پنچایتی راج کی وزارت
نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ میں معیاری گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے اور ڈیجیٹل منصوبہ بندی کے آلات پر توجہ مرکوز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 MAY 2026 5:56PM by PIB Delhi
پنچایتی راج کی وزارت کی جانب سے پنچایت ترقیاتی منصوبوں کی تیاری پر دو روزہ قومی ورکشاپ کا آج نئی دہلی میں افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس میں عوامی منصوبہ مہم (پی پی سی) کے تحت پنچایت ترقیاتی منصوبہ(27-2026) کی تیاری سے متعلق کتابچہ، گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے(جی پی ڈی پی) کے معیار کو بہتر بنانے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ اور نئے انداز میں تیار کیے گئے ای گرام سوراج منصوبہ بندی پورٹل کا بھی جاری کیاگیا ہے۔ اس ورکشاپ کا مقصد شراکتی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا اور پنچایت ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو بہتر بنانا ہے، تاکہ انہیں زیادہ مؤثر، جامع اور نتائج پر مبنی بنایا جا سکے۔ اس ورکشاپ میں مرکزی وزارتوں کے سینئر افسران، پنچایتی راج محکموں اورایس آئی آر ڈی اینڈ پی آر ایز کے نمائندگان، پنچایت عہدیداران اور ملک بھر سے دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔
کلیدی خطاب کرتے ہوئے پنچایتی راج کی وزارت کےسکریٹری جناب وویک بھارتیہ نے اس بات پر زور دیا کہ گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے کی تیاری کو محض ایک رسمی تقاضا سمجھنے کے بجائے ایسے معیاری نتائج پر مرکوز ہونا چاہیے جو نچلی سطح پر حقیقی تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ جی پی ڈی پی کے ذریعے اثاثوں کی تخلیق کی مناسب منصوبہ بندی وسائل کے ضیاع کو روکنے میں مدد دے گی۔ جناب بھارتیہ نے مزید زور دیا کہ پائیداری، واضح ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے پنچایت کی قیادت میں منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نچلی سطح پر طویل مدتی خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ گرام سبھاؤں میں شہریوں کی زیادہ شرکت فیصلہ سازی کو مزید جامع بنائے گی۔
وزارت جل شکتی کے محکمہ برائے پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی(ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ جل جیون مشن اور سوچھ بھارت مشن (گرامین) نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تشکیل ممکن بنائی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ کو ان اثاثوں کے مسلسل آپریشن، دیکھ بھال اور مؤثر استعمال کی طرف منتقل کرنا چاہیے اور اس میں گرام پنچایتوں کا مرکزی کردار ہے ،کیونکہ وہ مقامی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط مقامی منصوبہ بندی بہتر بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور کہا کہ جی پی ڈی پیز کو متحرک اور نتائج پر مبنی بنایا جائے، جس میں وسائل کا استعمال، اثاثوں کی دیکھ بھال اور ڈیجیٹل شفافیت کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی اور احتساب کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔جناب مینا نے گرام پنچایتوں اور گاؤں کی صحت و صفائی کمیٹیوں کے کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آمدنی کے ذرائع کو متحرک کیا جائے اور آپریشن اوردیکھ بھال کو مقامی منصوبہ بندی (جی پی ڈی پی) میں شامل کیا جائے تاکہ دیہی علاقوں میں مؤثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پنجایتی راج کی وزارت میں ایڈیشنل سکریٹری جناب سشیل کمار لوہانی نے اپنے خطاب میں جی پی ڈی پی کی بدلتی ہوئی نوعیت اور موضوعاتی و معیاری منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی دستیابی کے باوجود سرگرمیوں کی تکرار اور مرکزی و ریاستی اسکیموں کے درمیان کمزور ہم آہنگی اکثر غیر مؤثر نتائج کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے 16ویں مالیاتی کمیشن کے تحت دیہی مقامی اداروں کے لیے مختص رقوم میں 84 فیصد اضافے کی طرف توجہ مبذول کرائی اور اس بات پر زور دیا کہ مرکزی گرانٹس معاون ہیں اور ریاستی مالیاتی کمیشن کی رقوم یا مقامی اداروں کی اپنی آمدنی کا متبادل نہیں ہیں۔انہوں نے جی پی ڈی پی کو غیر مرکزی منصوبہ بندی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر بیان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اب توجہ معیار پر ہوگی، جو کہ جی پی ڈی پی کے معیار کو بہتر بنانے والی کمیٹی کے تیار کردہ 15 اشاریوں کی رہنمائی میں ہوگی اور انہوں نے جی پی ڈی پی کی تربیت پر دوبارہ توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پنجایتی راج کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری محترمہ مکتا شیکھرنے 16ویں مالیاتی کمیشن کے گرانٹس فریم ورک کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کے اصلاحاتی نقطہ نظر کو اجاگر کیا جو پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 31-2026کے لیے دیہی مقامی اداروں کو 4.35 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور ان رقوم کو پنچایت ترقیاتی منصوبوں سے منسلک کیا گیا ہے ،تاکہ مقامی ترجیحات کو مدد فراہم کی جاسکے۔انہوں نے ریاستوں کے لیے اہم عملی نکات بھی بیان کیے، جن میں ای گرام سوراج اور آڈٹ آن لائن پر شمولیت، ریاستی مالیاتی کمیشنوں کو مضبوط بنانا، سمرتھ پلیٹ فارم کا انضمام اور اپنی او ایس آر کی رپورٹنگ کو بہتر بنانا شامل ہے، تاکہ شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نچلی سطح کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ورکشاپ کے پہلے دن تکنیکی سیشنز کا انعقاد کیا گیا، جن میں موضوعاتی اور معیاری پی ڈی پیز (پی ڈی پیز) کی تیاری کے لیے اسٹریٹجک طریقوں پر پیشکشیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ 16ویں مالیاتی کمیشن کی غیر مشروط گرانٹس اور ان کی شرائط کو سمجھنے، گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے ((جی پی ڈی پی) کے ساتھ گاؤں کی غربت میں کمی کے منصوبے (وی پی آر پی)کے اپنی مدد آپ گروپس کے ذریعے ہم آہنگی، پیسا(پی ای ایس اے) جی پی ڈی پی کی تیاری، نئے انداز میں اپ ڈیٹ کیے گئےای گرام پنچایت پورٹل اور گرام منچترا پر عملی رہنمائی بھی دی گئی۔
ورکشاپ کے دوسرے دن پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس (پی اے آئی) کو شواہد پر مبنی منصوبہ بندی میں شامل کرنے سے متعلق پریزنٹیشنز ہوں گی، جس کے بعد ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ٹیمیں نئے پورٹل پر جی پی ڈی پی کی تیاری کے تجربات کا تبادلہ کریں گی۔
*********
UR-6628
(ش ح۔ م ع ن ۔ ن ع)
(ریلیز آئی ڈی: 2257897)
وزیٹر کاؤنٹر : 10