سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سماجی انصاف پر قومی چنتن شیور چندی گڑھ میں اختتام پذیر، انتودیہ پر مبنی وکست بھارت 2047 کے لیے وقت مقررہ روڈ میپ تیار


اسکالرشپ سے لے کر رسائی اور ٹرانس جنڈر افراد کی فلاح تک، اس چنتن شیور میں صرف پالیسی ساز ارادوں کے بجائے عملی حل پر توجہ دی گئی: مرکزی وزیر ڈاکٹر وریندر کمار

ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں نے ”انتودیہ سے آتم نربھرتا“، ”شمولیت–شناخت–انضمام“، معاشی عطائے اختیار، معذور افراد کے لیے رسائی اور سرٹیفکیشن سے متعلق قابل عمل سفارشات کو اپنایا

ڈی این ٹی برادریوں کو مردم شماری 2027 میں شامل کرنے، سیڈ اسکیم کو مضبوط بنانے، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی معاشی بااختیاری، اور ٹرانس جنڈر افراد کے لیے جامع معاونت پر توجہ دی گئی

ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں نے ”جاگرکتا سے سگمیتا تک“ کے لیے ٹھوس اقدامات اور سماجی انصاف و عطائے اختیار کے محکمے کی اسکیموں میں عمل کو آسان بنانے پر اتفاق کیا

اس تین روزہ شیور میں سماجی انصاف کی فراہمی میں فلاحی ارادوں سے آگے بڑھ کر زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج حاصل کرنے کے مشترکہ عزم کو مضبوط کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 APR 2026 5:44PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور عطائے اختیار کی وزارت کا تین روزہ قومی چنتن شیور آج چندی گڑھ میں اختتام پذیر ہوا، جہاں ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں نے ”انتودیہ کا سنکلپ، امرت کال کا پرتیبمب – وکست بھارت@2047“ کے موضوع کے مطابق سماجی انصاف کی اسکیموں کی آخری میل تک مؤثر رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے وقت مقررہ اور قابل عمل سفارشات کے ایک مجموعے پر اتفاق کیا۔ 24 سے 26 اپریل 2026 تک منعقدہ اس شیور میں پہلے دن وژن، وقار اور رسائی پر توجہ دی گئی، جبکہ دوسرے اور تیسرے دن موضوعاتی مباحث کے ذریعے تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اختتامی اجلاس میں ان تمام نتائج کو یکجا کر کے مستقبل پر مبنی ایک جامع روڈ میپ تشکیل دیا گیا۔

سماجی انصاف اور عطائے اختیار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر وریندر کمار نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ اس تین روزہ قومی چنتن شیور نے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک سنجیدہ اور نتائج پر مبنی پلیٹ فارم فراہم کیاہے، جہاں اجتماعی طور پر اس بات پر غور کیا گیا کہ سماجی انصاف کی فراہمی کو کس طرح زیادہ قابل رسائی، جوابدہ اور عمل درآمد پر مبنی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مباحث ”انتودیہ کا سنکلپ، امرت کال کا پرتیبمب – وکست بھارت@2047“ کے وسیع قومی عزم سے جڑے ہوئے ہیں اور اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ سماجی انصاف کو صف میں کھڑے آخری فرد کے لیے وقار، رسائی اور تسلسل کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر وریندر کمار نے مشاہدہ کیا کہ شیور کے دوران ہونے والی گفتگو صرف عمومی پالیسی ارادوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی حل پر مرکوز تھی، جن میں اسکالرشپ کی فراہمی، منشیات سے نجات، بزرگ شہریوں کی فلاح، رسائی، معذور افراد کے لیے سرٹیفکیشن، اور کمزور طبقات کے لیے شمولیتی معاونتی نظام شامل ہیں۔ وزارت کی جاری ڈیجیٹل اور ادارہ جاتی پہلوں، بشمول افتتاحی اجلاس کے دوران متعارف کرائے گئے پلیٹ فارموں اور ایپلیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی، عمل کو آسان بنانے، بہتر نگرانی اور مرکز و ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ مستحق افراد تک فوائد بروقت پہنچ سکیں۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ موضوعاتی اجلاسوں، بریک آؤٹ سیشن اور گروپ پریزنٹیشن سے حاصل ہونے والی سفارشات سماجی انصاف کے شعبے میں زیادہ مؤثر عمل درآمدی ڈھانچہ تشکیل دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ان نتائج کو ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے ساتھ قریبی شراکت داری میں آگے بڑھائے گی، جس میں شمولیت، عطائے اختیار اور غریب، محروم اور کمزور طبقات کے لیے زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج کے حصول پر مسلسل توجہ دی جائے گی۔

تیسرے دن کا آغاز یوگا سیشن سے بھی ہوا، جس کے بعد ”جاگرُکتا سے سُلبھتا – سماجی انصاف اور عطائے اختیار کے محکمے کے تحت آگاہی سے رسائی“ کے موضوع پر ایک موضوعاتی ناشتے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ اسکیم پر مبنی سوچ سے آگے بڑھتے ہوئے حقوق پر مبنی اور ہمہ گیر ڈیزائن کے نقطۂ نظر کو اپنایا جائے، جس میں رسائی کو تمام عوامی بنیادی ڈھانچے، خدمات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا لازمی جزو سمجھا جائے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مسلسل آگاہی، انجینئر اور آرکیٹیکٹ کی صلاحیت سازی، ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال اور مقامی اداروں کے مضبوط کردار کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تعمیر شدہ ماحول، نقل و حمل، آئی سی ٹی اور عوامی خدمات کو معذور افراد سمیت سب کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔

صبح کے بریک آؤٹ سیشن میں پانچ موضوعاتی گروپ نے وکست بھارت 2047 کے فریم ورک کے تحت اپنے دوسرے سیٹ کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی اور پرزنٹیشن پیش کی۔

پہلے گروپ نے ”انتودیہ سے آتم نربھرتا: علاقہ جاتی مداخلتوں کے ذریعے سماجی و معاشی ترقی کو تیز کرنا“ پر توجہ مرکوز کی، جس میں پی ایم-اجے کے تحت ہم آہنگی، دیہی ترقیاتی منصوبے، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے لیے ہنر مندی اور روزگار کے مواقع اور گاؤں، ضلع اور ریاستی سطح پر نتائج پر مبنی نگرانی کی ضرورت جیسے امور زیر بحث آئے۔

دوسرے گروپ نے ”شمولیت، شناخت اور انضمام“ پر غور کیا، جس میں ڈی-نوٹیفائیڈ، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل کی معاشی بااختیاری کے لیے سیڈ اسکیم پر خصوصی توجہ دی گئی، اور تاریخی طور پر محروم طبقات کے لیے درست مردم شماری، سرٹیفکیشن اور حساس انتظامی رسائی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

تیسرے گروپ نے ”معاشی بااختیاری: قرض تک رسائی کو جمہوری بنانا اور مالیاتی خودمختاری“ پر تبادلۂ خیال کیا، جس میں درج فہرست ذاتوں، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور دیگر محروم طبقات کے لیے قرض تک رسائی، ہنر مندی، کاروباری معاونت اور مالی شمولیت کو بہتر بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں موجودہ مالیاتی اور روزگار اسکیموں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی بھی شامل ہے۔

چوتھے گروپ نے ”سُگمیتا سے شمولیت: رسائی“ کے موضوع پر غور کیا، جس میں ایکسیسبلٹی بریک آؤٹ پریزنٹیشن کی بنیاد پر غیر قابلِ سمجھوتہ رسائی کے معیارات، ریاستی سطح کی اسکیموں کو مرکزی رکاوٹ سے پاک اقدامات کے مطابق بنانے، مختص فنڈ، منظور شدہ ایکسیسبلٹی آڈیٹر اور 2027–28 تک منظم صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

پانچویں گروپ نے ”پہچان سے سمان: معذور افراد کے لیے سرٹیفکیشن“ پر توجہ مرکوز کی، جس میں بروقت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ معذوری سرٹیفکیشن، فوائد تک آسان رسائی، اور مختلف محکموں کے درمیان ڈیٹا کے بہتر انضمام کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

تمام گروپ میں شرکاء نے ڈی این ٹی برادریوں کو مردم شماری 2027 میں شامل کرنے، سیڈ اسکیم کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے، پی ایم-اجے اور دیگر ایس سی/ او بی سی پروگراموں کے تحت روزگار اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنانے، اور اسمائل-ٹی جی ذیلی اسکیم کے تحت ٹرانس جینڈر افراد کی جامع بحالی جیسے اہم امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ڈی این ٹی زمین کے حقوق، اسکالرشپ کی فراہمی، ٹرانس جینڈر افراد کی فلاح (بشمول گریما گریہس، تحفظ سیل اور ویلفیئر بورڈ)، بزرگ شہریوں کے لیے کمیونٹی پر مبنی معاونت، اور رسائی میں جدت طرازی سے متعلق بہترین عملی مثالیں اور کامیابی کی کہانیاں پیش کیں، تاکہ ان کو وسعت دے کر دیگر مقامات پر بھی نافذ کیا جا سکے۔

”سماجی انصاف اور عطائے اختیار کے محکمے کی اسکیموں میں عمل کو آسان بنانے (پرکریا سرلی کرن)“ کے موضوع پر ایک موضوعاتی ظہرانہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں طریقہ کار کو سہل بنانے، دستاویزات کو معقول بنانے، شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط کرنے اور فنڈز کی ترسیل و استعمال کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات طے کیے گئے۔ مباحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عمل کی سادگی، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں اور واضح ٹائم لائن اس امر کے لیے ضروری ہیں کہ اسکالرشپ، پنشن، بحالی معاونت، رسائی گرانٹ اور دیگر فوائد بغیر تاخیر یا طریقہ کار کی رکاوٹوں کے مستحقین تک پہنچ سکیں۔

قومی چنتن شیور اس مشترکہ فہم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ وزارت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ قریبی شراکت داری میں، ان مباحث کے نتائج کو ایک منظم انداز میں نظر ثانی شدہ رہنما خطوط، مضبوط نگرانی، وسیع تر رسائی اور مسلسل صلاحیت سازی کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔ اس تین روزہ مشق نے اس اجتماعی عزم کو مزید مستحکم کیا کہ سماجی انصاف محض ارادوں تک محدود نہ رہے بلکہ غریب ترین اور کمزور ترین طبقات کی زندگیوں میں قابل پیمائش بہتری میں تبدیل ہو اور اس طرح 2047 تک ایک جامع، بااختیار اور منصفانہ وکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہو۔

قومی چنتن شیور کے افتتاحی اجلاس (24 اپریل 2026) اور دوسرے دن (25 اپریل 2026) سے متعلق جاری کردہ پریس ریلیز کے لنک یہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

 

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255407&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255543&reg=3&lang=1

 

 

 

 

 

 

 

 

 

********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 6319


(ریلیز آئی ڈی: 2255763) وزیٹر کاؤنٹر : 6