پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
مغربی ایشیا کے حالیہ واقعات پر بین وزارتی بریفنگ
ڈلیوری آتھینٹیکیشن کوڈپر مبنی ترسیلات تقریباً 95 فیصد تک بڑھا دی گئی ہیں تاکہ غیر مجاز تقسیم کو روکا جا سکے
پی ایس یو او ایم سیز نے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کے لیے 10,400 سے زیادہ بیداری کیمپوں کا انعقاد کیا اور 3 اپریل2026 سے اب تک ان کیمپوں کے دوران پانچ کلو گرام والے 1,84,000سے زیادہ ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے
فارما ، کیمیکل اور پینٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے لیے ایل پی جی پول سے بنے سی3 اور سی4 مالیکیولز کے لیے 1120 ایم ٹی/دن کا التزام
خطے میں تمام ہندوستانی جہاز راں محفوظ ہیں ؛ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہندوستانی پرچم بردار جہازوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے
تہران میں ہندوستانی سفارتخانے نے زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے ایران سے 2,520 ہندوستانی شہریوں کی آمدورفت میں سہولت فراہم کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 MAY 2026 4:45PM by PIB Delhi
مغربی ایشیا میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے درمیان ، حکومت ہند شہریوں کو باقاعدہ تازہ ترین معلومات کے ذریعے آگاہ رکھنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں آج نیشنل میڈیا سینٹر میں ایک میڈیا بریفنگ منعقد کی گئی ، جہاں پیٹرولیم اور قدرتی گیس ، بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارتوں کے افسران نے ایندھن کی دستیابی ، سمندری کارروائیوں اور کلیدی شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کیں ۔
ایندھن کی فراہمی اور دستیابی
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے مغربی ایشیا میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایندھن کی فراہمی کی موجودہ صورتحال پر ایک تازہ ترین معلومات فراہم کی ۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ:
عوامی مشاورتی اور شہری بیداری
- شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں کیونکہ حکومت پیٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔
- افواہوں سے ہوشیار رہیں اور درست معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں ۔
- ایل پی جی صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارم استعمال کریں اور تقسیم کاروں کے پاس جانے سے گریز کریں ۔
- شہریوں کو متبادل ایندھن جیسے پی این جی اور برقی یا انڈکشن کک ٹاپ استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔
- تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے دوران اپنے روزمرہ کے استعمال میں توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری کوششیں کریں ۔
حکومت کی تیاری اور سپلائی بندوبست کے اقدامات
- موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ گھریلو ایل پی جی ، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کو 100فیصد سپلائی کی جا رہی ہے ۔
- تجارتی ایل پی جی کے لیے اسپتالوں ، تعلیمی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ فارما ، اسٹیل ، آٹوموبائل ، بیج ، زراعت وغیرہ کو بھی ترجیح دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ 2 اور 3 مارچ 2026 کو روزانہ کی فراہمی کے تحت مہاجر مزدوروں کو 5 کلوگرام ایف ٹی ایل کی سپلائی بھی اوسط کی بنیاد پر دوگنی کردی گئی ہے۔
- حکومت پہلے ہی سپلائی اور مانگ دونوں پہلوؤں پر کئی معقول اقدامات نافذ کر چکی ہے ، جن میں ریفائنری کی پیداوار میں اضافہ ، شہری علاقوں میں بکنگ کا وقفہ 21 سے 25 دن اور دیہی علاقوں میں45 دن تک بڑھانا اور سپلائی کے لیے شعبوں کو ترجیح دینا شامل ہے ۔
- ایل پی جی کی مانگ پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے مٹی کے تیل اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن دستیاب کرائے گئے ہیں ۔
- کوئلے کی وزارت نے کول انڈیا اور سنگارینی کولیریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین کو تقسیم کیے جانے کے لیے ریاستوں کو اضافی کوئلہ فراہم کریں ۔
- ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشن کی سہولت فراہم کریں ۔
ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ادارہ جاتی میکانزم کے ساتھ مربوط کوششیں
- ریاستی حکومتوں کولازمی اشیاء ایکٹ ، 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر ، 2000 کے تحت سپلائی کی نگرانی کرنے اور ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔
- گورنمنٹ ۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت لازمی اشیاء کی سپلائی کی صورتحال کی نگرانی اور ان کو منظم کرنے میں بنیادی رول ادا کرنا ہوگا ۔ حکومت ہند نے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو متعدد خطوط اور وی سی کے ذریعے اس بات کا اعادہ کیا ہے ۔
- حکومت ہند نے 27مارچ2026 اور 02اپریل2026 کے خطوط کے ذریعے شہریوں کو ایندھن کی مناسب دستیابی کے بارے میں یقین دلانے کے لیے فعال عوامی مواصلات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ میٹنگیں کی جا رہی ہیں ۔ اس تناظر میں ، 02اپریل2026 کو (سکریٹری ، ایم او پی این جی کی صدارت میں) اور 06اپریل2026 کو (سکریٹری ، ایم او پی این جی کے ساتھ ساتھ اطلاعات و نشریات اور صارفین کے امور کے سکریٹریوں کی صدارت میں) میٹنگیں بلائی گئیں جن میں درج ذیل باتوں پر زور دیا گیا:
- روزانہ پریس بریفنگ جاری کرنا اور باقاعدہ عوامی مشورے جاری کرنا ۔
- سوشل میڈیا پر فرضی خبروں/غلط معلومات کی فعال طور پر نگرانی اور ان کی روک تھام کرنا ۔
- ضلعی انتظامیہ کی طرف سے روزانہ نافذ کرنے والی مہمات کو تیز کرنا اور او ایم سی کے ساتھ مل کر چھاپے کی کارروائی اور معائنہ جاری رکھنا۔
- اپنی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اندر تجارتی ایل پی جی الاٹمنٹ آرڈر جاری کرنا۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو الاٹ کیے گئے اضافی ایس کے او کے لیے ایس کے او الاٹمنٹ آرڈر جاری کرنا ۔
- پی این جی اپنانے اور متبادل ایندھن کو فروغ دینا ۔
- ایل پی جی سپلائی کو ترجیح دینا ، خاص طور پر گھریلو ضروریات کے لیے ، اور سپلائی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی ہدف تقسیم کو اپنانا ۔
- تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے کنٹرول روم اور ضلعی نگرانی کمیٹیاں قائم کی ہیں ۔
- بہت سی ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے پریس بریفنگ جاری/انجام دے رہے ہیں ۔
نفاذ اور نگرانی کی کارروائیاں
- ملک بھر میں ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے نفاذ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کل ایک ہی دن میں ملک بھر میں 2100 سے زائد چھاپے مارے گئے۔
- سرکاری پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اچانک معائنوں کو مزید سخت کیا ہے اور 366 ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز پر جرمانے عائد کیے ہیں، جبکہ 75 ڈسٹری بیوشن مراکز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
ایل پی جی سپلائی کی صورتحال
گھریلو ایل پی جی سپلائی کی صورتحال:
- موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، تاہم گھریلو صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
- ڈسٹری بیوشن مراکز پر کسی قسم کی “ڈرائی آؤٹ’’(گیس کی مکمل کمی) کی اطلاع نہیں ملی۔
- کل صنعتی سطح پر آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ بڑھ کر تقریباً 99 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
- فراڈ اور غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی )پر مبنی ترسیل کا نظام تقریباً 95 فیصد تک فعال ہو چکا ہے۔ یہ کوڈ صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر موصول ہوتا ہے۔
- گزشتہ دو دنوں میں تقریباً 88.82 لاکھ بکنگ کے مقابلے میں 87.28 لاکھ ایل پی جی سلنڈرز کی کامیاب ترسیل کی گئی ہے۔
تجارتی ایل پی جی کی سپلائی اور الاٹمنٹ کے اقدامات
- تجارتی ایل پی جی کی مجموعی الاٹمنٹ کو بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً 70 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جس میں 10 فیصد اصلاحات سے منسلک الاٹمنٹ بھی شامل ہے۔
- حکومت ہند نے مورخہ 06.04.2026 کے خط کے ذریعے ہدایت دی ہے کہ ہر ریاست میں 5 کلوگرام ایف ٹی ایل (سلنڈرز کی روزانہ دستیاب مقدار کو دوگنا کیا جائے گا، تاکہ نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ یہ اضافہ 02–03 مارچ 2026 کے دوران مزدوروں کو دی گئی اوسط روزانہ سپلائی کی بنیاد پر کیا گیا ہےاور 21.03.2026 کے خط میں بیان کردہ 20 فیصد حد سے بھی زیادہ ہے۔ یہ 5 کلوگرام سلنڈر ریاستی حکومتوں کے اختیار میں ہوں گے اور صرف مزدوروں کو فراہم کیے جائیں گے، جن کی تقسیم میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں(او ایم سیز)مدد فراہم کریں گی۔
- گزشتہ دو دنوں میں تقریباً 1.2 لاکھ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز فروخت کیے گئے۔
- 3 اپریل 2026 سے اب تک پی ایس یو او ایم سیزنے 10,400 سے زائد آگاہی کیمپ منعقد کیے ہیں، جن میں 1,84,000 سے زیادہ 5 کلوگرام سلنڈرز بھی فروخت کیے گئے۔ کل ایک دن میں 132 کیمپوں کے ذریعے 4,171 سلنڈرز فروخت ہوئے۔
- آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی، ریاستی حکام اور صنعت سے مشاورت کے ساتھ مختلف ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تجارتی ایل پی جی کی فروخت کا منصوبہ تیار کرتی ہے۔
- گزشتہ دو دنوں میں مجموعی طور پر 15,900 میٹرک ٹن سے زائد تجارتی ایل پی جی فروخت ہوئی، جو 19 کلوگرام کے 8.37 لاکھ سے زیادہ سلنڈرز کے برابر ہے۔
- اسی مدت میں 876 میٹرک ٹن آٹو ایل پی جی بھی پی ایس یوآئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے فروخت کیا گیا۔
قدرتی گیس کی سپلائی اور پی این جی کی توسیعی اقدامات
- صارفین کو ڈی-پی این جی اور سی این جی ٹرانسپورٹ کی 100فیصد سپلائی کے ساتھ ترجیح دی گئی ہے۔
- فرٹیلائزر (کھاد) پلانٹس کے لیے گیس کی مجموعی الاٹمنٹ کو بڑھا کر ان کی چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 98 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔
- اس کے علاوہ صنعتی اور تجارتی شعبوں بشمول سی جی ڈی نیٹ ورکس کے ذریعے سپلائی کو بڑھا کر 80 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔
- سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام جغرافیائی علاقوں میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کینٹینز جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشن کو ترجیح دیں، تاکہ تجارتی ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کم کیے جا سکیں۔
- سی جی ڈی کمپنیاں جیسے آئی جی ایل، ایم جی ایل، جی اے آئی ایل گیس اور بی پی سی ایل گھریلو اور تجارتی پی این جی کنکشن کے لیے مراعات بھی فراہم کر رہی ہیں۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سی جی ڈی نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے درکار منظوریوں میں تیزی لائیں۔
- حکومتِ ہند نے مورخہ 18.03.2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تجارتی ایل پی جی کی اضافی 10 فیصد الاٹمنٹ کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ طویل مدت میں ایل پی جی سے پی این جی کی طرف منتقلی میں مدد فراہم کریں۔
- 22 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے اضافی تجارتی ایل پی جی الاٹمنٹ حاصل کر رہے ہیں، پی این جی توسیعی اصلاحات سے منسلک ہے۔
- وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں نے مورخہ 24.03.2026 کے خط کے ذریعے سی جی ڈی (شہری گیس تقسیم) انفراسٹرکچر کے لیے “تیز تر منظوری فریم ورک” اپنایا ہے، جس کے تحت درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے 3 ماہ کے لیے منظوری کے عمل کے اوقات کم کر دیے گئے ہیں۔
- حکومت ہندنے مورخہ 24.03.2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے قدرتی گیس اور پٹرولیم پروڈکٹس تقسیم (پائپ لائنوں اور دیگر سہولیات کے آپریشن اور توسیع بچھانے اور تعمیر کے ذریعے )آرڈر ،2026 جاری کیا ہے، جو لازمی اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ اس آرڈر کے تحت ملک بھر میں گیس پائپ لائنوں کی بچھائی اور توسیع کے لیے ایک مربوط اور وقت مقررہ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد منظوریوں میں تاخیر اور زمین تک رسائی کے مسائل کو حل کرنا ہے تاکہ قدرتی گیس کے انفراسٹرکچر کو تیزی سے ترقی دی جا سکے، خصوصاً رہائشی علاقوں میں بھی۔ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی توسیع، آخری منزل تک رسائی اور صاف توانائی کی طرف منتقلی میں تیزی آنے کی توقع ہے، جس سے بھارت کی گیس پر مبنی معیشت اور توانائی تحفظ مضبوط ہوگا۔
- پی این جی آر بی نے سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈی –پی این جی کنکشنز کو تیزی سے بڑھائیں۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل پی این جی مہم 2.0 کو 30.06.2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ پی این جی کی توسیع کا عمل جاری رہے۔
- صاف، محفوظ اور خود کفیل توانائی کے مستقبل کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ ہند نے ایک ماڈل ڈرافٹ اسٹیٹ سی بی جی پالیسی تیار کی ہے۔ یہ پالیسی ریاستوں کو ایک لچکدار اور سرمایہ کار دوست فریم ورک فراہم کرتی ہے تاکہ وہ کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی )کے فروغ کے لیے اپنا نظام بنا سکیں۔ جو ریاستیں اس پالیسی کو اپنائیں گی، انہیں تجارتی ایل پی جی کی اضافی الاٹمنٹ کی اگلی قسط میں ترجیح دی جائے گی۔
- ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے مورخہ 07.04.2026 کے حکم کے ذریعے سی پی سی بی کو ہدایت دی ہے کہ سی جی ڈی نیٹ ورک/ انفراسٹرکچر کے لیے اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈز/پولوشن کنٹرول کمیٹیوں کو 15 دن کے اندر منظوری دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
- مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 6.31 لاکھ پی این جی کنکشنز کو فعال کیا گیا ہے، جبکہ مزید 2.67 لاکھ کنکشنز کے لیے انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 8.98 لاکھ کنکشنز کا ہدف حاصل ہوا ہے۔ مزید 6.93 لاکھ صارفین نئے کنکشن کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔
- 05.05.2026 تک تقریباً 49,200 پی این جی صارفین نے MYPNGD.in ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سپرد کر دیے ہیں۔
خام تیل کی صورتِ حال اور ریفائنری آپریشنز:
- تمام ریفائنریاں اپنی مکمل صلاحیت کے قریب کام کر رہی ہیں اور خام تیل کے مناسب ذخائر موجود ہیں، جب کہ پیٹرول اور ڈیزل کے وافر اسٹاک کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔
- ریفائنریوں سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ اندرونِ ملک کھپت میں مدد فراہم کی جا سکے۔
- پیٹروکیمیکل فیڈ اسٹاک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بین وزارتی مشترکہ ورکنگ گروپ ( جے ڈبلیو جی ) تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے بعد، حکومتِ ہند نے یکم اپریل ، 2026 ء کے حکم کے ذریعے آئل ریفائنری کمپنیوں اور پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو اجازت دی ہے کہ وہ سی 3 اور سی 4 اسٹریمز کی مخصوص کم از کم مقدار کو سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی ( سی ایچ ٹی ) کی جانب سے طے کردہ اہم شعبوں کے لیے دستیاب رکھیں۔
- وزارتِ کیمیکلز و پیٹروکیمیکلز ( ڈی سی پی سی ) ، فارما سیوٹیکل ڈیپارٹمنٹ، صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے ( ڈی پی آئی آئی ٹی ) کی درخواستوں کی بنیاد پر ایل پی جی پول سے روزانہ 1120 میٹرک ٹن کی فراہمی فارما، کیمیکل اور پینٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔
- 9 اپریل ، 2026 ء سے اب تک ممبئی، کوچی ، وشاکھاپٹنم، چنئی، متھرا اور گجرات ریفائنریوں نے کیمیکل، فارما اور پینٹ صنعتوں کو تقریباً 12,000 میٹرک ٹن پروپیلین اور 1750 میٹرک ٹن سے زائد بٹائل ایکریلیٹ فروخت کیا ہے۔
خردہ ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق اقدامات:
- ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
- مغربی ایشیا محاذ آرائی کے بحران کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومتِ ہند نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔
- ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ( پی ایس یو او ایم سیز ) کے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پیٹرول اور ڈیزل کی عام قیمتیں برقرار ہیں اور ان میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
بحری سلامتی اور جہاز رانی :
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے خلیجِ فارس میں موجودہ سمندری صورتِ حال پر اپ ڈیٹ فراہم کیا اور اس بات کی تفصیل دی کہ اس خطے میں بھارتی بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ، کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔یہ بتایا گیا کہ:
- بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت ، وزارتِ خارجہ، بھارتی سفارتی مشنز اور بحری متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ملاحوں کی فلاح و بہبود اور سمندری آپریشنز کی بلا تعطل روانی یقینی بنائی جا سکے۔
- خطے میں تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں کسی بھی بھارتی پرچم بردار جہاز سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
- نہ ہی بھارتی جہازوں یا ایسے غیر ملکی جہازوں ، جن پر بھارتی ملاح موجود ہوں، سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔
- ڈی جی شپنگ کنٹرول روم نے اب تک 8,570 کالز اور 18,732 سے زائد ای میلز موصول اور ہینڈل کی ہیں۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 156 کالز اور 668 ای میلز موصول ہوئیں۔
- وزارت نے ڈی جی شپنگ کے ذریعے اب تک 2,999 سے زائد بھارتی ملاحوں کی محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں 23 ملاح مختلف خلیجی مقامات سے واپس لائے گئے۔
- بندرگاہی آپریشنز: پورے بھارت میں بندرگاہ سے متعلق سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی قسم کی بھیڑ بھاڑ یا رکاوٹ رپورٹ نہیں ہوئی۔
خطے میں بھارتی شہریوں کی سلامتی:
وزارتِ خارجہ ، خلیج اور مغربی ایشیا کے خطے میں صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس خطے میں موجود بھارتی برادری کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ یہ بتایا گیا کہ:
- وزارتِ خارجہ ، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں ہے تاکہ معلومات کے تبادلے اور اقدامات میں بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
- وزارت میں قائم خصوصی کنٹرول روم فعال ہے، جو بھارتی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے آنے والے سوالات اور شکایات کا فوری جواب دے رہا ہے۔
- بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانے 24 گھنٹے ہیلپ لائنز کے ذریعے مسلسل خدمات فراہم کر رہے ہیں اور شہریوں کی مدد کے لیے فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ مشنز مقامی حکومتوں کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہیں۔
- تازہ ترین ایڈوائزریز جاری کی جا رہی ہیں ، جن میں مقامی حکومتی ہدایات، پروازوں اور سفر سے متعلق صورتِ حال، قونصلر خدمات اور کمیونٹی کے لیے کیے جانے والے فلاحی اقدامات سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
- بھارتی مشنز بیرونِ ملک آباد بھارتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ وہ کمیونٹی ایسوسی ایشنز، تنظیموں، پیشہ ور گروپوں اور بھارتی کمپنیوں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں اور گفتگو کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
- حکومت ، خطے میں بھارتی ملاحوں کی فلاح و بہبود کو اعلیٰ ترجیح دے رہی ہے۔ بھارتی مشنز انہیں ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں، جس میں مقامی حکام اور اداروں کے ساتھ رابطہ ، قونصلر مدد کی فراہمی اور بھارت واپسی کی درخواستوں میں معاونت شامل ہے۔
- مجموعی طور پر پروازوں کی صورتِ حال میں بہتری آ رہی ہے اور خطے سے بھارت کے مختلف شہروں کے لیے اضافی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔
- متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) کی فضائی حدود کھلی ہیں۔ بھارتی اور اماراتی فضائی کمپنیاں ، یو اےای سے بھارت کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں۔
- سعودی عرب اور عمان کے مختلف ہوائی اڈوں سے بھارت کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
- قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلی ہیں۔ ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس، انڈیگو اور قطر ایئرویز ، قطر سے بھارت کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہے ہیں۔
- کویت کی فضائی حدود کھلی ہے۔ جزیرہ ایئرویز اور کویت ایئرویز ، کویت سے بھارت کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں۔
- بحرین کی فضائی حدود کھلی ہے۔ ایئر انڈیا ایکسپریس، انڈیگو اور گلف ایئر ، بحرین سے بھارت کے مختلف شہروں کے لیے پروازیں چلا رہے ہیں۔
- عراق کی فضائی حدود کھلی ہے، تاہم محدود پروازیں خطے کے اندر چل رہی ہیں، جنہیں آگے بھارت جانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- ایران کی فضائی حدود جزوی طور پر کارگو اور چارٹر پروازوں کے لیے کھلی ہے۔ وزارت نے بھارتی شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور وہاں موجود شہریوں کو زمینی راستوں سے بھارت واپسی کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں بھارتی سفارت خانہ مدد فراہم کر رہا ہے۔ اب تک تہران میں موجود بھارتی سفارت خانے نے 2,520 بھارتی شہریوں کو زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے ایران سے باہر نکالنے میں مدد دی ہے۔
- اسرائیل کی فضائی حدود کھلی ہے اور محدود پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں، جنہیں آگے بھارت سفر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
***
ش ح۔ش ب۔ا ع خ۔ا ک۔اش ق۔ع ا۔م ذ
U- 6718
(ریلیز آئی ڈی: 2258492)
وزیٹر کاؤنٹر : 6