PIB Headquarters
زراعت میں سرکلرایکونومی: فضلے سے دولت تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 FEB 2026 10:26AM by PIB Delhi
اہم نکات


فضلے کی بڑھتی ہوئی مقدار ایک نہایت اہم ماحولیاتی چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے نمایاں معاشی اثرات بھی ہیں۔ بھارت میں، جہاں زراعت، خوراک اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، وہیں کاشت، کٹائی اور پراسیسنگ کے مراحل کے دوران بڑی مقدار میں زرعی فضلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ زرعی فضلے کے ناقص انتظام وانصرام نے اسے ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ بنا دیا ہے، جو ہوا، مٹی اور پانی کو متاثر کرتا ہے۔ملک میں ہر سال اندازاً 350 ملین ٹن زرعی فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں فصلوں کی باقیات، بھوسی، تنکا اور غذائی پراسیسنگ سے حاصل ہونے والی ضمنی مصنوعات شامل ہیں۔ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے مطابق، بھارت میں زرعی باقیات سالانہ 18,000 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ توانائی کی پیداوار کے علاوہ، ان باقیات کو غذائیت سے بھرپور نامیاتی کھاد بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسی کھادیں مٹی کی صحت کو بہتر بناتی ہیں اور زراعت میں کیمیائی اجزاء پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ عالمی سطح پر ہر سال انسانوں کے استعمال کے لیے تیار کی جانے والی تقریباً 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جبکہ شہری ٹھوس کچرے کے قابلِ تحلیل حصے کا تقریباً ایک تہائی گھریلو باورچی خانوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب نامیاتی فضلہ، جیسے خوراک کا کچرا، زرعی باقیات اور دیگر قابلِ تحلیل شہری کچرے کا مناسب طریقے سے بندوبست نہیں کیا جاتا تو یہ لینڈفلز میں گل سڑ کر میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتا ہے۔یہ عمل فضائی اور زیرِ زمین پانی کی آلودگی کا سبب بنتا ہے، بدبودار گیسیں پیدا کرتا ہے اور ماحولیاتی نقصانات کو تیز کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ لہٰذا زمین کے استعمال، وسائل کے مؤثر استعمال اور فضلہ کا پائیداربندوبست اوراس کے حل کےطریقہ کار اب نہ صرف ماحولیاتی ترجیحات بلکہ معاشی ضروریات بھی بن چکے ہیں۔
|
ترقی اور پائیداری میں توازن قائم کرنے کے لیے سرکلرایکونومی کی تعمیر
|

“فضلے سے دولت تک” کے نظریہ کو اپنانے کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ فضلے کو معاشی بوجھ اور ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ تصور کیا جائے۔ اس کے لیے معیشت میں مواد کے بہاؤ پر ازسرِنو غور کرنا ضروری ہے، جس میں قدر کی بازیافت، دوبارہ استعمال اور دوبارہ شمولیت پر زور دیا جاتا ہے۔ سرکلرایکونومی مصنوعات اور عمل کے مکمل دورانیہ میں وسائل کے مؤثر استعمال کو بڑھانے کے لیے ایک جامع اور قابلِ توسیع طریقہ کار کے طور پر سامنے آئی ہے۔
اپنی بنیاد میں، گردشی نظام پیداوار اور کھپت کے انداز میں ایک ہمہ گیر تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد خام مال، پانی اور توانائی کے استعمال کو کم سے کم کرنا اور ہر مرحلے پر فضلہ کا خاتمہ کرنے کویقینی بنانا ہے۔ یہ طریقہ کار چھ اصولوں پر مبنی ہے: کم کرنا، دوبارہ استعمال، بازیافت، تجدید، مرمت اور ری سائیکلنگ، تاکہ مواد کو طویل عرصے تک کارآمد استعمال میں رکھا جا سکے۔ اس ماڈل کی ایک نمایاں خصوصیت “حقیقی ری سائیکلنگ” ہے، جس میں فضلے کو اس کی اصل شکل میں بغیر معیار پر سمجھوتہ کیے دوبارہ تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے زیادہ قدر کی بازیافت ممکن ہوتی ہے اور کم معیار کی ری سائیکلنگ سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔
|
سرکلرایکونومی کے اصول ایک قابلِ عمل اور مستقبل بین حل پیش کرتے ہیں، جو بھارت کو معاشی سرگرمیوں اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ سنہ 2050 تک بھارت کی سرکلرایکونومی کی مالیت 2 کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی اور اس کے نتیجے میں ایک کروڑ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشی ترقی کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، اور فطرت کے مؤثر اور ازخود تجدید پذیر ری سائیکلنگ نظاموں سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ ایسے نظام وسائل کے بہترین استعمال اور کم سے کم فضلے کی مثال پیش کرتے ہیں، جو پائیدار ترقی کے لیے ایک مثالی نمونہ فراہم کرتے ہیں۔
|
پیداوار سے لے کر کھپت تک زرعی فضلے کے بارے میں سمجھ بوجھ
زرعی فضلہ کھیت سے لے کر خوراک کی پلیٹ تک کے پورے سفر کے دوران پیدا ہوتا ہے۔ اس میں فصلوں کی باقیات، مویشیوں کا گوبر، پراسیسنگ کے ضمنی اجزاء اور وہ مائع فضلہ شامل ہیں جو فصلوں کی کاشت، مویشیوں کی پرورش، بعد از کاشت کے مراحل اور اناج، پھلوں، سبزیوں، گنے، تیل دار بیجوں اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات کی پراسیسنگ کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔

فصلوں کی باقیات/پرالی: زرعی فضلے کا سلسلہ بعد از کاشت کے مرحلے سے شروع ہوتا ہے، جب فصلیں اپنے پیچھے ڈنٹھل، بھوسہ اور پرالی جیسی باقیات چھوڑ جاتی ہیں۔ اس حیاتی مادّے کا ایک بڑا حصہ مویشیوں کے چارے، کھاد، بایو گیس، ملچ یا ایندھن کے طور پر مفید طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کا ایک نمایاں حصہ اب بھی کھیتوں میں ہی جلا دیا جاتا ہے تاکہ اگلی فصل کے لیے زمین کو جلدی تیار کیا جا سکے۔پرالی جلانے سے مٹی کی غذائیت کم ہو جاتی ہے، زمین کی صحت متاثر ہوتی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔
|
بایوماس کیا ہے؟
بایوماس سے مراد وہ نامیاتی مادہ ہے جو زندہ یا حال ہی میں زندہ رہنے والے پودوں اور جانوروں سے حاصل ہوتا ہے اور جسے توانائی، مواد یا غذائی اجزاء کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
|
مویشیوں کا فضلہ، ضمنی مصنوعات اور لاشیں: مویشی پالنا زرعی فضلے کا ایک اہم ذریعہ ہے، خصوصاً بھارت میں جہاں بڑی تعداد میں جانور پائے جاتے ہیں اور ان سے گوبر اور بچھونے کا کچرا بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ بیماری کے پھیلاؤ کی صورت میں جانوروں کی لاشوں کو محفوظ اور بروقت طریقے سے ٹھکانے لگانا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ متعدی اور انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس لیے لاشوں کے مؤثر انتظام کے لیے بنیادی ڈھانچے، مالی وسائل اور تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کرنا بے حد اہم ہے تاکہ ماحولیاتی طور پر محفوظ اور صحتِ عامہ کے تقاضوں کے مطابق اس کا بندوبست ممکن ہو سکے۔
بعد از کاشت کے نقصانات: بعد از کاشت کے نقصانات سے مراد کسی پیداوار کی مقدار اور معیار دونوں میں قابلِ پیمائش کمی ہے۔ یہ نقصانات بعد از کاشت کے نظام کے کسی بھی مرحلے پر ہو سکتے ہیں۔ غذائی نقصانات مقداری بھی ہو سکتے ہیں، جیسے وزن یا حجم میں کمی، اور معیاری بھی، جیسے غذائیت میں کمی یا ذائقہ، رنگ، ساخت اور شکل میں ناپسندیدہ تبدیلیاں وغیرہ۔ بہتر بعد از کاشت کی سپلائی چین انتظام کے ذریعے فضلے کو کم کیا جا سکتا ہے، حقیقی کھپت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور معیشت بھر میں آمدنی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
خوراک کا ضیاع: خوراک کا ضیاع قدر کے سلسلے کے آخری مراحل میں ہوتا ہے، جیسے منڈیوں، ریٹیل مراکز اور گھروں میں، جہاں قابلِ خوردنی خوراک پھینک دی جاتی ہے۔ اس طرح کا ضیاع گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ تاہم ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے خوراک کے ضیاع کو قدر میں اضافہ کرنے والی مصنوعات میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جیسے انجینئرڈ بایوچار، جو کاربن کو محفوظ کرنے، مٹی کی صحت کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح فضلے کو ایک وسیلہ بنا کر، خوراک کے ضیاع کا انتظام وانصرام زرعی اور غذائی نظام میں سرکلر معیشت کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔
|
بایوچار اور انجینئرڈ بایوچار کیا ہیں؟
بایوچار ایک کاربن سے بھرپور مادہ ہے جو بایوماس (جیسے فصلوں کی باقیات یا لکڑی کے فضلے) کو کم آکسیجن والے ماحول میں گرم کر کے تیار کیا جاتا ہے۔جب اسی بایوچار کو مزید بہتر بنایا جائے تو اسے انجینئرڈ بایوچار کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں اس کی مخصوص خصوصیات کو بڑھانے کے لیے اسے مزید تیار یا بہتر کیا جاتا ہے، جیسے مٹی کی زرخیزی اور پانی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ، اور غذائی اجزاء کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانا۔
|
|
زراعت میں سرکلر معیشت کو فروغ دینے سے متعلق حکومتی اقدامات
|
حکومت زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں سرکلر معیشت کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسیاں نافذ کر رہی ہے، جن کے ذریعے فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ گیلونائزنگ آرگینک بایو-ایگرو ریسورسز دھن (گوبردھن-جی او بی اے آردھن) اور فصلوں کی باقیات کے انتظام وانصرام جیسے اقدامات زرعی، مویشی اور غذائی فضلے کو نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان اسکیموں کے ساتھ ساتھ، زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ(اے آئی ایف) اور مویشی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ(اے ایچ آئی ڈی ایف) زرعی فضلے کو قدر میں تبدیل کرنے کے لیے درکار بنیادی سہولیات کی ترقی میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جل شکتی مشن گھریلو اور صنعتی گندے پانی کے دوبارہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جسے زراعت، باغبانی اور دیگرمقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ تمام اقدامات وسائل کی بازیافت، دوبارہ استعمال اور قدر میں اضافے کو فروغ دے کر زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں میں “فضلے سے دولت تک” کے تصور کو عملی شکل دینے کی جانب گامزن ہیں۔
|
فصلوں کی باقیات اور بایوماس کو وسائل میں تبدیل کرنا
|
گیلونائزنگ آرگینک بایو-ایگرو ریسورسز دھن (گوبردھن): یہ اسکیم مختلف وزارتوں کوایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتی ہے تاکہ مویشیوں کے گوبر، فصلوں کی باقیات اور خوراک کے فضلے کو کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جا سکے۔ سنہ 2023 میں حکومت نے شفافیت اور فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے یونیفائیڈ گوبردھن پورٹل کا آغاز کیا۔ 14 جنوری 2026 تک یہ اسکیم بھارت کے 51.4 فیصد اضلاع تک پھیل چکی ہے اور اس کے تحت 979 بایو گیس پلانٹس فعال ہیں، جو پائیدار فضلہ کے انتظام وانصرام میں نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل نے فصلوں کے لحاظ سے رہنما اصول تیار کیے ہیں تاکہ کسان بایو گیس سلری کے استعمال سے مٹی کی صحت کو بہتر بنا سکیں۔
اس کے علاوہ، حکومت نے قواعد و ضوابط میں نرمی پیدا کی ہے اور اس اسکیم کے اثرات کو بڑھانے کے لیے مخصوص مراعات متعارف کرائی ہیں۔ کمپریسڈ بایو گیس کو کاربن کریڈٹ تجارت میں شامل کرنا، سی بی جی ملاوٹ شدہ ایندھن پر ٹیکس میں رعایت، اور فرٹیلائزر کنٹرول آرڈر کے تحت نامیاتی کھاد کے لیے آسان اصولوں نے بایو گیس کے استعمال کو فروغ دیا ہے، نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے اور قومی سطح پر “فضلے سے دولت تک” کے نظام کو مضبوط بنایا ہے۔
فصلوں کی باقیات کا بندوبست(سی آر ایم): اس اقدام کا مقصد فصلوں کی باقیات کو جلانے کے عمل کو کم کرنا ہے، جس کے لیے اندرونِ کھیت (ان-سیٹو) اور بیرونِ کھیت (ایکس-سیٹو) انتظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان-سیٹو طریقہ کار میں باقیات کو براہِ راست مٹی میں شامل کیا جاتا ہے یا ملچ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ایکس-سیٹو طریقہ کار میں ان باقیات کو جمع کر کے کھاد، بایو گیس یا بایو انرجی کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقے مٹی کی صحت کو بہتر بنانے، زرعی پیداوار بڑھانے اورفضلہ کے مؤثر انتظام وانصرام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت 2018-19 سے 2025-26 تک پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، قومی دارالحکومت دہلی سے ملحقہ علاقے اور بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کو مجموعی طور پر 3,926.16 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس عرصے میں ریاستوں نے فصلوں کی باقیات کے انتظام کے لیے 42,000 سے زائد کسٹم ہائرنگ سینٹرز قائم کیے ہیں، جبکہ 3.24 لاکھ سے زیادہ مشینیں ان مراکز اور انفرادی کسانوں کو فراہم کی گئیں ہیں۔
|
زرعی فضلے کو قدر میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر
|
زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف): یہ فنڈ زرعی قدر کے سلسلوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جن میں نامیاتی زراعت سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ نامیاتی کسانوں، کسان پیداوار تنظیموں(ایف پی او)، پرائمری زرعی کریڈٹ سوسائٹیز(پی اے سی ایس) اور زرعی کاروباری افراد نے اے آئی ایف کی معاونت سے گودام، کولڈ اسٹوریج سہولیات، چھانٹنے اور درجہ بندی کے یونٹس اور ابتدائی پراسیسنگ مراکز قائم کیے ہیں۔
- سنہ 2020-21 میں شروع کیا گیا یہ فنڈ بعد از کاشت بنیادی ڈھانچے اور کھیت کی سطح پر اثاثوں کی ترقی کے لیے درمیانی سے طویل مدتی ادارہ جاتی قرض فراہم کرتا ہے۔
- سنہ 2025 تک، اے آئی ایف نے نامیاتی زرعی اجزاء کی پیداوار سے متعلق 545 پروجیکٹوں کی معاونت کی ہے، جن کے لیے 850 کروڑ روپے کے قرض منظور کیے گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نامیاتی کاشتکاری کو نہ صرف ماحولیاتی طور پر پائیدار بلکہ معاشی طور پر بھی قابلِ عمل تسلیم کیا جا رہا ہے۔
- اس کے علاوہ، زرعی شعبے میں مجموعی طور پر 1,13,419 پروجیکٹوں کے لیے 66,310 کروڑ روپے کے قرض منظور کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 1,07,502 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متحرک ہوئی ہے۔ اے آئی ایف کے تحت معاونت یافتہ بڑے پروجیکٹوں میں درج ذیل شامل ہیں:
- 30,202 کسٹم ہائرنگ سینٹرز،
- 22,827 پراسیسنگ یونٹس،
- 15,982 گودام،
- 3,703 چھانٹنے اور درجہ بندی کے یونٹس،
- 2,454 کولڈ اسٹوریج پروجیکٹ،
- اور تقریباً 38,251 دیگر بعد از کاشت انتظام وانصرام سے متعلق پروجیکٹ۔
اس کے ساتھ ساتھ قابلِ عمل اجتماعی زرعی اثاثوں کی تخلیق بھی کی گئی ہے۔ یہ اقدامات قدر میں اضافے کو بہتر بنانے، بعد از کاشت کے نقصانات کو کم کرنے اور کسانوں کے لیے آمدنی کے مواقع میں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
مویشی پروری کے بنیادی ڈھانچہ سے متلعق ترقیاتی فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف): حکومت نے سنہ 2020 میں آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت 15,000 کروڑ روپے کے سرمائے کے ساتھ اس فنڈ کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد مویشیوں سے متعلق قدر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ فنڈ نجی اور تعاونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، خاص طور پر گوشت اور دودھ کی پراسیسنگ، جانوروں کے چارے کی تیاری اور “فضلے سے دولت تک” کے انتظام کے شعبوں میں، تاکہ مویشی پروری کے شعبے میں قدر میں اضافہ، کارکردگی اور مضبوطی کو بہتر بنایا جا سکے۔ڈیری نظام میں پائیداری اور سرکلر معیشت کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے مخصوص مقاصد کے تحت تین خصوصی کثیر ریاستی کواپریٹیو سوسائٹیز کے قیام کا بھی آغاز کیا ہے:
- مویشیوں کی پیداواریت میں اضافہ کرنے کے لیے چارہ، معدنی آمیزش اور تکنیکی وسائل فراہم کرنا۔
- نامیاتی کھاد کی پیداوار اور پائیدار فضلہ استعمال کو تعاونی ماڈلز کے ذریعے فروغ دینا، جس کے تحت گوبر اور زرعی فضلے کو نامیاتی کھاد اور بایو گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
- مردہ جانوروں کی کھالوں، ہڈیوں اور سینگوں کو سائنسی طورپر بندوبست کرنے کو یقینی بنانا، تاکہ ان کے ذمہ دارانہ بندوبست کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے شعبے میں اضافی قدر کے ذرائع بھی پیدا کیے جا سکیں۔
یہ طریقۂ کار قدرتی کاشتکاری کے اصولوں کی تائید کرتا ہے، فضلے کو کم سے کم کر کے سرکلر معیشت کو فروغ دیتا ہے اور ماحول دوست زرعی اجزاء کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مویشی پروری کے شعبے کی مضبوطی اور طویل مدتی پائیداری میں اضافہ ہوتا ہے۔
|
پائیدار زراعت کے لیے آبی انتظام وانصرام: جل شکتی مشن کے تحت اقدامات
|
جل شکتی کی وزارت گھریلو اور گندے پانی کی صفائی ستھرائی اور اس کے دوبارہ استعمال کو غیر پینے کے مقاصد کے لیے فروغ دیتی ہے، جیسے زراعت، لینڈ اسکیپنگ اور باغبانی۔ اس مقصد کے لیے قومی گنگا صفائی مشن، پی ایم کے ایس وائی – واٹرشیڈ ڈویلپمنٹ اور جل شکتی ابھیان جیسی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔
یہ وزارت آبی تحفظ اور آبی ذرائع کی پائیداری پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے، جس کے لیے واٹرشیڈ کی ترقی، بارش کے پانی کو جمع کرنے، روایتی آبی ذخائر کی بحالی اور زیرِ زمین پانی کی ریچارجنگ جیسے اقدامات کی حمایت کی جاتی ہے۔ یہ کوششیں آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی کو بہتر بناتی ہیں، زیرِ زمین پانی پر دباؤ کم کرتی ہیں اور زراعت و متعلقہ شعبوں میں وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔
گندے پانی کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ، جل جیون مشن – ہر گھر جل (اگست 2019 میں شروع کیا گیا) دیہی علاقوں میں محفوظ اور وافر پینے کے پانی کی عالمی رسائی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ اس مشن کے تحت ہر گھر کو فعال نل کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں فی کس روزانہ 55 لیٹر پینے کے قابل پانی شامل ہے، اس طرح بھارت کے طویل مدتی آبی تحفظ اور پائیدار آبی نظم و نسق کے اہداف کو مزید تقویت ملتی ہے۔
|
پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) سے ہم آہنگ سرکلر زرعی طریقۂ کار
سرکلر زراعت عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہ ہدف 2،کی حمایت کرتی ہے، جس کا مقصد “بھوک کا خاتمہ کرنا، غذائی تحفظ کا حصول، غذائیت میں بہتری اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا” ہے۔
خاص طور پر ایس ڈی جی کے اشاریہ2.4.1 میں ایسے مضبوط زرعی نظاموں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جو مٹی کی صحت کو بہتر بنائیں اور کیمیائی اجزاء پر انحصار کو کم کریں۔ بھارت میں کمپوسٹنگ، بایوچار کا استعمال اور بایوماس کی ری سائیکلنگ جیسے طریقے ان مقاصد کے حصول میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ یہ مٹی کی زرخیزی بڑھاتے ہیں، پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں اور ماحول دوست زرعی نظام کو فروغ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ، سرکلر زراعت عالمی سطح پر خوراک کے ضیاع میں کمی میں بھی معاون ہے، جو سنہ 2022 میں 1.05 ارب ٹن تک پہنچ گیا تھا، جس میں سے 60 فیصد ضیاع گھریلو سطح پر پیدا ہوا۔
|
بھارت کا سرکلر معیشت کی جانب رجحان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماحولیاتی پائیداری اور معاشی ترقی ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کرنے والے عوامل ہیں۔ اگرچہ زرعی اور غذائی فضلے کی بڑی مقدار ایک سنگین چیلنج ہے، تاہم ہدفی پالیسیوں، اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے اس فضلے کو بتدریج توانائی، نامیاتی زرعی اجزاء، آبی وسائل اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔گوبردھن، فصلوں کی باقیات کے انتظام وانصرام کے پروگرام، زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف) اور مویشی پروری بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) جیسے اہم اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ سرکلر زراعت کس طرح مٹی کی زرخیزی، آبی تحفظ اور زرعی نظام کی لچک کو بہتر بنا سکتی ہے۔مؤثر تجربات کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے، مقامی اداروں کو مضبوط بنانے اور معاشی ترغیبات کو ماحولیاتی نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے ذریعے سرکلر زراعت طویل مدتی غذائی تحفظ، موسمیاتی لچک اور جامع دیہی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے اور زرعی فضلے کو پائیدار خوشحالی کی بنیاد میں تبدیل کر سکتی ہے۔
Ministry of Agriculture & Farmers Welfare
Indian Council of Agricultural Research (ICAR)
Ministry of New & Renewable Energy / Energy-linked Platforms
Ministry of Food Processing Industries
Ministry of Housing & Urban Affairs
Ministry of Fisheries, Animal Husbandry & Dairying
Department of Administrative Reforms & Public Grievances (DARPG)
Ministry of Environment, Forest and Climate Change
Ministry of Jal Shakti
• https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1998924
Parliament of India (Sansad)
International & Multilateral Organisations / Research
Click here for pdf file.
PIB Research
******
ش ح۔م م ع۔ م ا
Urdu-No:6500
(ریلیز آئی ڈی: 2257003)
وزیٹر کاؤنٹر : 6