026 2:20PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کرناٹک کے شہر بنگلورو میں آرٹ آف لیونگ کی 45ویں سالگرہ تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بچوں کے ذریعہ ویدک منتروں کے ذریعہ کیے گئے استقبال، بھگوان گنیش کے درشن، شری شری روی شنکر جی کے 70ویں برس اور ’آرٹ آف لیونگ‘ کی 45ویں سالگرہ کی تقریبات سے مزین اس صبح کی خصوصیت کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ لمحات ہمیشہ میری یادوں میں زندہ رہیں گے۔‘‘
روحانی اور عظیم الشان مراقبہ مندر کے افتتاح کے موقع پر، وزیر اعظم نے اس طرح کے کلی طور پر وقف اداروں کی اہمیت کی تصدیق کی اور آرٹ آف لیونگ کے کنبے کو ان کی نئی عبادت گاہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ جب عزم واضح ہو اور خدمت کے جذبے سے کام کیا جائے تو ہر کوشش کے خوشگوار نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
بنگلورو کے مخصوص ماحول کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ کس طرح یہ شہر نہ صرف سافٹ ویئر اور خدمات کے لیے بلکہ بھارت کی ثقافتی شناخت اور روحانی شعور کو بلند کرنے کے لیے بھی عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ جناب مودی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،"روحانیت اور روحانی شعور کو بھی اس شہر نے نئی بلندیاں دی ہیں"۔
یوگ، مراقبہ اور پرانایام کی گہری جڑوں کو بھارت کی اقدار کے اٹوٹ حصوں کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بھارت کے روحانی ورثے کے عالمی اثر اور متعدد اداروں کو متاثر کرنے میں اس کے کردار کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے تصدیق کی، "آج دنیا بھر کے لوگ بھارت کی روحانی اقدار سے متاثر ہیں، اور ان قدیم اقدار سے بھارت کے بہت سے ادارے بھی تحریک لے رہے ہیں"۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان قدیم روحانی اقدار سے تحریک لیتے ہوئے، کس طرح شری شری روی شنکر جی نے 45 سال قبل آرٹ آف لیونگ کا بیج بویا تھا، جو اب ایک بہت بڑا برگد کا درخت بن چکا ہے۔ جناب مودی نے تبصرہ کیا، ’’آج یہ ہمارے سامنے برگد کا ایک بہت بڑا درخت بن کر کھڑا ہے جس کی ہزاروں شاخیں دنیا بھر کے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں ‘‘۔
بھارت کی زبانوں، روایات، رسم و رواج، اور عبادت کے طور طریقوں پر مبنی تنوع کی بھرپور رنگا رنگی کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بارے میں بنیادی سوال اٹھایا کہ ان خوبصورت تنوع کو آپس میں کیا چیز مربوط کرتی ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’اس کا جواب اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا ہے۔‘‘
پرانوں کی قدیم حکمت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دوسروں کی خدمت کرنا نیکی ہے جبکہ تکلیف پہنچانا گناہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خدمت بھارت سماج کا فطری کردار ہے۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا،’’سیوا پرمو دھرم ہمارے معاشرے کا فطری کردار ہے ‘‘۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت کی متعدد روحانی تحریکوں نے بالآخر انسانیت کی خدمت کے ذریعے خود کو ظاہر کیا ہے، وزیر اعظم نے آرٹ آف لیونگ کی ہر کوشش میں اسی جذبے کی عکاسی کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ آرٹ آف لیونگ کے سفر سے وابستہ ہر رضاکار کو دلی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ان کی لگن اور خدمت کے رجحان کی تعریف کی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کسی بھی مشن کی کامیابی کے لیے سماجی رابطہ کاری ضروری ہے، وزیر اعظم نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ سماجی طاقت کو بیدار کرنا اہم مقاصد کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے دیرینہ یقین پر زور دیا کہ معاشرہ سیاسی نظاموں اور حکومتوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے، اور یہ کہ کوئی بھی انتظامیہ اس وقت تک حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ کمیونٹیز قوم کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیں۔ انہوں نے سوَچھ بھارت مشن کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو حکومتی پہل کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ لوگوں کی زندگیوں کے فطری تانے بانے میں بُنی گئی ہے، جو اب معاشرے کی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کوئی بھی مہم تبھی کامیاب ہوتی ہے جب سماج کی طاقت اس میں شامل ہو، جناب مودی نے کہا، "ایسے ہر اہم مشن کے لیے سماج کی طاقت کو بیدار کرنا بہت ضروری ہے۔"
اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ فعال معاشرتی وابستگی ملک کی سب سے بڑی چنوتیوں کے اجتماعی حل میں مدد کرتی ہے، وزیر اعظم نے آرٹ آف لیونگ کی تعریف کی کہ وہ اپنی پہل قدمیوں کے ذریعہ معاشرے کی مضبوطی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے ترقیاتی پروگراموں میں تنظیم کے سماجی نقطہ نظر کی تعریف کی، خواہ وہ درخت لگانے کی مہم ہو، دیہی اسمارٹ گاؤں کے مراکز ہوں، خواتین اور قبائلی بااختیار بنانے کے اقدامات، یا قید افراد کے لیے ذہنی صحت کے پروگرام ہوں۔ جناب مودی نے کہا، "یہ کوششیں ملک اور سماج کی ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں"۔
نوجوانوں کی اختیار دہی کو ترجیح دینے کے لیے موجود ہر فرد کی ستائش کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے سائنسی ترقی اور اختراعات سے چلنے والی آج کی تیز رفتار عالمی تبدیلیوں کے پیش نظر اس توجہ کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بھارت نہ صرف ان تبدیلیوں میں حصہ لے رہا ہے بلکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں، انفراسٹرکچر کی توسیع اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں خاص کامیابیوں کے ساتھ متعدد شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت کے نوجوان خلائی تکنالوجی کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ایسی تمام قومی کامیابیوں میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، "بھارت صرف اس تبدیلی میں حصہ نہیں لے رہا ہے، بلکہ وہ بہت سے شعبوں میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔" ان کامیابیوں کا سہرا بھارت کے نوجوانوں کو دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے نوجوانوں کو جدید دور کی چنوتیوں کا حل تلاش کرنے میں مدد کرنے میں آرٹ آف لیونگ کے کردار کو تسلیم کیا۔
دور دراز موجود لوگوں کو فوری طور پر جوڑنے کے لیے تکنالوجی کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لوگوں کی خود سے جڑنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی متوازی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کا ترقی یافتہ مستقبل ایسے نوجوانوں کی تربیت پر منحصر ہے جو ذہنی طور پر پرامن، سماجی طور پر ذمہ دار اور سماجی ضروریات کے لیے حساس ہوں۔ انہوں نے روحانی تندرستی، دماغی صحت، یوگا، اور مراقبے پر کام کرنے والے اداروں کے اہم کردار پر زور دیا جو ایک ہی وقت میں ثقافتی تفہیم کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، "ایک وکست بھارت ایسے نوجوانوں کے ذریعے تعمیر کیا جائے گا، جو ذہنی طور پر پرامن، سماجی طور پر ذمہ دار اور سماج کے تئیں حساس ہیں۔"
اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہ نیا افتتاح کیا گیا مراقبہ مندر ہزاروں لوگوں کے لیے امن اور شفا کی پناہ گاہ کے طور پر کام کرے گا، وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ جب کہ معاشرہ پہلے ہی قوم کے تئیں اپنے فرائض کو قابل ستائش طریقے سے نبھا رہا ہے، وہ ان کے سامنے کلی قومی ترقی کے لیے کئی اہم اپیلیں رکھنا چاہتے ہیں۔
بھارت کی جامع ترقی کو آگے بڑھانے میں آرٹ آف لیونگ جیسی اہم تنظیموں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کاشتکاروں کو فطری طریقہ کاشت سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے پائیدار زراعت کو آرٹ آف لیونگ کے اظہار کے طور پر پیش کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ کیمیاوی اشیاء سے دھرتی ماں کا تحفظ روحانی مشق اور ماحولیاتی ذمہ داری دونوں پر مشتمل ہے۔ جناب مودی نے تصدیق کی، "فطری طریقہ کاشت کو اپنانا اور کیمیکلز سے زمین کو بچانا، یہ بھی آرٹ آف لیونگ ہے" ۔
’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کو وسیع تر کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ماحولیاتی تحفظ کو اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنے کے فلسفے سے راست طور پر مربوط کیا۔ اس مشن کے لیے نئی عہد بستگی کی اپیل کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’ماحولیات کا تحفظ بھی آرٹ آف لیونگ ہے۔‘‘
"فی قطرہ، زیادہ فصل" پہل قدمی کے ذریعے کاشتکار برادریوں کے درمیان پانی کے انتظام کے بہتر طریقوں کی وکالت کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی تعاون سے نتائج میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مانسون کے قریب آنے کے پیش نظر اس کام کی فوری ضرورت پر زور دیا، جس سے یہ پانی کے تحفظ کے وسیع پیمانے پر آگاہی کے لیے ایک بہترین لمحہ بن گیا۔ جناب مودی نے کہا،"پانی کے ہر قطرے کو بچانا بھی آرٹ آف لیونگ ہے"۔
ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے اس وژن کو وسعت دیتے ہوئے بجلی کی بچت، سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے اور مقامی طور پر تیار کی جانے والی اشیا کے فروغ کو شامل کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ان تمام طریقوں کو آرٹ آف لیونگ کے فلسفے سے مربوط کیا۔ انہوں نے حکومت کی مشن لائف پہل قدمی پر روشنی ڈالی، جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے زیادہ ذمہ داری اور بیداری کے ساتھ زندگی گزارنے کو فروغ دیتی ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، "یہ طرز حیات جو فطرت کے ساتھ توازن رکھتی ہے، یہ بھی آرٹ آف لیونگ ہے"۔
وزیر اعظم نے اس اعتماد کے اظہار کے ساتھ اپنی بات مکمل کی کہ یہ تنظیم آنے والے دنوں میں اس طرح کے اہم مسائل کو اور زیادہ ترجیح دے گی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:6867
(ریلیز آئی ڈی: 2259556)
وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Assamese
,
Manipuri
,
Bengali
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam